Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد کیس ، فوجداری اپیلوں کی سماعت سے سپریم کورٹ جج کا گریز

بابری مسجد کیس ، فوجداری اپیلوں کی سماعت سے سپریم کورٹ جج کا گریز

ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی اور دیگر سنگھ پریوار قائدین پر سازش کے الزامات
نئی دہلی ۔ /10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے جج نے بابری مسجد شہادت کیس جس میں بی جے پی کے سینئر قائدین ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، اوما بھارتی اور دیگر بی جے پی ، وی ایچ پی قائدین کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات کو خارج کردینے سے متعلق اپیلوں کی سماعت سے گریز کیا ۔ جسٹس وی گوپال گوڑا جو جسٹس ارون مشرا پر مشتمل بنچ کی بھی قیادت کررہے ہیں اس خصوص میں کوئی وجہ بتائے بغیر اور کیس کی سماعت سے خود کو لاتعلقکرلیا ہے اور کہا ہے کہ اس مسئلہ کو چیف جسٹس کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ اس کیس کو دیگر بنچ کے سپرد کردیا جائے ۔ فوجداری اپیلوں کو ایک فریق حاجی محمد احمد اور سی بی آئی نے داخل کیا ہے ۔ ایودھیا میں /6 ڈسمبر 1992 ء کو جوشی اور 16 دیگر کے خلاف سازش کے الزامات کو خارج کردینے کے خلاف یہ اپیلیں داخل کی گئی تھیں ۔ ان اپیلوں میں یہ درخواست کی گئی تھی کہ ان قائدین کے خلاف سازش کے الزامات کو برخاست کردینے الہ آباد ہائیکورٹ کے /20 مئی 2010 ء کو دیئے گئے احکام کو کالعدم قرار دیں ۔ ہائیکورٹ نے ان قائدین کے خلاف دفعہ 120B  (مجرمانہ سازش) کو خارج کردیا تھا جبکہ خصوصی عدالت کے فیصلہ کو برقرا رکھا تھا ۔ گزشتہ سال ستمبر میں سی بی آئی نے سپریم کورٹ سے کہا تھا کہ اس کے فیصلہ پر کسی کو بھی اثر انداز ہونے نہیں دیا جائے گا

اور  بی جے پی کے سینئر قائدین کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزام کو خارج کردینا اس کیس کے حق میں بہتر نہیں ہے ۔ سی بی آئی کی فیصلہ سازی کا عمل کامل طور پر آزادانہ ہوتا ہے ۔ تمام فیصلے موجودہ قانون کی روشنی میں درست حقائق کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں ۔ کسی بھی شخص کی جانب سے اس فیصلہ پر اثر انداز ہونے  کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔سی بی آئی کے فیصلہ پر کسی بھی ادارہ کو مداخلت کی اجازت نہیں ہے ۔ عدالتوں میں ان کیسوں کی کس طرز پر وہ پیروی کرتی ہے اس پر بھی کوئی رائے زنی نہیں کرسکتا ۔ ایجنسی نے کہا کہ اس کے فیصلے نہایت ہی سنجیدگی اور پوری احتیاط سے کئے جاتے ہیں ۔ سی بی آئی کے فوجداری کتابچہ کے مطابق ہی سختی کے ساتھ فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ سی بی آئی میں ایسا مضبوط میکانزم ہے کہ ہر عہدیدار کو ہر مسئلہ پر فیصلے کرنے کے کا حق اختیار حاصل ہے ۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے اڈوانی ، جوشی ، اوما بھارتی اور دیگر 16 سے حاجی محبوب احمد کی اپیل پر ردعمل ظاہر کرنے کی خواہش کی تھی ۔ بی جے پی قائدین اڈوانی ، جوشی اور بھارتی کے علاوہ عدالت نے ہماچل پردیش گورنر کلیان سنگھ اور دیگر سے ان کا جواب طلب کیا تھا ۔ شیوسینا سربراہ بال ٹھاکرے اور وی ایچ پی لیڈر آچاریہ گری راج کشور بھی ملزمین میں شامل ہیں ۔ جن دیگر کے خلاف الزامات خارج کردیئے گئے ہیں ان میں ونئے کٹیار ، اور وشنو ہری ڈالمیا  ، نتیش پردھان ، سی آر پٹیل ، اشوک سنگھل ، گری راج کشور (جو اب متوفی ہیں) سادھوی رتھمبرا دیوی ، وی ایچ ڈالمیا اور دیگر شامل ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT