Monday , October 23 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد کیس کی سماعت کا آج سے احیاء

بابری مسجد کیس کی سماعت کا آج سے احیاء

سپریم کورٹ کے احکام کے پیش نظر سی بی آئی خصوصی عدالت میں کارروائی

لکھنؤ ۔ /21 مئی (سیاست ڈاٹ کام) بابری مسجد شہادت کیس 1992 ء کی سماعت کا کل سے احیاء ہوگا ۔سی بی آئی کی خصوصی عدالت کی جانب سے اس کیس کی سماعت کی جارہی ہے ۔ سپریم کورٹ نے حال ہی میں حکم دیا تھا کہ کیس کی روزانہ کی اساس پر سماعت کی جاکر دو سال کے اندر فیصلہ کیا جانا چاہئیے ۔ سپریم کورٹ نے 19 اپریل کو خصوصی عدالت کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس معاملہ کی ایک ماہ کے اندر کارروائی شروع کرے اور دو سال کے اندر اپنا فیصلہ سنادے ۔ سی بی آئی عدالت نے ریاست اترپردیش سے دارالحکومت لکھنؤ میں اپنی پہلی سماعت کے دوران وی ایچ پی کے پانچ ملزمین کو ضمانت دی تھی ۔ ان میں رام ولاس ودانتی بھی شامل ہیں جنہوں نے کل ہی سی بی آئی عدالت میں حاضری دی تھی ۔ 59 سالہ رام ولاس ودانتی کے علاوہ جو کل سی بی آئی عدالت میں حاضر ہوئے تھے جہاں وی ایچ پی کے لیڈر چمپت رائے 71 سال ، بیکونتھ لال شرما 88 سال ، مہانت نرتیا گوپال داس 79 اور دھرم داس مہاراج 68 سال 6 ملزمین حاضر ہوئے تھے ۔ البتہ ستیش پردھان حاضر عدالت نہیں ہوئے ۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج ایس کے یادو نے ان کی درخواست ضمانت کو منظوری دیتے ہوئے ہر ایک کو ہدایت دی کہ وہ 20000 روپئے اور اس تعداد میں رقم کی شخصی ضمانت داخل کریں ۔ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ ہدایت دی تھی کہ ایل کے اڈوانی ، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کے بشمول بی جے پی کے سینئر قائدین کے خلاف بابری مسجد شہادت کیس میں سازشی الزامات پر مقدمہ شروع کیا جائے ۔عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ قرون وسطی کے دور کی یادگار کو منہدم کرنا ’’جرم‘‘ ہے ۔ اس مسجد کی شہادت کے دستور کے سیکولر کردار کو دھکہ پہونچایا ہے ۔ عدالت نے سی بی آئی کو ہدایت دی کہ وہ وی وی آئی پی ملزمین کے خلاف مجرمانہ سازش الزامات کو بحال کرے ۔ یہ کیس ان لوگوں کے لئے سیاسی مضمرات کا باعث ہوگا ۔ خاص کر 89 سالہ ایل کے اڈوانی کے خلاف مقدمہ ان کے صدارتی امیدوار کی راہ میں رکاوٹ بنے گی ۔ اڈوانی اس وقت صدرجمہوریہ ہند کے عہدہ کے لئے سرفہرست امیدوار ہیں ۔ تاہم عدالت عظمی نے کہا تھا کہ کلیان سنگھ جو اس وقت راجستھان کے گورنر ہیں جنکے دور چیف منسٹری کے دوران ہی بابری مسجد کو شہید کردیا گیا تھا ۔ دستور کے تحت تحفظ کے حق دار ہیں اور وہ جب تک گورنر کے عہدہ پر رہیں گے انہیں کوئی آنچ نہیں آئے گی ۔ کورٹ آف سیشن کی جانب سے ان کے خلاف الزامات کو فوری طور پر اس وقت وضع کیا جائے گا جب وہ گورنر کے فرائض سے سبکدوش ہوں گے ۔ سپریم کورٹ نے اس کیس کی سماعت میں 25 سال کی تاخیر کرنے پر سی بی آئی کی شدید سرزنش بھی کی تھی کیوں کہ سی بی آئی نے اس مدت کے دوران خاطیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی ۔

TOPPOPULARRECENT