Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد کی بازیابی مجلس بچاؤ تحریک کا نصب العین

بابری مسجد کی بازیابی مجلس بچاؤ تحریک کا نصب العین

اردو گھر میں احتجاجی جلسہ، صدرایم بی ٹی محمد مجید اللہ خان فرحت و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔/4ڈسمبر، ( پریس نوٹ ) صدر مجلس بچاؤ تحریک محمد مجید اللہ خان فرحت نے آج اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ مجلس بچاؤ تحریک بابری مسجد کی بازیابی تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ بابری مسجد کی بازیابی ہی مجلس بچاؤ تحریک کا نصب العین ہے۔ کوئی طاقت مجلس بچاؤ تحریک اور اس کے کارکنوں کو بانی تحریک محمد امان اللہ خان صاحب کے منشاء و ومقصد و عزائم اور جدوجہد کو جاری رکھنے سے روک نہیں سکتی۔ صدر تحریک نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 ڈسمبر کو اپنے کاروبار بند رکھتے ہوئے پرامن طور پر بند منائیں اور ملی و دینی حمیت کا ثبوت دیں۔ محمد مجید اللہ خان فرحت نے اردو گھر مغلپورہ میں منعقدہ بابری مسجد کی برسی کے موقع پر احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ 6ڈسمبر 1992 کو اس وقت کے وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ اور فرقہ پرست طاقتوں کے ساتھ ایک منصوبہ بند سازش کے ذریعہ 500سالہ قدیم تاریخی بابری مسجد کو دن دھاڑے شہید کرتے ہوئے ملک کے قانون اور سیکولرازم کو پامال کردیا تھا۔ اس واقعہ کے 18سال بعد 2010 میں الہ آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ صادر کرتے ہوئے دستور کی دھجیاں اڑادی۔ایم بی ٹی ترجمان محمد امجد اللہ خان خالد نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت پر بانی تحریک غازی ملت الحاج محمد امان اللہ خان صاحب نے قیادت کی خاموشی کے خلاف احتجاج بلند کرتے ہوئے پولیس کی گولیوں کے روبرو اپنا سینہ سپر کردیا تھا جس پر انہیں پارٹی سے معطل کیا گیا اس کے باوجود بانی تحریک نے اپنی آخری سانس تک بابری مسجد کی بازیابی کیلئے جدوجہد جاری رکھی تھی۔ امجد اللہ خان خالد نے بابری مسجد کی شہادت کی 24ویں برسی کے موقع پر ٹی آر ایس کے اقلیتی قائدین کی خاموشی پر افسوس کا اظہار کیا۔ ٹی آر ایس کے اقلیتی صدر کی حیثیت سے اس وقت کے گورنر کو بابری مسجد کی بازیابی کیلئے تحریری طور پر نمائندگی کی تھی۔ مولانا طارق قادری، سید مصطفی محمود جنرل سکریٹری ایم بی ٹی، مولانا سید طاہر، عبدالستار مجاہد کے علاوہ دیگر قائدین نے جلسہ کو مخاطب کیا۔ جلسہ کا آغاز نوال الرحمن کی قرأت اور مولوی نصیر الدین کی نعت شریف سے ہوا جبکہ نظامت کے فرائض سکندر مرزا نے انجام دیئے۔ جلسہ میں مسلمانوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ جبکہ اردو گھر کے اطراف واکناف میں بھاری تعداد میں پولیس کو تعینات کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT