Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / اے پی تلنگانہ عدالتی عہدیداروں کی تقسیم میں وطنیت نظر انداز

اے پی تلنگانہ عدالتی عہدیداروں کی تقسیم میں وطنیت نظر انداز

نئی فہرست جاری کرنے تلنگانہ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن کا مطالبہ
حیدرآباد ۔ 18 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن نے ایڈوکیٹس جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ہمراہ آج آندھرا پردیش اور تلنگانہ کے عدالتی عہدیداروں کی فہرست کو از سر نو مرتب کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ عدالتی عہدیداروں کے تقسیم کی مرتب کردہ فہرست وطنیت پر مبنی نہیں بلکہ خدمات کے آغاز پر منتخب کردہ مقام پر مبنی ہے ۔ یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر تلنگانہ ہائی کورٹ ایڈوکیٹس اسوسی ایشن جی موہن راؤ نے دیگر قائدین کے ہمراہ اس بات سے واقف کرواتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں مخلوعہ عدالتی جائیدادوں کو فی الفور پر کرنے کا مطالبہ بھی کیا ۔ ان قائدین نے بتایا کہ موجودہ فہرست کے سبب آندھرا پردیش سے تعلق رکھنے والے 130 عدالتی عہدیداروں کو تلنگانہ میں تعینات کیا گیا ہے ۔ جب کہ آندھرا میں یہ جائیدادیں مخلوعہ ہوچکی ہیں ۔ ان قائدین نے کہا کہ آندھرا سے تعلق رکھنے والے تمام عہدیداروں کو آندھرا روانہ کرنے کے بعد ماباقی عہدیداروں کو تلنگانہ میں تعینات کیا جاسکتا ہے ۔ ان قائدین نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے عہدیداروں کی تقسیم کے معاملہ میں وطنیت کو پوری طرح سے نظر انداز کردیا گیا ہے ۔ صدر اسوسی ایشن موہن راؤ نے بتایا کہ تلنگانہ میں 94 جائیدادوں کے مقابل 95 افراد اور اے پی میں 152 جائیدادوں کے مقابل صرف 110 افراد کو مختص کیا گیا جب کہ اے پی 42 جائیدادوں مخلوعہ ہیں ۔ ان قائدین نے از سر نو فہرست کی عدم اجرائی کی صورت میں احتجاج اور چیف جسٹس آف انڈیا ، مرکزی وزیر قانون سے نمائندگی کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ۔ ونود کمار ایم پی نے اس موقع پر کہا کہ ہائی کورٹ اس طرح کے فیصلے کرتے ہوئے دونوں ریاستوں کے عوام کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT