Sunday , May 28 2017
Home / ہندوستان / بابری مسجد کیس ۔ سلسلہ وار واقعات

بابری مسجد کیس ۔ سلسلہ وار واقعات

نئی دہلی ، 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) حسب ذیل سلسلہ وار واقعات 1992ء کے بابری مسجد انہدام کیس سے متعلق ہیں جس میں سپریم کورٹ نے آج سی بی آئی کی اپیل کو قبول کیا اور بی جے پی قائدین ایل کے اڈوانی و دیگر کے خلاف مجرمانہ سازش کا الزام بحال کیا۔
n     ڈسمبر 1992 :  اس کیس میں دو ایف آئی آر درج کئے گئے۔ مسجد کے انہدام پر نامعلوم کارسیوکوں کے خلاف ایک ایف آئی آر۔ دیگر میں بی جے پی قائدین اڈوانی، ایم ایم جوشی اور دیگر کو انہدام سے قبل مبینہ طور پر ’فرقہ پرستانہ‘ تقاریر پر نامزد کیا گیا۔
n     اکٹوبر 1993 :  سی بی آئی نے اڈوانی اور دیگر کو سازش کے مورد الزام ٹھہراتے ہوئے چارج شیٹ داخل کی۔
n     4 مئی 2001 :  خصوصی سی بی آئی عدالت نے ملزمین بشمول اڈوانی، جوشی، اوما بھارتی، بال ٹھاکرے اور دیگر کے خلاف کارروائی حذف کردی۔
n     2 نومبر 2004 :  سی بی آئی نے بی جے پی قائدین کے خلاف کارروائی کو فنی بنیادوں پر حذف کرنے کے جواز کو الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بنچ میںو چیلنج کیا۔ عدالت نے نوٹس جاری کئے۔
n     20 مئی 2010 :  ہائی کورٹ نے عرضی خارج کردی۔ اور کہا کہ سی بی آئی کے مرافعہ میں کوئی محاسن نہیں ہیں۔
n     فبروری 2011 :  سی بی آئی ہائی کورٹ حکمنامہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع۔
n     6 مارچ 2017 :  سپریم کورٹ کا اشارہ کہ وہ بابری مسجد انہدام کیس میں بی جے پی قائدین کے خلاف سازش کے الزام کا احیاء کرنے پر غور کرسکتی ہے۔
n     21 مارچ :  سپریم کورٹ نے ایودھیا تنازعہ کی یکسوئی کیلئے نئی کوششوں کی تجویز رکھی۔
n     6 اپریل :  سپریم کورٹ نے اس کیس میں ٹرائل کی وقت مقررہ میں تکمیل کی حمایت کی اور سی بی آئی کی اپیل پر حکمنامہ محفوظ رکھا۔
n     19 اپریل :  سپریم کورٹ نے اس کیس میں سیاسی قائدین بشمول اڈوانی، جوشی اور مرکزی کابینی وزیر اوما بھارتی کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزام کا احیاء کیا اور اس معاملے میں وی آئی پیز اور کارسیوکوں کے خلاف معرض التواء ٹرائل کو یہ کیس کے ساتھ ملا دیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT