Wednesday , May 24 2017
Home / Top Stories / ’بابری مسجد کاانہدام نرسمہا راؤ کی مہلک سیاسی غلطی ‘

’بابری مسجد کاانہدام نرسمہا راؤ کی مہلک سیاسی غلطی ‘

بدترین سانحہ کے بعد راؤ اپنے رفقاء کے اعتماد سے محروم ہوگئے تھے ، چدمبرم کا انکشاف
ممبئی۔ 20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے آج کہا کہ بابری مسجد کے وجود کو لاحق سنگین خطرات میں اضافہ کا ثبوت دستیاب ہونے کے باوجود اُس (بابری مسجد) کو مرکز کے کنٹرول میں نہ لینا نرسمہا راؤ حکومت کی ایک ’مہلک سیاسی غلطی‘ تھی۔ سابق وزیر فینانس نے کہا کہ وہ اس کو محض سمجھ کی غلطی سمجھ کر نظرانداز نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعہ (بابری مسجد کی انہدامی) کے بعد وزیراعظم نرسمہا راؤ پارٹی میں اپنے رفقاء اور قائدین کے اعتماد سے محروم ہوگئے تھے۔ ’’ٹاٹا ادبی فیسٹیول‘‘ میں ’’نرسمہا راؤ : ایک فراموش کردہ ہیرو‘‘ کے زیرعنوان پیانل مذاکرہ میں حصہ لیتے ہوئے چدمبرم نے مزید کہا کہ ’’متعدد افراد نے نرسمہا راؤ کو خبردار کیا تھا کہ یہ مسجد خطرہ میں ہے۔ (اُس وقت) ہماری حکومت نے یہ بیان بھی جاری کی تھی کہ کسی بھی حالت میں مسجد کو منہدم کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اگر ضروری ہو تو ہم وہاں نیم فوجی دستے اور فوج تعینات کریں گے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کو خطرہ محض اچانک پیدا ہوا تھا اور نہ ہی یہ کارسیوکوں کے وقتیہ اقدام سے تھا۔ چدمبرم نے کہا کہ ’’رامیشورم جیسے دور دراز کے علاقوں سے پتھر لائے جارہے تھے اور وہ (کارسیوک) ٹرینوں میں سفر کررہے تھے۔

پوری ایک ایک ٹرین بُک کروائی جارہی تھی۔ ہری کوئی جانتا تھا کہ (ایودھیا میں) لاکھوں افراد جمع ہوں گے۔ بابری مسجد کو خطرہ لاحق تھا۔ یہ خطرہ 1987-88ء سے ہی پیدا ہوگیا تھا‘‘۔ چدمبرم نے کہا کہ نرسمہا راؤ کو چاہئے تھا کہ وہ فوج اور نیم فوجی دستوں کو متحرک کرتے اور انہیں یہ پوری طرح واضح کردینا چاہئے تھا کہ بابری مسجد دراصل مرکزی حکومت کے کنٹرول میں ہے‘‘۔ چدمبرم نے کہا کہ ’’(ایودھیا میں)  نیم فوجی دستوں کو تعینات کرنے میں ناکامی اور اس علاقہ کو مرکز کے کنٹرول میں نہ لینا ایک ہلاکت خیز سیاسی غلطی تھی جس کے ملک پر بدترین و تباہ کن اثرات مرتب ہوئے‘‘۔ چدمبرم نے کہا کہ ’’(بابری مسجد کو لاحق سنگین خطرہ کے) ثبوت میں روز بہ روز اضافہ ہورہا تھا۔ ہم سب جانتے تھے کہ کارسیوکوں کو وداع کرنے کیلئے پروگرام منعقد ہورہے ہیں۔ سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والا کوئی بھی شخص یہ کہہ سکتا تھا کہ اس مسجد کو سنگین خطرہ ہے۔ اس کے پاس کلہاڑیوں اور ہتھوڑے کہاں سے آئے تھے؟‘‘

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT