Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اے پی کو خصوصی موقف ’ ہر مرض کی دوا نہیں ‘ : وینکیا نائیڈو

اے پی کو خصوصی موقف ’ ہر مرض کی دوا نہیں ‘ : وینکیا نائیڈو

ریاست کی جامع ترقی صرف مرکز کی امداد سے ممکن ۔ مرکزی وزیر کی پریس کانفرنس
وجئے واڑہ 7 اگسٹ ( پی ٹی آئی ) مرکزی وزیر شہری ترقیات ایم وینکیا نائیڈو نے آج کہا کہ ملک کی نو دوسری ریاستوں نے بھی مرکز سے خصوصی زمرہ کے موقف کا مطالبہ کیا ہے اور انہوں نے اس سلسلہ میں آندھرا پردیش کے مطالبہ کی تائید کی ہے ۔ مسٹر نائیڈو نے یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ میں آندھرا پردیش کیلئے خصوصی موقف کے مطالبہ پر مباحث کے دوران نو دوسری ریاستوں نے بھی اس کی تائید کی ہے لیکن وہ ریاستیں چاہتی ہیں کہ انہیں بھی خصوصی موقف دیا جائے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا مطالبہ بھی واجبی ہے ۔ ان ریاستوں میں سے کچھ کے چیف منسٹروں نے مرکز کو مکتوب بھی روانہ کئے ہیں۔ نائیڈو وجئے واڑہ کے قریب سورنا بھارت ٹرسٹ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے ۔ وزیر موصوف نے کہا کہ خصوصی زمرہ کا موقف دینا ہر مرض کی دوا یا تمام مسائل کا حل نہیں ہے ۔ انہوں نے تاہم ان دوسری نو ریاستوں کے نام نہیں بتائے جنہوں نے خصوصی زمرہ کے موقف کا مطالبہ کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی موقف دئے جانے کے یقینی طور پر کچھ فوائد ہیں لیکن خصوصی موقف سنجیونی یا پھر تمام امراض کی دوا نہیں ہے ۔ آندھرا پردیش کو خصوصی موقف دئے جانے کے مسئلہ پر مرکزی وزیر نے کہا کہ 14  ویں فینانس کمیشن کی سفارشات کی وجہ سے الجھن کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ وزیر اعظم نے چیف منسٹر آندھرا پردیش کو اس بات سے واقف کروایا ہے لیکن چیف منسٹر چاہتے ہیں کہ خصوصی موقف کے مسئلہ پر جلد از جلد مباحث ہوں۔ انہوں نے کہا کہ فینانس کمیشن نے آندھرا پردیش کو ہونے والے مالیہ نقصان کو پورا کرنے کیلئے کچھ تجاویز پیش کی ہیں اور مرکزی حکومت اس کا جائزہ لے رہی ہے ۔ بہت جلد اس پر کوئی فیصلہ کیا جائیگا ۔ آندھرا پردیش کا تقسیم ریاست کے بعد سے مسلسل اصرار ہے کہ اسے خصوصی ریاست کا موقف دیا جائے ۔ مرکزی وزیر نے واضح کیا کہ آندھرا پردیش کی جامع ترقی صرف مرکز کی امداد سے ہی ممکن ہے ۔

TOPPOPULARRECENT