Thursday , July 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اے پی اور تلنگانہ کے لیے پانی کے حصہ میں کوئی تبدیلی نہیں

اے پی اور تلنگانہ کے لیے پانی کے حصہ میں کوئی تبدیلی نہیں

کرشنا واٹر بورڈ تنازعہ پر سنٹرل ایکسپرٹ کمیٹی کے صدر اے کے بجاج کا بیان
حیدرآباد ۔ 13 ۔ فروری : ( این ایس ایس ) : کرشنا واٹر بورڈ تنازعہ پر سنٹرل ایکسپرٹ کمیٹی کے صدر اے کے بجاج نے آج کہا کہ حکومت تلنگانہ کے اس بیان میں سچائی نہیں ہے کہ آندھرا پردیش کی حمایت کرنے کے لیے ریاست تلنگانہ کو الاٹ کیے گئے پانی کے تناسب میں تبدیلی کی گئی ہے ۔ یہ کمیٹی توقع ہے کہ منگل کو وجئے واڑہ میں اے پی کے محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کے ساتھ مذاکرات کرتے ہوئے کوئی دوستانہ حل تلاش کرے گی ۔ تلنگانہ کے محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرنے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مسٹر بجاج نے کہا کہ کرشنا بورڈ کا فیصلہ وہی رہے گا اور اس میں تبدیلی اسی وقت ہوسکتی ہے جب اس کے بعد کے ٹریبونل میں اس سلسلہ میں کوئی فیصلہ ہو ۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بیجا نہ ہوگا کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس سلسلہ میں مرکز سے مداخلت کی خواہش پر یہ کمیٹی تلنگانہ پہنچی ہے ۔ بجاج کمیٹی ان دو ریاستوں میں پانی کے الاٹمنٹ اور تقسیم کے تنازعہ کی یکسوئی کے لیے ہے ۔ مسٹر بجاج نے حکومت تلنگانہ کے ان شکوک و شبہات کا ازالہ کیاکہ دو تلگو ریاستوں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کو الاٹ کردہ 512 TMC اور 299 TMC پانی کے تناسب میں تبدیلی کی کوشش کی گئی ۔ جلاسدھا پر منعقدہ اجلاس میں مشیر آبپاشی آر ودیا ساگر راؤ ، پرنسپال سکریٹری ایس کے جوشی ، انجینئر انچیف مرلیدھر موجود تھے ۔ مسٹر بجاج نے کہا کہ اس طرح کی تبدیلیوں کا کوئی امکان نہیں ہے کیوں کہ کمیٹی کا فیصلہ قطعی ہے اور اس میں تبدیلی صرف نئے ٹریبونل کے فیصلہ کے بعد ہی ہوسکتی ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT