Sunday , April 30 2017
Home / شہر کی خبریں /  ا12اقامتی اسکولس اور 2 اقامتی جونیر کالجس کی اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی میں منتقلی

 ا12اقامتی اسکولس اور 2 اقامتی جونیر کالجس کی اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی میں منتقلی

اسٹاف کا ڈیپوٹیشن ، تعلیمی سال 2016-17 کے دوران آغاز ، حکومت تلنگانہ کا فیصلہ
حیدرآباد۔31 مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے 12 اقامتی اسکولس اور دو اقامتی جونیئر کالجس کو اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی منتقل کیا ہے۔ اس سلسلہ میں اسپیشل چیف سکریٹری رنجیو آر آچاریہ نے احکامات جاری کئے۔ تلنگانہ ریزیڈنشیل ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس سوسائٹی کے تحت چلنے والے ان اداروں کو عمارت اور منظورہ جائیدادوں کے ساتھ تلنگانہ اقامتی اسکول سوسائٹی کے حوالے کیا گیا۔ تعلیمی سال 2016-17ء کی تکمیل کے بعد اس پر عمل آوری کا آغاز ہوگا۔ ان اداروں میں کام کرنے والا اسٹاف تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی میں ڈپیوٹیشن پر متصور کیا جائے گا۔ جن 12 اقامتی اسکولوں کو اقلیتی سوسائٹی کے تحت منتقل کیا گیا ان میں قلی قطب شاہ اردو اقامتی اسکول (بوائز) بارکس، ٹی ایس آر اسکول (اردو بوائز) ناگارم نظام آباد، ٹی ایس آر اسکول (بوائز) سنگاریڈی، اقامتی اسکول (انگلش میڈیم بوائز) نلگنڈہ، اقامتی اسکول (اردو میڈیم گرلز) ابراہیم پٹنم رنگاریڈی، اقامتی اسکول (اردو میڈیم گرلز) محبوب نگر، اقامتی اسکول (بوائز) حیات نگر، اقامتی اسکول (بوائز) کاما ریڈی، اقامتی اسکول(بوائز) ظہیر آباد، اقامتی اسکول (بوائز) ونپرتی، اقامتی اسکول (بوائز) ورنگل اور اقامتی اسکول (گرلز) نلگنڈہ شامل ہیں۔ جن دو اردو میڈیم اقامتی جونیئر کالجس کو اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے ذمہ دیا گیا ہے ان میں قلی قطب شاہ اردو ریزڈنشیل جونیئر کالج (بوائز) بارکس اور اقامتی جونیئر کالج (اردو بوائز) نظام آباد شامل ہیں۔ حکومت نے ان اسکولوں اور جونیئر کالجس کی بہتر نگہداشت اور کارکردگی میں اضافے کے لیے انہیں اقامتی اسکول سوسائٹی کے تحت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کے تحت جملہ 201 اقامتی اسکولس قائم کئے جارہے ہیں جن میں 71 گزشتہ سال سے کارکرد ہوچکے ہیں۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کے صدرنشین اے کے خان مشیر اقلیتی امور حکومت تلنگانہ اسکولوں کی کارکردگی پر خصوصی نظر رکھے ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT