Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / بائیں بازو۔ کانگریس اتحاد پر اختلاف رائے کا شاخسانہ

بائیں بازو۔ کانگریس اتحاد پر اختلاف رائے کا شاخسانہ

ڈسپلین شکنی کی پاداش میں سی پی ایم سے سینئر لیڈر جگمتی سنگوان کا اخراج
نئی دہلی۔20 جون (سیاست ڈاٹ کام) حالیہ اختتام پذیر مغربی بنگال اسمبلی انتخابات میں کانگریس کے ساتھ سی پی ایم کے اتحاد پر اختلافات آج منظر عام پر آگئے جبکہ اتحاد کی مخالفت کرنے پر بائیں بازو کی جماعت نے سنٹرل کمیٹی کی ایک سینئر رکن کوپارٹی سے خارج کردیا۔ مغربی بنگال کے انتخابات میں ترنمول کانگریس اور کانگریس کے بعد لیفٹ فرنٹ کو تیسرا مقام حاصل کرنے کے بعد سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی کا پہلا اجلاس یہاں منعقد کیا گیا جس میں پارٹی اعلی قیادت نے کانگریس۔ سی پی ایم اتحاد کی مدافعت کی لیکن ارکان کی قابل لحاظ تعداد نے مخالفت کی جبکہ ڈسپلین شکنی کے الزام میں سنٹرل کمیٹی رکن اور خواتین کی تنظیم AIDWA کی جنرل سکریٹری جگمتی سنگوان کو پارٹی سے خارج کردیا گیا۔ سی پی ایم نے ایک صحافتی بیان میں بتایا کہ نئی دہلی میں جاریہ سی پی ایم کی سنٹرل کمیٹی کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ سنگین ڈسپلین شکنی کی پاداش میں سنٹرل کمیٹی ممبر جگمتی سنگوان کو پارٹی کی ابتدائی رکنیت سے خارج کردیا گیا ہے۔ تاہم سنگوان نے یہ ادعا کیا ہے کہ اجلاس میں انہوںنے بذات خود پارٹی اور تنظیمی عہدوں سے استعفی کا اعلان کیا ہے۔ اس معاملہ پر ردعمل ظاہر کرنے کی خواہش کرنے پر انہوں نے بتایا کہ میں نے اجلاس میں دوٹوک انداز میں کہہ دیا ہے کہ کانگریس کے ساتھ مفاہمت کا فیصلہ بالکلیہ غلط ہے اور پارٹی کی سیاسی حکمت عملی کے مغائر ہے۔ آل انڈیا ڈیموکریٹک اسوسی ایشن کے سابق لیڈر نے کہا ہے کہ سیاسی حکمت عملی اور جمہوری مرکزیت کمیونسٹ پارٹی کا بنیادی اصول ہے جس پر کاربند رہنے کی ضرورت ہے۔ واضح رہے کہ سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی گزشتہ دو دنوں سے مغربی بنگال کے نتائج، کانگریس کے ساتھ اتحاد کے علاوہ 5 ریاستوں میں حالیہ منعقدہ اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے مظاہرہ پر تبادلہ خیال کررہی ہے۔ 5 ریاستوں سے متعلق جائزہ رپورٹس ہفتہ کو پیش کردی گئی تھی لیکن مغربی بنگال میں اتحاد کا مسئلہ مرکز ی توجہ بنا ہوا ہے۔ مغربی بنگال کے اسمبلی انتخابات میں سی پی ایم کو ذلت آمیز شکست اٹھانی پڑی اور جس نے 249 رکنی اسمبلی میں صرف 26 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے اور ٹی ایم سی اور کانگریس کے بعد پارٹی تیسرے مقام پر چلے گئی ہے۔ تاہم کیرالا میں سی پی ایم کی زیر قیادت ایل ڈی ایف نے متاثرکن مظاہرہ کیا ہے اور 90 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے حکومت تشکیل دی ہے جبکہ آسام اور تاملناڈو میں اپنا کھاتہ کھولنے میں ناکام رہی اور پڈوچیری میں پارٹی کی تائید سے ایک اور امیدوار کامیاب ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT