Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد مقدمہ کے معمر ترین فریق ہاشم انصاری کا انتقال

بابری مسجد مقدمہ کے معمر ترین فریق ہاشم انصاری کا انتقال

نئی دہلی ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد رام جنم بھومی مقدمہ کے معمر ترین فریق محمد ہاشم انصاری کا قلب سے متعلق امراض کے سبب آج یہاں انتقال ہوگیا۔ وہ 95 برس کے تھے۔ ان کے فرزند اقبال کے مطابق صبح کی اولین ساعتوں میں انہوں نے آخری سانس لی۔ ہاشم انصاری ڈسمبر 1949ء سے بابری مسجد مقدمہ سے وابستہ تھے۔ 1961ء میں فیض آباد سیول جج کی عدالت میں مرکزی سنی وقف بورڈ کی طرف سے دائر ایودھیا ملکیت مقدمہ میں وہ بھی دیگر 6 افراد کے ساتھ اصل مدعی بن گئے تھے۔ دیگر پانچ مدعیان میں محمد فاروق، شہاب الدین، مولانا نثار، محمد صاحب بھی شامل تھے۔ بابری مسجد کے مسئلہ پر فیض آباد سیول جج کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے والے وہ پہلے شخص تھے۔ الہ آباد ہائیکورٹ نے 2010ء میں ایک اکثریتی فیصلہ دیتے ہوئے ایودھیا کی متنازعہ اراضی کا ایک تہائی حصہ نرموہی اکھاڑہ کو دیدیا تھا۔ دیگر دو تہائی حصے مساویانہ طور پر وقف بورڈ اور رام لیلی کی نمائندگی کرنے والے فریقوں کو دیئے گئے تھے۔ اس فیصلہ کے فوری بعد ہاشم انصاری نے اس تنازعہ کو ختم کرتے ہوئے ایک نئی شروعات پر زور دیا تھا۔

 

 

بابری مسجد مقدمہ لڑنے کیلئے …
ایک ہی تانگے میں جاتے تھے ہاشم انصاری اور پرم ہنس
اجودھیا 20 جولائی (یو این آئی) رام جنم بھومی / بابری مسجد تنازعہ میں محمد ہاشم انصاری ایک فریق کے پیروکار ہونے کے باوجود ہندو مسلم اتحاد کے اس قدر حمایتی تھے کہ وہ پرم ھنس رام چندر داس کے ساتھ ایک ہی تانگے پر مقدمہ لڑنے جاتے تھے ۔  تنازعہ کو بات چیت یا عدالتی حکم سے نمٹانے کی حمایت کرنے والے مرحوم انصاری اور آنجہانی پرم ھنس میں گاڑھی دوستی تھی۔ دونوں اجودھیا سے ایک ہی تانگے پر فیض آباد کچہری مقدمہ لڑنے جاتے تھے ۔ رام چندر پرم ھنس داس رام جنم بھومی بابری مسجد تنازعہ کے ایک اہم پیروکار تھے ۔ ان کا انتقال قریب 13 سال پہلے ایودھیا میں ہوا تھا۔  دونوںاپنے اپنے مکانوں سے نکل کر سڑک پر آتے تھے اورتانگے پر سوار ہو کر کچہری پہنچتے تھے ۔ کچہری میں دونوں اپنے اپنے وکیل کے کمرے پر چلے جاتے تھے . شام کو دونوں پھر ایک ساتھ اجودھیا لوٹتے تھے ۔ مرحوم انصاری نے خود ایک بار بتایا تھاکہ ’’ہم لوگوں کے ایک ساتھ نکلنے پر اکثر بار طنز بھی کیا جاتا تھا۔ ہمارے ساتھ آنے جانے کا یہ سلسلہ اسی(80) کی دہائی میں اس وقت ٹوٹا جب وشواہندو پریشد کا اس معاملے میں مداخلت بڑھا۔۔۔ وی ایچ پی نے اسے سیاسی مسئلہ بنا دیا۔‘‘ پرم ہنس کی موت پر مرحوم انصاری 31 جولائی 2003 کو ان کی موت پر پھوٹ کر روئے تھے اورکہا تھاکہ ’’میرا دوست مجھ سے پہلے چلا گیا۔‘‘ مرحوم انصاری کی ہندوؤں میں مقبولیت کا عالم یہ رہا کہ ان کے انتقال کی خبر آتے ہی دوسروں کے ساتھ ہندو دھرم اچاریوں کا ان کی رہائش گاہ پر آنا شروع ہوگیا۔

TOPPOPULARRECENT