Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / ’بابری مسجد اراضی‘ ہماری جائیداد، شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ

’بابری مسجد اراضی‘ ہماری جائیداد، شیعہ وقف بورڈ کا دعویٰ

لارڈ رام کے جائے پیدائش سے دور مسجد کی تعمیر کی تجویز، سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل

نئی دہلی 8 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ایودھیا تنازعہ سے متعلق واقعات کو ایک نیا موڑ دیتے ہوئے اترپردیش کے شیعہ سنٹرل وقف بورڈ نے سپریم کورٹ سے آج کہاکہ ایودھیا کے متنازعہ مقام سے قابل لحاظ فاصلہ پر کسی مسلم اکثریتی علاقہ میں ایک مسجد تعمیر کروائی جاسکتی ہے۔ شیعہ سنٹرل وقف بورڈ نے عدالت عظمیٰ میں ایک حلفنامہ داخل کرتے ہوئے کہاکہ بابری مسجد کا مقام اس (شیعہ وقف بورڈ) کی ملکیت ہے چنانچہ اس تنازعہ کے دوستانہ اور خوشگوار حل کے لئے صرف وہ ہی مذاکرات کے مجاز ہیں۔ 30 صفحات پر مشتمل اس حلفنامہ کو نمایاں اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیوں کہ اس مقدمہ میں اراضی کے تنازعہ پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہکو چیلنج کرتے ہوئے دائر کی گئی اپیلوں کی تیز رفتار سماعت سے سپریم کورٹ کے اتفاق کے چند دن بعد شیعہ سنٹرل وقف بورڈ نے یہ حلفنامہ داخل کیا ہے۔ اس وقف بورڈ نے انتہائی حساس و پیچیدہ نوعیت کے اس مسئلہ کو خوشگوار انداز میں یکسوئی کے امکانات تلاش کرنے کمیٹی کے قیام کے لئے عدالت عظمیٰ سے وقت دینے کی درخواست بھی کی ہے۔ سنی سنٹرل وقف بورڈ کی طرف سے اختیار کردہ موقف کی مذمت کرتے ہوئے اس نے کہاکہ … بابری مسجد چونکہ شیعہ وقف بورڈ کی جائیداد ہے چنانچہ صرف یوپی کا شیعہ سنٹرل وقف بورڈ ہی کسی پرامن حل پر پہونچنے کے لئے دیگر فریقوں سے مذاکرات کرنے کا مجاز و مستحق ہے‘‘۔ حلفنامہ میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’جواب دینے والا مدعی (شیعہ وقف بورڈ) اس نظریہ کا حامل بھی ہے کہ مریادا پرشوتم سری رام کے انتہائی مقدس جائے پیدائش سے قابل لحاظ دوری پر کسی مسلم اکثریتی علاقہ میں مسجد قائم کی جاسکتی ہے‘‘۔ عدالت عظمیٰ میں زیردوران اس مقدمہ میں شیعہ وقف بورڈ بھی ایک فریق ہے۔ ایودھیا اراضی تنازعہ پر الہ آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے دائر کردہ اپیلوں پر 11 اگسٹ سے سماعت کے لئے چیف جسٹس جے ایس کھیہر نے حال ہی میں جسٹس دیپک مصرا، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس اے نذیر پر مشتمل تین رکنی بنچ تشکیل دیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT