Wednesday , May 24 2017
Home / مضامین / بابری مسجد کا قفل کھولنا راجیو گاندھی کی توازن برقرار رکھنے کی کوشش تھی ‘ عارف محمد خان

بابری مسجد کا قفل کھولنا راجیو گاندھی کی توازن برقرار رکھنے کی کوشش تھی ‘ عارف محمد خان

امجد خان
سینئر سیاستدان عارف محمد خان کا کہنا ہے کہ 1986 میں راجیو گاندھی کی قیادت والی اس وقت کی کانگریس حکومت نے مسلم قائدین کے ساتھ ایودھیا میں رام جنم بھومی مندر کے شیلا نیاس کیلئے مسلم قائدین سے معاملت کی تھی ۔ انہوں نے یہ رائے ایسے وقت میں ظاہر کی ہے جبکہ مودی حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے اس مسئلہ کے بیرون عدالت تصفیہ کرلینے کے مشورہ کے بعد اس کی یکسوئی کیلئے کوشش کی جائے ۔ عارف محمد خان کا کہنا ہے کہ بابری مسجد کا قفل کھولنے راجیو گاندھی حکومت کا فیصلہ در اصل ہندو برداری کے مطالبات کی تکمیل تھا کیونکہ اس وقت راجیو گاندھی حکومت پر یہ الزام عائد کیا جا رہا تھا کہ انہوں نے شاہ بانو کیس میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے مطالبات کو تسلیم کرلیا تھا ۔
عارف محمد خان کا کہنا ہے کہ شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو بدلنے کا اعلان اور پھر بابری مسجد میں قفل کھولنے جیسے دونوں کام صرف پندرہ دن کے فرق میں ہوئے ہیں۔ بیشتر لوگ یہی جانتے ہیں کہ یہ دونوں کام در اصل راجیو گاندھی حکومت کی جانب سے توازن برقرار رکھنے کی کوشش تھی اور اس وقت کی حکومت کا شائد یہ احساس تھا کہ ان دونوں کام سے احتجاج پر اتر آئے دونوں ہی فریق مطمئن ہوجائیں گے ۔ عارف محمد خان کو ملک کے ان سیاستدانوں میں شمار کیا جاتا ہے جن کے راجیو گاندھی حکومت سے بہترین روابط رہے تھے ۔ ان کا کہنا ہے کہ دوسری جانب بابری مسجد کا قفل کھولنے سے یہ دعوی عملا تسلیم کرلیا گیا کہ یہ ڈھانچہ ایک مندر کا ہے اور اس کے بعد پھر وہاں پہلے سے جو پوجا پاٹ چل رہی تھی اس کو باضابطہ چلانے کیلئے ایک مندر بنانے کا مطالبہ شدت اختیار کرگیا تھا ۔ کئی گوشوں سے یہ مطالبہ کیا جا رہا تھا ۔ شائد یہی وجہ تھی کہ اس وقت کی حکومت نے وقت کے وزیر داخلہ کی موجودگی میںشیلا نیاس کروانے سے اتفاق کرلیا تھا ۔
1986 میں بابری مسجد کا قفل کھولے جانے کے بعد جو سیاست چل پڑی اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے عارف محمد خان نے کہا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا یہ کہنا تھا کہ شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ملی تشخص کو خطرہ ہے ۔ ملی تشخص کو ایک علیحدہ مخصوص شناخت سمجھا جاتا تھا اور احتجاج کے دوران بورڈ کی جانب سے بہت ہی جارحانہ اور دھمکی آمیز زبان استعما کی گئی تھی ۔ لیکن 15 جنوری 1986 کو جاری کردہ اعلان کے بعد حالات اچانک ہی بدل گئے اور ملک میں جو صورتحال پیدا ہوئی تھی اس کو دیکھتے ہوئے حکومت نے محسوس کیا کہ شاہ بانو کیس سے توجہ ہٹانے کیلئے کچھ کرنے کی ضرورت ہے ۔
اس موقع پر ایودھیا کا مسئلہ حکومت کے کام آیا اور مقامی انتظآمیہ ‘ ضلع مجسٹریٹ اور سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع کورٹ ( فیض آباد ) میں شخصی طور پر حاضر ہوئے اور اور انہوں نے کہا کہ متنازعہ عمارت ( بابری مسجد ) کے اصل باب الداخلہ کا قفل کھولنے سے لا اینڈ آرڈر کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا ۔ ضلع عدالت فیض آباد کے حکم پر بابری مسجد کے قفل فبروری 1986 میں کھولے گئے ۔ اس سارے تنازعہ میں راجیو گاندھی کے رول کا تذکرہ کرتے ہوئے عارف محمد خان نے کہا کہ بابری مسجد کا قفل کھولے جانے کے بعد میں نے راجیو گاندھی سے ملاقات کی تھی ۔ اس وقت انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ قفل کھولے جانے سے پہلے ہی مسلم قائدین کو اس سے مطلع کیا جاچکا تھا ۔
سینئر کانگریس قائدین جیسے این ڈی تیواری ‘ بوٹا سنگھ ‘ ارجن سنگھ اور پی وی نرسمہا راؤ ( جو 1992 6 ڈسمبر کو ہندو فرقہ پرستوں کی جانب سے بابری مسجد کو شہید کئے جانے کے وقت ملک کے وزیر اعظم تھے ) کے رول کے تعلق سے عارف محمد خان نے کہا کہ ان قائدین کا یہ احساس تھا کہ حکومت سماجی اصلاح کار کا رول ادا نہیں کرسکتی اور خاص طور پر کسی اقلیتی برادری کیلئے تو یہ رول قطعی ادا نہیں کیا جاسکتا ۔ ان قائدین پر کسی طرح کی تنقید سے گریز کرتے ہوئے عارف محمد خان نے کہا کہ ایک نقطہ نظر سے ان کا موقف بھی قافل فہم ہی کہا جاسکتا ہے کیونکہ یہ قائدین اپنی سیاسی ساکھ سے محروم ہونا نہیںچاہتے تھے ۔ عارف محمد خان کا کہنا تھا کہ در حقیقت ان کا یہ ماننا تھا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اپنے موقف کے حق میں راجیو گاندھی حکومت پر دباؤ ڈالنے میں ناکام رہے گا لیکن وہ ( راجیو گاندھی ) اپنے سینئر سیاسی رفقائے کار سے مشورہ لینے کیلئے کھلا ذہن رکھتے تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT