Tuesday , April 25 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد مقدمہ میں اڈوانی، جوشی اور اومابھارتی کو زبردست دھکا

بابری مسجد مقدمہ میں اڈوانی، جوشی اور اومابھارتی کو زبردست دھکا

’مجرمانہ سازش‘ کے الزامات بحال،کالعدم قرار دینے الہ آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ غلط، قرون وسطیٰ کی تاریخی یادگارکا انہدام ’جرم‘ : سپریم کورٹ

 

l   دو علحدہ مقدمات یکجا کردیئے جائیں
l   سیشن کورٹ روزانہ سماعت کرے
l   اندرون دو سال فیصلہ سنایا جائے
l   اس دوران جج کا تبادلہ نہ کیا جائے
l   سی بی آئی گواہوں کی موجودگی یقینی بنائے
l    کلیان سنگھ کو دستوری استثنیٰ
l   25 سال تاخیر کیلئے سی بی آئی کی سرزنش

نئی دہلی ۔ 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) بی جے پی کے سینئر قائدین ایل کے اڈوانی، مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کو سیاسی طور پر انتہائی حساس 1992ء بابری مسجد انہدام مقدمہ میں مجرمانہ سازش کے انتہائی سنگین جرم پر قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا ہوگا۔ سپریم کورٹ نے روزانہ مقدمہ کی سماعت کرتے ہوئے اندرون دو سال یہ کام مکمل کرلینے کا حکم دیا۔ عدالت نے قرون وسطیٰ دور کی تاریخی یادگار کے انہدام کو ’’جرم‘‘ سے تعبیر کیا جس نے ’’دستور کے سیکولر ڈھانچہ‘‘ کو دہلا کر رکھ دیا تھا۔ عدالت نے وی وی آئی پیز ملزمین کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات بحال کرنے سی بی آئی کی درخواست منظور کرلی اور اس کے سیاسی اثرات مرتب ہوں گے بالخصوص 89 سالہ ایل کے اڈوانی پر جو صدرجمہوریہ کے عہدہ کی دوڑ میں پیش پیش ہیں۔ تاہم سپریم کورٹ نے کہا کہ کلیان سنگھ کو جو اس وقت راجستھان کے گورنر ہیں اور جن کی بحیثیت چیف منسٹر اترپردیش میعاد میں متنازعہ عمارت کو منہدم کیا گیا تھا، دستور کے مطابق جب تک وہ اس عہدہ پر برقرار رہیں گے انہیں دستوری تحفط حاصل رہے گا۔ عدالت الزامات وضع کرے گی اور جیسے ہی وہ گورنر کے عہدہ سے ہٹیں گے انہیں ماخوذ کیا  جائے گا۔ عدالت نے قانونی چارہ جوئی میں 25 سال کی تاخیر پر سی بی آئی کی سرزنش کی اور کہا کہ ملزمین کے خلاف کارروائی محض سی بی آئی کے طرزعمل کی بنا نہ ہوسکی کیونکہ وہ مشترکہ قانونی چارہ جوئی کے عمل میں مبینہ جرم کا ارتکاب کرنے والوں کے خلاف استغاثہ سے رجوع نہیں ہورہی ہے اور بعض تکنیکی خامیاں بھی اہم وجوہات ہیں جنہیں بہ آسانی دور کیا جاسکتا ہے لیکن ریاستی حکومت ان خامیوں کو دور نہیں کررہی تھی۔ جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس آر ایف نریمان پر مشتمل بنچ نے کئی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ کرائم نمبر 198/92 (اڈوانی اور پانچ دیگر کے خلاف) عدالت برائے اسپیشل جوڈیشیل مجسٹریٹ رائے بریلی کو عدالت برائے ایڈیشنل سیشن جج (ایودھیا امور) لکھنؤ منتقل کیا جائے۔ بی جے پی کے تین قائدین کے علاوہ دیگر ملزمین جن کے خلاف سازش کے الزامات بحال کئے جائیں گے ان میں ونئے کٹیار، سادھوی رتمبرا، وشنوہری ڈالمیا شامل ہیں جن کے خلاف رائے بریلی میںمقدمہ چلایا جائے گا۔ سیشن کورٹ کی جانب سے تمام کارروائی رائے بریلی سے لکھنؤ منتقل ہونے اور اضافی وضع الزامات کا کام چار ہفتوں میں مکمل کرنے کے بعد یومیہ اساس پر سماعت شروع کی جائے گی اور مقدمہ اختتام کو پہنچنے تک یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ سپریم کورٹ نے کہاکہ کوئی تازہ قانونی چارہ جوئی نہیں کی جائے گی۔ مقدمہ اختتام کو پہنچنے تک سماعت کررہے جج کا تبادلہ نہیں ہوگا۔ مقدمہ کو کسی بھی صورت میں ملتوی نہیں کیا جائے گا۔ اگر سیشن کورٹ یہ محسوس کرے کہ مخصوص تاریخ تک ملتوی کئے بغیر کوئی چارہ نہیں تو ایسا ممکن ہے۔ سیشن کورٹ کو قانونی چارہ جوئی کا عمل مکمل کرتے ہوئے اندرون دو سال فیصلہ سنانا ہوگا۔ سی بی آئی اس بات کو یقینی بنائے کے شواہد قلمبند کرنے کی تاریخ کو گواہ عدالت میں موجود رہیں اور ان کی غیرحاضری کے سبب سماعت ملتوی نہ ہو۔ سپریم کورٹ نے 40 صفحات پر مشتمل فیصلہ میں الہ آباد ہائیکورٹ کے 12 فبروری 2001ء کو سنائے گئے فیصلہ کو ’’غلطی‘‘ قرار دیا، جس میں اڈوانی اور دیگر کے خلاف سازش کے الزامات کالعدم کردیئے گئے تھے۔
زیادہ سے زیادہ 5 سال جیل کی سزاء
بی جے پی سینئر قائدین اور دیگر کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات اگر ثابت ہوجائیں تو 2 سال سے لیکر زیادہ سے زیادہ 5 سال تک جیل کی سزاء ہوسکتی ہے۔ ان تمام کے خلاف مبینہ طور پر مذہب وغیرہ کی بنیاد پر دو مختلف گروپس کے مابین مخاصمت کو فروغ دینے ’’تہمت لگانے‘‘ قومی سالمیت کو نقصان پہنچانے والی حرکات کیلئے تعزیرات ہند کی مختلف دفعات اور بیانات کے ذریعہ عوام میں شرانگیزی پیدا کرنے پر تعزیرات ہند کی مختلف دفعات کے تحت قانونی چارہ جوئی کی جائے گی، جس کیلئے زیادہ سے زیادہ پانچ سال جیل کی سزاء ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی طبقہ کے مذہب کی توہین کے ارادہ سے عبادتگاہ کے مقام کو نقصان پہنچانے یا تقدس پامال کرنے کے الزامات پر دو سال کی سزاء ہوسکتی ہے۔
سپریم کورٹ نے دستوری اختیارات استعمال کئے
سپریم کورٹ نے بابری مسجد کے انہدام کے بعد وی وی آئی پی ملزمین کے خلاف رائے بریلی کورٹ میں قانونی چارہ جوئی کو لکھنؤ کورٹ منتقل کرنے کیلئے دستوری اختیارات استعمال کئے۔ اسی طرح دونوں مقدمات کو یکجا کرتے ہوئے سماعت ہوسکے گی۔ عدالت نے لاطینی محاورے ’’انصاف ہونے دیجئے خواہ کچھ ہوجائے‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے ایل کے اڈوانی اور مرلی منوہر جوشی کا یہ استدلال مسترد کردیاکہ مجرمانہ سازش کے الزامات بحال کرنے سے ان کے بنیادی حقوق میں رکاوٹ ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT