Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد پر دوسرے فریق کی شرانگیزی، مسلمانوں کو عدالتی فیصلہ قبول

بابری مسجد پر دوسرے فریق کی شرانگیزی، مسلمانوں کو عدالتی فیصلہ قبول

ملک میں عدم تحمل شدت اختیار کرگیا، گاندھی بھون میں مولانا اسرارالحق قاسمی ایم پی و دیگر کا خطاب

حیدرآباد 6 ڈسمبر (سیاست نیوز) غصب کردہ زمین پر اللہ کا گھر تعمیر نہیں ہوسکتا اور نہ ہی مسلمانوں کی عبادت اُس میں ہوتی ہے۔ اسی لئے یہ وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ بابری مسجد کی جائیداد غضب کردہ نہیں تھی بلکہ اُس جگہ پر اللہ کا گھر تعمیر ہوا تھا جسے فرقہ پرستوں نے شہید کردیا۔ مولانا اسرار الحق قاسمی رکن پارلیمنٹ کشن گنج نے آج گاندھی بھون میں گریٹر حیدرآباد کانگریس کمیٹی کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب کے دوران یہ بات کہی۔ انھوں نے بتایا کہ ہندوستان میں عدم تحمل کا آغاز 6 ڈسمبر 1992 ء سے ہوا ہے اور فی الحال یہ معاملہ انتہائی شدید نوعیت اختیار کرگیا ہے۔ مولانا اسرارالحق قاسمی نے بتایا کہ مسلمان عدالتی فیصلہ کا احترام کرنے تیار ہیں جبکہ دوسرے فریق کی جانب سے بارہا اس مسئلہ پر شرانگیزی کی جارہی ہے جبکہ مسلمان شرانگیزی کے بجائے عزم و حوصلہ کے ساتھ قانونی طور پر اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ اس موقع پر صدر پردیش کانگریس تلنگانہ کیپٹن اتم کمار ریڈی، جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل، جناب خواجہ فخرالدین صدر اقلیتی ڈپارٹمنٹ، جناب جابر پٹیل، جناب عتیق صدیقی خرم کے علاوہ جناب عبداللہ سہیل و دیگر موجود تھے۔ مولانا اسرارالحق قاسمی نے اس موقع پر ہندو مہا سبھا، آر ایس ایس کی تاریخ کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح سے فرقہ پرست تنظیمیں وجود میں آئیں اور ان فرقہ پرست تنظیموں نے کیسے اپنی سیاسی تنظیم کو مستحکم کرنے کے اقدامات کئے۔ انھوں نے بتایا کہ بابری مسجد کی جگہ مندر کا دعویٰ کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی کو مستحکم بنانے کی کوشش کی گئی۔ بہار کے حالیہ انتخابی نتائج کا تذکرہ کرتے ہوئے مولانا اسرارالحق قاسمی نے بتایا کہ بہار کے عوام نے فرقہ پرستوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہوئے یہ ثابت کردیا ہے کہ اس ملک کے خمیر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی و یکجہتی برقرار ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فرقہ پرست عناصر نے منصوبہ بند انداز میں بہار پر قبضہ حاصل کرنے کے لئے منصوبے بناتے ہوئے جو حربے اختیار کئے تھے اُنھیں بہار کے مسلمانوں نے بھی سمجھتے ہوئے سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے سرزمین بہار کی تحریکوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اس سرزمین کے عوام نے جو سمجھ داری کا فیصلہ کیا ہے، اُس سے سرزمین کی اہمیت کا ایک مرتبہ پھر اندازہ ہوا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جن لوگوں کو تقسیم کے وقت ملک چھوڑنا تھا وہ ملک چھوڑ چکے ہیں لیکن ہم اس ملک میں رہنے والے ہیں اور اس ملک کے دستور پر ہمیں یقین ہے۔ ہم اس ملک میں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے اختیارات کا استعمال کرسکتے ہیں۔ ملک کو فرقہ پرستی سے بچانے میں ہمیں اپنا کلیدی کردار ادا کرنا چاہئے۔ جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل تلنگانہ نے اس موقع پر اپنے خطاب کے دوران کہاکہ آج یوم سیاہ 6 ڈسمبر ہونے کے باعث ہم مولانا اسرارالحق قاسمی کو تہنیت پیش نہیں کرپارہے ہیں لیکن دل سے بہار کے عوام اور سنجیدہ قیادت کو مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ کیپٹن اتم کمار ریڈی نے اس موقع پر مولانا اسرارالحق قاسمی کا گاندھی بھون میں خیرمقدم کیا اور توقع ظاہر کی کہ مستقبل میں بھی مولانا اسرارالحق قاسمی، تلنگانہ کانگریس قائدین و کارکنوں کی رہنمائی کرتے رہیں گے۔ جناب عبداللہ سہیل نے اس موقع پر اپنے مختصر خطاب کے دوران کہاکہ بہار انتخابات میں جناح کی سوچ رکھنے والوں کو شکست ہوئی ہے جبکہ جناح کی سوچ کو شکست سے دوچار کرنے والی فکر مولانا آزاد کی فکر تھی جس کے ذریعہ بہار کے عوام نے فرقہ پرستوں کے عزائم کو ناکام بنادیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT