Monday , August 21 2017
Home / جرائم و حادثات / اے پی کے وزیر کا فرزند اور ڈرائیور 14 دن عدالتی تحویل میں

اے پی کے وزیر کا فرزند اور ڈرائیور 14 دن عدالتی تحویل میں

پولیس اسٹیشن میں خود سپردگی کے بعد کارروائی ۔ تحویل میں لینے بنجارہ ہلز پولیس کی کوشش
حیدرآباد 6 مارچ (سیاست نیوز) علاقہ بنجارہ ہلز میں مسلم خاتون ٹیچر سے دن دہاڑے بدسلوکی و دست درازی کے ملزم آندھر اپردیش کے وزیر کے فرزند راویلا سشیل اور اُس کے ڈرائیور منی کونڈہ رمیش کو بنجارہ ہلز پولیس نے نربھئے ایکٹ کے تحت گرفتار کرکے آج جیل بھیج دیا۔ تاہم مجسٹریٹ کی رہائش گاہ پر ملزمین کو پیش کرتے ہوئے اُنھیں پولیس تحویل میں دینے کی درخواست داخل کی ہے جس کی سماعت 8 مارچ کو مقرر کی گئی ہے۔ سشیل اور اُسکے ڈرائیور رمیش نے برقعہ پوش خاتون مسلم ٹیچر سے اپنی چلتی ہوئی کار سے جس کا نمبر AP7CK 1777 ہے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے دست درازی کی کوشش کی اور اس کا تعاقب کیا تھا جس سے خوفزدہ ہوکر یہ خاتون مدد کیلئے چیخ و پکار کرنے لگی ۔ خاتون سے کھلے عام چھیڑ چھاڑ میں ملوث ہوتا ہوا دیکھ کر مقامی عوام نے وزیر کے فرزند کی گاڑی کو روک کر ڈرائیور رمیش کو زدوکوب کیا تھا ۔ بنجارہ ہلز پولیس کی پٹرولنگ پارٹی کو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ روڈ نمبر 13 بنجارہ ہلز پر ایک ہجوم جمع ہے جو ایک کار جس پر ایم ایل اے کا اسٹیکر چسپاں ہوا ہے کو گھیر لیا ۔ پولیس نے وہاں پہونچ کر رمیش کو دواخانہ منتقل کیا ۔ اسی دوران خوفزدہ خاتون ٹیچر نے بنجارہ ہلز پولیس سے اس سلسلہ میں شکایت درج کروائی تھی لیکن پولیس نے آندھراپردیش کے وزیر برائے سماجی بھلائی کے فرزند کے خلاف غیر ضمانتی دفعات کے تحت مقدمہ درج نہ کرکے محض معمولی سا ایک مقدمہ 509 آئی پی سی کے تحت درج کرتے ہوئے کیس کو مبینہ طور پر رفع دفع کرنے کی کوشش کی کیونکہ وزیر کے فرزند کے کار ڈرائیور نے خود کی شناخت اپا راؤ کی حیثیت سے ظاہر کی تھی ۔ اس واقعہ کے بعد پولیس کا وزیر کے فرزند کیلئے نرم رویہ کے باعث آندھراپردیش اور تلنگانہ کے علاوہ دیگر علاقوں سے اس گھناؤنی حرکت پر احتجاجی مظاہرے کئے گئے جس کے بعد حیدرآباد پولیس دباؤ میں آکر کیس کے دفعات میں ترمیم کرکے اسے نربھئے ایکٹ میں تبدیل کیا اور 354 (دست درازی) ، 354(D) (خاتون کا تعاقب کرنا) اور509  (ناشائستہ اشارے کرنا) کیا ہے ۔ واضح رہے کہ کل رات بنجارہ ہلز پولیس نے سشیل اور اُس کے کار ڈرائیور رمیش کو سی آر پی سی کی دفعہ 41A کے تحت نوٹس جاری کرکے تحقیقات میں پولیس اسٹیشن طلب کیا جس کے بعد وزیر کے فرزند نے پولیس اسٹیشن پہونچ کر خودسپردگی اختیار کی۔ پولیس نے سشیل اور رمیش کو گرفتار کرکے دواخانہ میں معائنہ کے بعد مجسٹریٹ کے مکان پر پیش کیا گیا جہاں پر انہیں 14 دن کیلئے عدالتی تحویل میں دیدیا گیا ہے ۔ ڈی سی پی ویسٹ زون اے وینکٹیشور راؤ نے بتایا کہ کیس کی تحقیقات جاری ہے اور شواہد اکٹھا کرنے ملزمین کو پولیس تحویل میں لینے عدالت میں درخواست داخل کی گئی ہے جس کی /8 مارچ کو سماعت ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات میں پولیس کو بعض شواہد بشمول سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ ملی ہے جس میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمین نے خاتون کا تعاقب کرکے چھیڑ چھاڑ کی اور دست درازی کی کوشش کی تھی ، تاہم سشیل نے اس گھناؤنی حرکت کے بعد پولیس کو گمراہ کرنے اپنے فیس بُک اکاؤنٹ کے ذریعہ یہ بات پھیلائی کہ وہ خاتون کا تعاقب نہیں کیا بلکہ اس کی گاڑی کے سامنے ایک کتا آجانے کے سبب اس نے گاڑی کی رفتار دھیمی کردی تھی۔

TOPPOPULARRECENT