Monday , August 21 2017
Home / اداریہ / بابری مسجد شہادت ‘ وضع الزامات

بابری مسجد شہادت ‘ وضع الزامات

کیوں اتنے انقلاب زمانے میں آ گئے
ان سے مری نگاہ تو بس دو گھڑی ملی
بابری مسجد شہادت ‘ وضع الزامات
بابری مسجد شہادت کیس میں بالآخر یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس میں ملزمین کے خلاف کوئی پیشرفت ہوگی ۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں بی جے پی کے سینئر قائدین ایل کے اڈوانی ‘ مرلی منوہر جوشی اور کلیان سنگھ کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات کو برخواست کرنے الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیدیا ہے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کو بحال کردیا ہے ۔ یہ مقدمہ 25 سال سے زیر التوا ہے ۔ اس مقدمہ میں کئی مرحلے گذر چکے ہیں اور ایک طویل وقت کے باوجود بھی یہ مقدمہ اپنے منطقی انجام کو نہیں پہونچا ہے ۔ اب سپریم کورٹ کے تازہ ترین فیصلے کے بعد یہ امید پیدا ہوگئی ہے کہ اس مقدمہ میں واقعی پیشرفت ہوگی ۔ سپریم کورٹ نے الہ آباد ہائیکورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے جو رہنما خطوط جاری کئے ہیں وہ انتہائی خوش آئند ہیں اور اس سے ملک کی عدلیہ پر جو اٹوٹ اور مستحکم ایقان ہے اس میں مزید اضافہ ہوگا ۔ عدالت نے بابری مسجد کی شہادت کو ایک جرم قرار دیا ہے اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ضرور ہونی چاہئے ۔ اس حقیقت سے سبھی واقف ہیں کہ جس وقت بابری مسجد کو 6 ڈسمبر 1992 کو شہید کیا گیا اس وقت ایل کے اڈوانی ‘ مرلی منوہر جوشی اور دوسرے کئی سینئر قائدین وہاں موجود تھے اور انہوں نے ایک دھکہ اور دو مسجد کو توڑ دو جیسے نعرے لگاتے ہوئے کارسیوکوں کو اشتعال دلایا تھا ۔ اس کے باوجود بھی وہ اب تک اس مقدمہ میں سزا سے بچتے رہے ہیں اور اس کیلئے قانون کے داؤ پیچ ہی کو استعمال کیا گیا تھا ۔ اس مقدمہ میں تاخیر کیلئے خود مرکزی تحقیقاتی ایجنسی سی بی آئی بھی ذمہ دار ہے ۔ مقدمہ کے ملزمین کے سیاسی رتبہ کو دیکھتے ہوئے ان کے خلاف کسی طرح کی پیشرفت سے اب تک گریز کیا گیا اور یہ شبہات بھی ہیں کہ یہ گریز عمدا تھا ۔ اب جبکہ سپریم کورٹ نے اس معاملہ کو بالکل واضح کردیا ہے ۔ بابری مسجد کی شہادت کو ایک جرم قرار دیا ہے اور مجرمانہ سازش کے الزامات کو بحال کردیا ہے تو ایسے میں نہ صرف سی بی آئی بلکہ نفاذ قانون کی دوسری ایجنسیوں اور خود مرکزی حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس کیس کو اس کے منطقی انجام تک پہونچائیں اور ملک کی تاریخ کا جو بڑا جرم سرزد ہوا ہے اس کے ذمہ داروں کو سزا دلائی جائے ۔
سپریم کورٹ نے اپنے تاریخی فیصلے میں ملزمین اور تحقیقاتی ایجنسیوں سب کیلئے فرار کی راہیں مسدود کردی ہیں۔ یہ واضح کردیا گیا ہے کہ اس سلسلہ مںے دونوں علیحدہ مقدمات کو یکجا کردیا جائے ۔ سشن کورٹ میں اس مقدمہ کی یومیہ اساس پر سماعت کی جائے ۔ اندرون دو سال اس پر فیصلہ سنادیا جائے ۔ مقدمہ کا فیصلہ آنے تک سماعت کرنے والے جج کا تبادلہ عمل میں نہ لایا جائے ۔ سی بی آئی کو ذمہ داری دی گئی ہے کہ وہ اس کیس کے گواہوں کی عدالتوں میں موجودگی کو یقینی بنایا جائے ۔ سپریم کورٹ نے اس کیس میں 25 سال کی تاخیر پر سی بی آئی کی سرزنش بھی کی ہے ۔ عدالت نے الہ آباد ہائیکورٹ کی جانب سے اڈوانی و دوسروں کے خلاف سازش کے الزامات کو ختم کرنے کے فیصلے کو ایک غلطی قرار دیا ہے ۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ حالیہ عرصہ میں ایک انتہائی جامع اور واضح فیصلہ ہے اور اس سے ملک کی عدلیہ اور عدالتی نظام پر جو اٹوٹ اور مستحکم یقین ہے اس کو اور بھی مستحکم کردیا ہے ۔ اس فیصلے سے یہ امید تقویت پاتی ہے کہ کسی بھی جرم کا ارتکاب کرنے والے چاہے سیاسی اعتبار سے کتنے ہی بڑے رتبہ اور عہدہ کے حامل کیوں نہ ہوں انہیں ملک کے قانون کے سامنے جواب دینا ہوگا اور قانون کے مطابق اگر وہ خاطی قرار پاتے ہیں تو انہیں اس کی سزا بھی بھگتنی ہوگی ۔ عدالت کا یہ فیصلہ ملک کے مسلمانوں کیلئے بھی امید کی ایک کرن ہے جنہیں مختلف گوشوں کی جانب سے نشانہ بنانے کا عمل شروع ہوا ہے اور ملک کے مسلمانوں میں عدم تحفظ کا احساس پوری شدت کے ساتھ پیدا کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں۔
بابری مسجد کی شہادت ہندوستان کی تاریخ کا ایک بدترین جرم ہے ۔ اس کے لئے جو کوئی بھی قانونی اعتبار سے خاطی قرار پاتے ہیں انہیں لازما سزا ملنی چاہئے ۔ بابری مسجد کی شہادت نے ہندوستانی سماج پر دور رس اثرات مرتب کئے ہیں اور آج ملک میں جو واقعات فرقہ پرستی کے پیش آ رہے ہیں وہ بابری مسجد کی شہادت کا تسلسل ہی کہے جاسکتے ہیں۔ اس سے سماج کے دو اہم اور بڑے طبقات میں دوریاں اور خلیج میں اضافہ ہوا ہے ۔ اس سے ملک میں سماجی ہم آہنگی متاثر ہوکر رہ گئی ہے ۔ اس کے نتیجہ میں فرقہ پرستی کو عروج حاصل ہوا ہے ۔ ایسے مقدمہ میں کئی دہوں کی تاخیر بجائے خود انصاف رسانی میں رکاوٹ قرار پاتی ہے ۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اس مقدمہ کو اس کے منطقی انجام تک پہونچانے میں ٹال مٹول نہیں ہونا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT