Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد مسئلہ پر بیان بازیوں کی کوئی اہمیت نہیں

بابری مسجد مسئلہ پر بیان بازیوں کی کوئی اہمیت نہیں

ملک میں غیر یقینی صورتحال کو دور کرنے سکیولر طاقتوں کو آگے آنا چاہئے ۔ خلیل الرحمن سجاد نعمانی
حیدرآباد۔ 23 فروری (سیاست نیوز) ملک میں پھیلی غیریقینی صورتحال کو دُور کرنے کیلئے متحدہ طور پر سیکولر طاقتوں کو آگے آنے کی ضرورت ہے۔ بابری مسجد کے متعلق کی جانے والی بیان بازیوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے چونکہ عدالت کا فیصلہ نہیں آتا، اس وقت تک بابری مسجد کی جگہ پر کسی بھی سرگرمیوں کو روکنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ تحفظات کے سلسلے میں 1950 کے صدارتی حکم نامہ کے بعد جو حالات پیدا ہوئے ہیں، اس سے صرف ایک مخصوص طبقہ کو فائدہ حاصل ہورہا ہے۔ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے اِن خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوستان کو کئی مسائل درپیش ہیں اور ان مسائل کے حل پر توجہ مبذول کرنے کے بجائے برسراقتدار طبقہ اختلافات کو ہوا دیتے ہوئے حقیقی مسائل کو پس پشت ڈالنے کیلئے کوشاں ہے۔ مولانا سجاد نعمانی نے بتایا کہ جواہر لال نہرو یونیورسٹی (دہلی) کے حالات اور ملک بھر میں طلبہ میں پھیلی بے چینی سے اس بات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نوجوان موجودہ حکومت اور انتظامی مشنری سے مطمئن نہیں ہے۔ انہوں نے گرانی، عدم تحمل، فرقہ واریت جیسے مسائل کو حقیقی مسائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی شہری بنیادی طور پر مہنگائی سے پریشان ہیں لیکن اس مسئلہ پر گفتگو کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ اسی طرح عدم تحمل کے واقعات میں ہورہے روز افزوں اضافہ سے ہندوستانی شہریوں میں احساس عدم تحفظ پیدا ہونے لگا ہے جوکہ ملک کے جمہوری ڈھانچہ کیلئے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ہر ہندوستانی شہری اور بااثر طبقہ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ملک کی سالمیت ، سیکولر کردار اور جمہوری نظام کے تحفظ کیلئے جدوجہد کرے۔ مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے بتایا کہ جی این یو میں پیش آئے واقعات پر سے اب پردے اُٹھنے لگے ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مخصوص ذہنیت کا حامل طبقہ نوجوانوں کو نشانہ بنانے کی کوشش میں ہے۔ جاٹ برادری کے احتجاج کے متعلق کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ ہندوستانی مسلمانوں یا دیگر مذہب سے تعلق رکھنے والوں کیلئے دستور میں جو حقوق فراہم کئے گئے ہیں، ان کے مطابق تحفظات کا معاملہ صرف پسماندہ طبقات کیلئے تھا لیکن 1950 کے صدارتی حکم نامہ کے سبب حالات یکسر تبدیل ہوگئے اور ایک مخصوص طبقہ تحفظات کے ثمرات سے فائدہ حاصل کررہا ہے۔ مولانا سجاد نعمانی نے بتایا کہ سماج میں پھیلی غیریقینی کیفیت کو دُور کرنے کیلئے متحدہ طور پر جدوجہد اور برسراقتدار طبقہ کو راہ راست پر لانے کیلئے فکر انگیز اقدامات کئے جانے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT