Sunday , August 20 2017
Home / ہندوستان / بابری مسجد شہادت مقدمہ کی سی بی آئی عدالت میں سماعت

بابری مسجد شہادت مقدمہ کی سی بی آئی عدالت میں سماعت

یو پی میں رام مندر مسئلہ کا احیاء جاری ‘ مسئلہ سیاسی نہیں بلکہ عقیدہ اور مذہب سے متعلق ‘ بی جے پی کے قومی نائب صدر کا ادعا
لکھنو ۔4جون ( سیاست ڈاٹ کام ) بابری مسجد کی شہادت کے تقریباً 25سال بعد یہ مسئلہ دوبارہ مرکز توجہ بن گیا ہے ۔ یوپی میں رام مندر کے مسئلہ کا احیاء کیا جارہا ہے اور بی جے پی ریاست میں 15سال بعد برسراقتدار آئی ہے ۔ لکھنو کی خصوصی سی بی آئی عدالت 1992ء میں بابری مسجد کی شہادت کے مقدمہ کی روزآنہ کی بنیاد پر سماعت کررہی ہے جب کہ کئی سال سے بی جے پی قائدین نے رام مندر مسئلہ کو پس پردہ رکھ دیا تھا لیکن اس کا دوبارہ احیاء کیا جارہا ہے ۔ بی جے پی قائدین کو یقین ہے کہ 2019ء کے لوک سبھا انتخابات میںاس مسئلہ کے احیاء سے پارٹی فائدہ پہنچے گا ۔ ایودھیا میں رام مندر کی تعمری کی تحریک میں شدت پیدا کرنے سے بی جے پی کی مقبولیت میں اضافہ ہوگا ۔ یو پی کے صدر بی جے پی ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریا نے کہا کہ یہ معاملہ عدالت میں ہے لیکن سیاسی بیانات جو رام مندر مسئلہ کے بارے میں دیئے جارہے ہیں ان میں سیاست کا شائبہ بھی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ عقیدہ اور مذہب کا ہے ۔ بی جے پی 403رکنی اسمبلی میں جاریہ سال مارچ میں 325 نشستیں حاصل کرتے ہوئے قطعی اکثریت کے ساتھ برسراقتدار آچکی ہے‘ اس کو یقین ہے کہ رام مندر مسئلہ کو عوامی تائید حاصل ہوگی ۔ ہر شخص چاہتا ہیں کہ ایودھیا میں رام مندر تعمیر کیا جائے جب بھی عدالتیں کوئی فیصلہ سنائیں گی کچھ نہ کچھ کشیدگی پیدا ہوگی ۔ بی جے پی کے نائب صدر راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ پربھات جھا نے آج یہ بات کہی ۔ 30مئی کو خصوصی سی بی آئی عدالت لکھنو نے 12افراد کے خلاف بشمول اڈوانی ‘ جوشی اور مرکزی وزیر اوما بھارتی تازہ فرد جرم عائد کئے ہیں جو بابری مسجد شہادت مقدمہ کے سلسلہ میں ہیں  ۔ سپریم کورٹ نے ان کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزام کے احیاء کا حکم دیا تھا ۔ 19اپریل کو سپریم کورٹ کی ہدایت کے بموجب خصوصی عدالت مقدمہ کی تکمیل کرے گی اور اندرون دو سال فیصلہ سنادے گی ۔ 2019ء میں عام انتخابات مقرر ہیں جب کہ مندر مسئلہ امکان ہے کہ جذباتی مسئلہ کی شکل میں انتخابی موضوع بنایا جائے گا  ۔ یو پی بی جے پی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی نے کہا یقیناً لوک سبھا انتخابات پر اس مسئلہ کا اثر مرتب ہوگا ۔ ہماری پارٹی ایودھیا مسئلہ کو سیاسی مسئلہ نہیں سمجھتی لیکن بی جے پی واحد پارٹی ہے جس نے یہ مسئلہ اٹھایا ہے اور اس بات کی پابند ہے کہ رامن مندر ایودھیا میں تعمیر کیا جائے اور دستور کے دائرے میں رہتے ہوئے ایسا کیا جائے ۔ بی جے پی کے قومی نائب صدر اور راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ خاص طور پر کروڑوں ابنائے وطن سے خطاب کررہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایودھیا میں آخر کار رام مندر تعمیر ہوگا۔ 31مئی کو جب کہ 30مئی کو مجرمانہ سازش کے الزامات بی جے پی قائدین اور دیگر کے خلاف لکھنو میں عائد کئے گئے تھے ‘ چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ نے عارضی مندر میں ایودھیا میں پوجا کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT