Thursday , August 17 2017
Home / مذہبی صفحہ / اے چراغ فق وفن ہر سو تجلی ہے تری

اے چراغ فق وفن ہر سو تجلی ہے تری

سید محبوب قادری استاد لسانیات جامعہ نظامیہ

جامعہ نظامیہ کے فیض یافتگان میں بہت سارے ایسے نام آتے میں جنہوں نے وہ کار نامے انجام دیئے کہ دنیا سے اپنا خاکی رشتہ توڑنے کے بعد بھی بڑے ہی ادب و احترام سے یاد کئے جا تے ہیں ، ان ہی محتشم نفوس میں مفتی ابراھیم خلیل الہاشمی بھی ایک ہیں ۔جو اپنے نام و کام سے آج بھی بقید حیات متصور ہو تے ہیں ۔مفتی ابن مفتی ابراھیم خلیل الہاشمی ۱۰ رمضان المبارک ۱۳۶۰ ؁ہجری مطابق ۳  اکٹوبر ۱۹۴۵؁ء کو حضرت مفتی مخدوم بیگ الہاشمی کے گھر آنکھ کھولی ،چونکہ علمی گھرانے میں آنکھ کھولی تھی اس لئے ابتدائی تعلیم بھی اپنے والد ماجد کے زیرنگرانی حاصل کی ، ابھی ابراہیم خلیل الہاشمی کم سن ہی تھے کہ والد ماجد کا سایہ سر سے اٹھ گیا ۔ والد گرامی کے سایہ پدری سے محروم ہو نے کے بعد ان کی پرورش کی ذمہ داری ان کے دوست مولانا ابوالافاالافغانی ؒ نے بفس نفیس خود لے لی اور اپنا آغوشی بنالیا ۔ان کی ایسی ہی تربیت کی جس طرح سے مخدوم بیگ صاحب کو کرتے دیکھا تھا ۔
مفتی صاحب نے حضرت العلامہ مولانا محمد ولی اللہ قادری صاحب قبلہ کے زیر شاگردی سورہ بقرہ حفظ کیا ۔ بعد ازاں بقیہ قرآن مجید مولانا حافظ عبد اللہ بن سند کی نگرانی میںتکمیل کی ۔جس کے بعد فن قرآت کی تعلیم میں سبع عشرہ حضرت العلامہ مولانا عبدالرحمان الحمومی شیخ التجوید جامعہ نظامیہ سے حاصل کی ۔نحو ،صرف کی ابتدائی تعلیم کے بعد ۱۹۵۹ ؁ء کو ازہر ہند جامعہ نظامیہ کے جماعت مولوی اول میں داخلہ دلوایا گیا ،آٹھ سالہ طویل تعلیمی سفر میں صرف دیڑھ یوم کی غیر حاضری ہو ئی ہو جس سے پتا چلتا ہے کہ جس قدر تعلیم کا شوق تھا اسی طرح اپنی ذمہ داری کا  احساس بھی تھا ۔اکٹوبر ۱۹۶۷ء کو کامل الحدیث درجہ اول سے کامیابی حاصل کرتے ہوے اپنے اس تعلیمی سفر کا اختتام کیا ۔آپ کے استاذو شیوخین میں مولانا مفتی عبدالحمید صاحب شیخ الجامعہ ، مولاناسعید صاحب ، مولانا حا جی منیر الدین صاحب ، مولانا غلام احمد شیخ المعقلات (والدگرامی مفتی خلیل احمدـ صاحب ) اور مولانا سید طاہر رـضوی صدرالشیوخ جامعہ نظامیہ رحمھم اللہ تھے ۔
مفتی ابراہیم خلیل الہاشمی ابھی جامعہ نظامیہ کے جماعت کامل اول میں ہی زیر تعلیم تھے کہ انکی تعلیمی لیاقت اور تدریسی صلاحیتوں کی بناء ۱۹۶۶ ؁ء حـضرت عبدالحمید صاحب شیخ الجامعہ نے ان کو بحیثیت مدرس تقرر کیا ، بحیثیت استاد انھوں نے اپنے فریضہ معلمی ،اپنی خداداد صلاحیتوں ، محنت شاقہ اور شفقت کے ساتھ بحسن و خوبی سر انجام دے رہے تھے کہ چند سال ہی گـزرے تھے کہ مولانا محمد عثمان صاحب شیخ التفسیر کے اچانک داعی اجل کو لبیک کہنے کی وجہ سے مجلس انتظامی جامعہ نظامیہ نے انکی تدریسی مہارت اور مطالعہ کی وسعت کو مد نظر رکھتے ہوئے ۱۹۸۰؁ء کو شیخ التفسیر کے عہدہ جلیلہ پر ترقی دی ۔