Saturday , August 19 2017
Home / ہندوستان / ا1 ، 2 اور 10 روپئے کے سکے دوکانوں اور بعض بینکوں میں ناقابل قبول

ا1 ، 2 اور 10 روپئے کے سکے دوکانوں اور بعض بینکوں میں ناقابل قبول

کئی اقدامات پر مرکزی حکومت اپوزیشن ارکان کی تنقیدوں کا نشانہ ، نوٹوں کی تنسیخ کے فیصلے پر جے ڈی یو کی سخت تنقید

نئی دہلی ۔ 24 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) 1 ، 2 اور 10 روپئے کے سکے دوکانوں پر قبول نہیں کئے جارہے ہیں ، بلکہ ملک کے بعض علاقوں میں بینکس بھی ان سکوں کو قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں۔ جنتادل ( یونائٹیڈ ) کے رکن راجیہ سبھا نے وقفۂ صفر کے دوران یہ مسئلہ اُٹھاتے ہوئے کہاکہ خاص طورپر غریبوں کو ان سکوں کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جنتادل (یو) کے علی انور انصاری نے کہا کہ بعض بینکس بھی ان سکوں کو قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں ، حالانکہ یہی بینکس ان سکوں کو جاری بھی کررہے ہیں ۔ 8 نومبر 2016 ء کو 500 اور 1000 روپئے کے نوٹس منسوخ کرنے کے حکومت کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے جنتادل (یو) رکن نے کہاکہ نوٹوں کی تنسیخ کے دوسرے مرحلے کے طورپر سکے واپس نہیں لے جارہے ہیں ۔ سی پی آئی ایم قائد سی پی نارائنن نے حکومت کی جانب سے ایئر انڈیا کو خانگیانے کے اقدام کی مذمت کی جو نقصان میں چلنے کے بہانے سے خانگی کمپنی کو فروخت کیا جارہا ہے ۔ کانگریس کے سینئر قائد آنند شرما نے ایوان میں حکومت کے ایئرانڈیا کو خانگیانے کے اقدام پر بحث کا مطالبہ کیا۔ سی پی آئی (ایم ) کی جھرنا داس بیگیا نے دہلی میں عصمت ریزی کے واقعات میں اضافہ کا مسئلہ اُٹھایا اور سوال کیا کہ ’’بیٹی بچاؤ ، بیٹی پڑھاؤ‘‘ نعرہ کا کیا ہوا ۔ وہ دارالحکومت میں کبڈی کی کھلاڑی 10 سالہ لڑکی کی اُس کے ماموں کی جانب سے عصمت ریزی کا حوالہ دے رہی تھیں۔ وقفۂ صفر کے دوران نامزد رکن سوپن داس گپتا نے روہنگیا تارکین وطن کی ملک میں مسلسل آمد کا مسئلہ اُٹھایا اور کہاکہ یہ حیرت انگیز ہے کہ جموں اور لداخ کے تارکین وطن کی تعداد 40,000 روہنگیا پناہ گزینوں کی تعداد سے کم ہے ۔ انھوں نے کہاکہ یہ افراد مشکوک ہیں۔ انھوں نے اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ انھیں رائے دہندوں کے شناختی کارڈ اور آدھار کارڈ جاری کئے جانے چاہئے ۔ کانگریس کے ڈگ وجئے سنگھ نے حکومت کی جانب سے سردار سرور ڈیم کے پانی کے دروازے 21 جولائی کو بند کردینے کے منصوبے کا مسئلہ اُٹھایا اور کہا کہ اُس سے 16,000 قبائیلی خاندانوں کی اراضی زیرآب آجائے گی ۔ 12 اگسٹ کو وزیراعظم نریندر مودی نرمدا آرتی اُتاریں گے ۔ اُن کے ساتھ کئی سادھو ہوں گے ۔ اس کے لئے تالاب کا 20فیصد پانی استعمال کیا جارہاہے ۔ اس کے باوجود وہ تالاب کے پانی کے دروازے بند کردینا چاہتے ہیں ۔ کارگذار صدرنشین راجیہ سبھا کورین نے کہاکہ نوٹس درج کی جاچکی ہے ۔ مہاراشٹرا ، مدھیہ پردیش اور گجرات کے قبائیلیوں کی اراضی نرمدا کے پانی کو روکنے کی وجہ سے غرق ہوجائے گی ۔ جنتادل (یو) کے علی انور پاشاہ نے کہا کہ گجرات پولیس زبردستی تخلیہ کی نوٹس پر مقامی افراد کی دستخطیں حاصل کررہی ہیں ۔ سی پی آئی کے ڈی راجہ نے کہاکہ 1989 ء میں نرمدا ٹرائبل ایوارڈ کو ہنوز نافذ نہیں کیا گیا اور تالابوں کے پراجکٹس سے متاثر ہونے والوں کی بازآبادکاری نہیں کی گئی ہے ۔ قبل ازیں جب ایوان کا اجلاس شروع ہوا تو سماج وادی پارٹی کے نریش اگروال نے پارلیمنٹ کی نشستوں کی تعداد کم کرنے کا مسئلہ اُٹھایا ۔ جے ڈی یو کے رام ناتھ ٹھاکر نے اسپتالوں میں دواؤں کی قلت کا مسئلہ اُٹھایا ۔

TOPPOPULARRECENT