Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / !’’اے کے خان نے محمد پہلوان کیخلاف مقدمہ تیار کروایا تھا‘‘

!’’اے کے خان نے محمد پہلوان کیخلاف مقدمہ تیار کروایا تھا‘‘

 

چندرائن گٹہ حملہ کیس، عدالت میں وکیل دفاع گرو مورتی کی بحث
حیدرآباد ۔ 20 جون (سیاست نیوز) چندرائن گٹہ حملہ کیس کی روزانہ کی اساس پر جاری سماعت کے دوران آج دوسرے دن بھی وکیل دفاع نے اپنے موکلین کے حق میں بحث کی اور عدالت کو کئی حقائق سے واقف کروایا ۔ ایڈوکیٹ جی گرومورتی نے بتایا کہ اس وقت کے کمشنر پولیس مسٹر اے کے خان نے مجلس اور کانگریس کے درمیان مفاہمت کے پیش نظر انہوں نے محمد پہلوان اور ان کے افراد خاندان کے خلاف مقدمہ تیار کروایا تھا ۔ وکیل دفاع نے بتایا کہ حملہ کیس میں پولیس نے ایسے گواہوں کے ناموں کا اندراج کیا جو اکبر الدین اویسی کے حق میں بیان دے سکے ۔ کمشنر پولیس کی ایماء پر ہی اکبر اویسی کے خلاف چندرائن گٹہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کئے جانے تاخیر کی گئی ۔ ایڈوکیٹ گرومورتی نے بتایا کہ اس کیس کے گواہ نمبر 11 یعنی رکن اسمبلی احمد بلعلہ 4TV چیانل غیرقانونی طور پر چلارہے ہیں حالانکہ یہ متعلقہ محکمہ سے رجسٹرڈ نہیں ہے اور وہ حکومت ہند کو دھوکہ دے رہے ہیں ۔ حملہ کیس کی ریکارڈنگ و سی ڈی سے چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی اور مخصوص منظر کو دکھایا گیا ۔ وکیل دفاع نے بتایا کہ ابراہیم یافعی اور عود یافعی پر کئے گئے حملے کی ریکارڈنگ کو نہیں دکھایا گیا اور نہ ہی اکبر الدین اویسی اور احمد بلعلہ کی جانب سے بھی کئے گئے حملے کے حصے کو حذف کردیا گیا ۔ ایڈوکیٹ جی گرو مورتی نے بتایا کہ مجلس پارٹی اپنے ذاتی مفادات کیلئے کام کرتی ہے اور 2009 ء تا 2014 ء تک کانگریس سے مفاہمت رکھتے ہوئے کئی مفادات حاصل کرلئے جبکہ 2014 ء سے برسراقتدار تلنگانہ راشٹریہ سمیتی پارٹی سے مفاہمت رکھتے ہوئے کئی ذاتی مفادات حاصل کررہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے موکلین محمد پہلوان اور منور اقبال لینڈگرابرس نہیں ہے کیونکہ ان کے خلاف کوئی شواہد موجود نہیں ہے جبکہ مجلس پارٹی کے سابقہ صدر کو لینڈگرابینگ عدالت نے قصور وار قرار دیا تھا ۔ /13 اپریل 2011 ء کو چندرائن گٹہ علاقہ میں سرکاری اراضیات کی نشاندہی اور اس کے معائنے کے بہانے اکبر الدین اویسی نے محمد پہلوان پر لینڈگرابنگ کا جھوٹا الزام عائد کرتے ہوئے ان اراضیات کو حاصل کرنے کی کوشش کی ۔ وکیل دفاع نے عدالت کو یہ واقف کروایا کہ حملہ کیس کی سازش محمد پہلوان اور دیگر نے نہیں بلکہ اکبر الدین اویسی اور احمد بلعلہ نے کی ۔ کیونکہ 30 اپریل 2011 ء کو افتتاحی پروگرامس میں شرکت کے بعد دوبارہ بارکس پہونچ کر پہلوان کے ارکان خاندان پر حملہ کرنا ایک منظم سازش کا حصہ ہے ۔ انہوں نے یہ واضح طور پر بتایا کہ حملہ کیس کے زیادہ تر گواہ مجلس پارٹی کے کارکن ہے اور انہوں نے پنچ گواہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے ایک ایسے گواہ کو پنچ گواہ بنایا جو حضرت آغا داؤدؒ کی درگاہ اور اس سے متصل قبرستان کا نگران کار ہے ۔ ساتویں ایڈیشنل میٹروپولیٹین سیشن جج نے کیس کی سماعت کو کل تک کیلئے ملتوی کردیا ۔

TOPPOPULARRECENT