انہوں نے اس عہدہ پر بارہ سال ۱۹۹۲؁ء تک تفسیری خدمات انجام دے ۔ ۱۹۹۲؁ء کو مجلس انتظامی نے شیخ الفقہ کا منصب دیا اس عہدہ پربھی دس سال ۲۰۰۱؁ء تک طلبہ کو فقہ اسلامی کی دقیقہ سنجیوں سے آراستہ کر تے ہے ، اسی دوران مجلس انتظامی نے دارالافتا ء جامعہ نظامیہ کے صدر مفتی کا اعلان بھی کیا۔تقریبا دس سال انہوںنے دونوں عہدوں کی شان بنے رہے پھر ۲۰۰۱؁ ء میں دارالافتاء جامعہ نظامیہ کی ذمہ داری سے الگ کر کر صرف تدریسی ذمہ داری دی اس دوران انہوں نے ۵۷۵۰ فتوی جا ری کئے جو کہ اپنی مثال آپ ہیںتادم آخیر شیخ الفقہ ہی رہے۔ جامعہ میں جتنے علوم پڑھائے جا تے ہیں سب پر یکساں عبور حاصل تھا۔ ۱۹۹۲؁ء میں انہیں مجلس انتظامی نے دارالافتاء کے گیارھویں مفتی کی حیثیت سے تقرر کیا ۔اس شعبہ میں بھی انہوں نے اپنی ایک شناخت قائم کی ،ان کا طریقہ کا ر کچھ اس طرح ہوتا تھا کہ وہ پہلے مستفی کا سوال بغور سنتے اور اس کے منشائے اظہار سے واقفیت بعد اس کا معقول جواب مرحمت کرتے ۔مستفتی کی خواہش اگر تحریری جواب ہو تو افتاء اس انداز سے تحریر کر تے کہ مختصراًاور مدلل و  مکمل ہو ۔
استاد فقہ کو تدریسی جوہر خدائے بزرگ و بر تر کی جانب سے ایک نعمت مترقبہ تھی جب وہ درس کا آغا ز کر تے تو درس میں آنے والے مضمون کو ایک مرتبہ اس پر روشنی ڈالتے پھر متن کی بلند آواز سے قرات کر تے اور اس کا سلیس ترجمہ بڑی مہارت سے طلبہ پر آشکار کر تے ۔ استاد فقہ میں واعظ کا جوہر بھی اسی طرح تھا جس طرح تدریسی ۔ اس کے باوجود وہ واعظ کر نا پسند نہ کر تے تھے ۔طلباء اور محبین کے اصرار پر جب کھبی واعظ کر تے تو اس قدر پر اثر ہو تا کہ ان کا سامع متاثر ہو بغیر نہ رہتا۔استاد فقہ کو قرآن مجید سے غیر معمولی لگائو تھا وہ ہر روز تہجد کے وقت قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے ۔اور ان کی امامت کی یہ خصوصیت تھی کہ وہ جہری نمازوں میں قرآن ترتیب سے پڑھتے اس طرح سال کے گزرنے تک کئی قرآن مجید کا ختم ہو جا تا ۔
آخیر کار علم و عمل کا اخلاص و محبت کا یہ مجسم ۲۳ جمادی الثانی ۱۴۳۱؁ ہجری مطابق ۷ جون ۲۰۱۰ ؁ء بروز پیر مختصر علالت کی بناء اس دارفانی سے کوچ کرگئے … اناللہ و انا الیہ راجعون
ان کی نماز جنازہ مادرعلمی جامعہ نظامیہ میںشیوخین ،اساتذہ ، طلباء اور محبین کی کثیر تعداد کی موجودگی میں صبح ۸ بجے پیر طریقت حضرت رحمت اللہ شاہ نقشبندی قادری فرزند ذی وقار حـضرت محدث اعظم ہند نے پڑھائی اور تدفین نقشبندی چمن واقع مصری گنج میں عمل میں آئی ۔

TOPPOPULARRECENT