Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / بابری مسجد ایودھیا مسئلہ کی عاجلانہ یکسوئی ضروری

بابری مسجد ایودھیا مسئلہ کی عاجلانہ یکسوئی ضروری

رام مندر کی تعمیر میں تمام ہندوستانیوں کی خواہش کی شمولیت ضروری ، عدالت کے باہر تصفیہ کرنے سپریم کورٹ کے مشورے کاخیرمقدم

نئی دہلی ۔ 21 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایودھیا مسئلہ کی عاجلانہ یکسوئی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے آر ایس ایس لیڈر نے آج کہا کہ رام مندر کی تعمیر کو تمام ہندوستانیوں کی خواہش کے مطابق یقینی بنایا جائے ۔ سپریم کورٹ نے اس مسئلہ کی بات چیت کے ذریعہ یکسوئی کی تجویز رکھی ہے ۔ اس کے بعد ہی آر ایس ایس ، بی جے پی اور دیگر تنظیمیں مختلف عنوانات پر بیانات دے رہے ہیں ۔ آر ایس ایس لیڈر دتاتریہ ہوشبولے نے کہاکہ ہندوتوا تنظیم دھرم سنسد کی جانب سے کئے گئے فیصلہ کی حمایت کرے گی جس نے رام جنم بھومی تحریک منظم کی تھی ۔ رام مندر کا مسئلہ دھرم سنسد کی جانب سے ہی حل کیا جائے گا ، کیونکہ یہی لوگ پوری رام جنم بھومی تحریک کے منتظمین ہیں۔ ان کی تحریک کی وجہ سے ہی مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی جارہی ہے اور اس تحریک میں شامل دیگر پارٹیوں کو بھی شریک کیاجائے گا جو عدالت سے رجوع ہوئے ہیں۔ آر ایس ایس اس کا فیصلہ نہیں کرے گی ۔ آر ایس ایس صرف دھرم سنسد کے فیصلے پر عمل کرے گی ۔ اس مسئلہ کو جتنا جلد ہوسکے حل کیا جانا چاہئے اور تمام ہندوستانیوں کو شامل کرتے ہوئے ایودھیا میں ایک عظیم الشان مندر کھڑا کیا جانا چاہئے ۔ آر ایس ایس پرچار پرموکھ منموہن ویدیا نے کہاکہ ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر یا تو بات چیت کے ذریعہ ہوگی یا قانون کے ذریعہ ہوگی ۔ سپریم کورٹ نے آج کہا ہے کہ ایودھیا مندر کا تنازعہ حساس ہے اور یہ جذباتی مسئلہ ہے ۔ عدالت نے تمام فریقین سے کہا کہ وہ مل بیٹھ کر اس متنازعہ معاملے پر غوروخوص کرے اور اسے حل کرلیں۔

چیف جسٹس جے اے کیہر کی زیرقیادت بنچ نے کہا کہ اس طرح کے مذہبی مسائل کو بات چیت کے ذریعہ ہی حل کیا جاسکتا ہے ۔ بنچ نے یہ تجویز رکھی کہ چیف جسٹس آف انڈیا اس مسئلہ کا دوستانہ حل نکالنے کے لئے ثالثی کا رول ادا کرنے تیار ہیں۔ بنچ کے یہ تاثرات اُس وقت سامنے آئے جب بی جے پی لیڈر سبرامنیم سوامی نے اس معاملے کی جانب توجہ دلائی اور اس پر عاجلانہ سماعت کیلئے زور دیا۔ انھوں نے کہاکہ گزشتہ 6 سال سے اس معاملے پر سماعت ملتوی ہے ۔ جتنا جلد ہوسکے اس کی یکسوئی کی جائے ۔ گزشتہ سال 26 فبروری کو سپریم کورٹ نے زیرالتواء معاملوں میں مداخلت کرنے کی سوامی کو اجازت دی تھی ۔ اسی دوران بی جے پی نے سپریم کورٹ کی تجویز کا خیرمقدم کیا جس میں ایودھیا تنازعہ کی عدالت کے باہر یکسوئی کی تجویز رکھی گئی ہے۔ بی جے پی نے کہاکہ اس تنازعہ سے وابستہ تمام فریقین کو یہ ذہن نشین کرنا چاہئے کہ یہ معاملہ حساس نوعیت کا ہے جس پر غور وخوص کے بعد ہی صورتحال حل کی جاسکتی ہے ۔ سپریم کورٹ نے دونوں فریقین کے درمیان عدالت کے باہر تصفیہ کے لئے زور دیاہے ۔ تمام فریقین کو ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہوئے دوستانہ حل نکالنا چاہئے ۔ بی جے پی ترجمان سمبت پاترا نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ عدالت کے باہر ہی بات چیت کی جانی چاہئے ۔ ان کی پارٹی سپریم کورٹ کے ظاہرکردہ تاثرات کا تفصیلی جائزہ لے گی ۔ اُس نے کہاہے کہ یہ حساس اور جذبات سے مربوط مسئلہ ہے ۔ لاکھوں ، کروڑوں عوام کے عقائد کا بھی معاملہ ہے ۔ پاترا نے مزید کہاکہ اس مسئلہ سے وابستہ تمام فریقین کو بات چیت کے لئے آگے آنا چاہئے ۔ الہٰ آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں داخل کردہ کئی درخواستوں کی بھی عاجلانہ یکسوئی کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT