Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد کیس ، ملکیت کا مقدمہ ہے

بابری مسجد کیس ، ملکیت کا مقدمہ ہے

باہمی حل کیلئے سپریم کورٹ کی تجویز پر اسد اویسی کا ردعمل
حیدرآباد /21 مارچ ( پی ٹی آئی ) مجلس اتحادالمسلمین کے صدر و رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی نے آج کہا کہ بابری مسجد کا مقدمہ ملکیت سے متعلق ہے اور وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا اس مسئلہ میں بی جے پی قائدین کے خلاف سازش کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں یا نہیں ۔ اسد اویسی نے یہ ریمارکس سپریم کورٹ کی رائے کے پس منظر میں دئے ۔ عدالت نے فریقین کو مشورہ دیا کہ وہ بابری مسجد ، رام مندر تنازعہ کا حل دریافت کرنے کی کوششیں کریں کیونکہ یہ ایک حساس اور جذباتی مسئلہ ہے ۔ اپنے ٹوئیٹ میں اسد اویسی نے کہا کہ وہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ آیا ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی ، اوما بھارتی وغیرہ کے خلاف بابری مسجد انہدام کیس میں سازش کے الزامات عائد کئے جاتے ہیں یا نہیں ۔ رکن پارلیمنٹ نے اس امید کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ میں بابری مسجد شہادت کیس کے بعد سے زیرالتواء توہین عدالت کی درخواست پر بھی کوئی فیصلہ ہوگا ۔ انہوں نے ٹوئیٹ میں کہا کہ برائے مہربانی یاد رکھئے کہ بابری مسجد کیس ملکیت سے متعلق ہے جس پر الہ آباد ہائی کورٹ نے پارٹنر شپ کیس کی طرح فیصلہ سنایا تھا جس کے خلاف اپیل سپریم کورٹ میں زیر التواء ہے ۔ اسدالدین اویسی نے اِس فیصلہ کے لئے کہ متنازعہ اراضی کا حقدار کون ہے، سپریم کورٹ میں روزانہ کی بنیاد پر سماعت کی حمایت کی۔ اُنھوں نے کہاکہ آر ایس ایس کی ہٹ دھرمی اور سخت موقف کے باعث اِس سے پہلے بات چیت کی 6 مرتبہ کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ آر ایس ایس کو چاہئے کہ وہ اپنی ہی حکومت سے یہ کہے کہ جو اِس وقت اقتدار پر ہے کہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوکر گرمائی تعطیلات کے دوران روزانہ کی بنیاد پر اس معاملہ کی سماعت کے لئے درخواست کرے۔ اُنھوں نے کہاکہ عدالت کو بلاوقفہ سماعت کے ذریعہ فیصلہ کرنے دیجئے۔ اُنھوں نے توقع ظاہر کی کہ سپریم کورٹ تحقیر عدالت کی درخواست پر بھی فیصلہ کرے گی جو بابری مسجد کی 1992 ء میں شہادت کے بعد سے اب تک زیرتصفیہ ہے۔

TOPPOPULARRECENT