Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد کی دوبارہ بازیابی کا مطالبہ ، اندرا پارک پر دھرنا

بابری مسجد کی دوبارہ بازیابی کا مطالبہ ، اندرا پارک پر دھرنا

دلتوں اور قبائیلوں کو ساتھ لے کر جدوجہد کرنے مسلمانوں کو مشورہ ، ورا وراء راؤ کی تقریر
حیدرآباد۔6ڈسمبر(سیاست نیوز)فورم برائے ہندوفسطائیت کے زیر اہتمام بابری مسجد کی بازیابی کامطالبہ کرتے ہوئے اندر پارک دھرنا چوک پر منعقد ہ احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے انقلابی مصنف ورا ورا رائو نے کہاکہ ہم مرکزی حکومت سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ چوبیس سال قبل اترپردیش کے شہر ایودھیا میں ہندو فسطائی طاقتوں کے ہاتھوںڈھائی گئی تاریخی اہمیت کی حامل بابری مسجد کی اسی مقام پر دوبارہ بازیابی عمل میںلائی جائے۔ورا ورا رائو نے کہاکہ چند گوشوں سے سوال کیاجارہا ہے کہ پچھلے دوسالوں میں دلتوں اور قبائیلوں کو ساتھ لیکر ہمارا فورم بابری مسجد کی شہادت پر احتجاج کیوںمنعقد کررہا ہے جس کے جواب میںورا ورا رائونے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کے وقت اترپردیش میںبی جے پی کی حکومت تھی اورکلیان سنگھ وہاں کے چیف منسٹر تھے اور اترپردیش میںمجوزہ ریاستی انتخابات سے قبل ہم بی جے پی کے فرقہ پرست نظریہ کے متعلق عوام میںشعور بیدارکرتے ہوئے انہیں دوبارہ اقتدار میںانے سے روکنے اور فسطائی طاقتوں کے رام مندرکے تعمیر کے خواب کوچکنا چور کرنے کے لئے یہ احتجاج منظم کررہے ہیں۔ ورا ورا رائونے کہاکہ دلت سماج کو اس بات کی طرف توجہہ دینے کی ضرورت ہے کہ فسطائیوں نے بابری مسجد کی شہادت کے لئے 6ڈسمبر کے دن کا انتخاب کیو ں کیا ہے۔انہو ں نے کہاکہ فسطائی طاقتیں بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکرکی یوم پیدائش کی خوشی کو نذ ر انداز کرنے کے لئے یہ کام کیاہے ۔وراورا رائو نے بابری مسجد کی اسی مقام پر دوبارہ تعمیر کے لئے دلت اورمسلمانوں کو متحدہوکر تحریک چلانے کی حمایت کی۔قومی جنرل سکریٹری سی پی ائی ایم ایل گوردھن ریڈی نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بابری مسجد کی شہادت میں ملوث زعفرانی طاقتوں پر مسلمانوں کو احساس کمتری کاشکار بنانے کی کوشش کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہندوستان کے پچیس کروڑ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے والوںکے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لئے پسماندہ طبقا ت کااتحا د ضروری ہے۔ گوردھن ریڈی نے کہاکہ بابری مسجد کی بازیابی کے لئے چلائی جانے والی ہر تحریک میں سی پی ائی ایم ایل ہمیشہ ساتھ رہے گی۔تلنگانہ اسٹیٹ سکریٹری فورم برائے ہندوفسطائیت برم ابھینو نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مودی حکومت کے عامرانہ رویہ پر برہمی کا اظہار کیا۔انہوںنے کہاکہ مودی حکومت کے ڈھائی سالہ اقتدار میںآر ایس ایس اور کی محاذی تنظیموں نے اقلیتوں اور دلتوں کو اپنا نشانہ بنایاہے۔ انہوں نے کہاکہ کبھی گائو رکشہ تو کبھی لوجہاد کے عنوان پر دلتوں اور مسلمانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کیاجارہا ہے۔انہوںنے کہاکہ مودی حکومت میںہندوفسطائی طاقتوں کے بڑھتے اثر کو روکنے کے لئے دلتوں ‘ اقلیتوں اور قبائیلوں کا ایک متحد ہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔صدر پی او ڈبلیو سندھیا نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بابری مسجد کی دوبارہ اسی مقا م پر تعمیر کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مودی حکومت او رہندوفسطائیت کے خلاف نعرے لگاتے ہوئے کہاکہ ہندوفسطائی طاقتیں ہندوستان کے سیکولر شبہہ کو متاثرکرنے کوشاں ہیں کیونکہ ان کا جمہوریت پر ایقان ہی نہیںہے۔ جناب منیر الدین مجاہد نے کہاکہ اقتدارحاصل ہونے سے قبل تمام سیاسی قائدین سکیولر رہتے ہیںمگر اقتدار حاصل ہونے کے فوری بعد وہ اعلی ذات والوں کے اعلی کار رول ادا کرنا شروع کردیتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو کے اکیلی جدوجہد کا نتیجہ نہیںہے اس میںریاست تلنگانہ کے مسلمانوں نے بھی کافی اہم رول ادا کیا ہے بالخصوص دلتوں اور مسلمانوں نے ایک ساتھ ملکرعلیحدہ تلنگانہ کی عظیم اور کامیاب تحریک چلائی ۔ انہوںنے اس کے نتیجے میںہمیںملا کیاشرتی اور ودیا ساگر کے ساتھ آلیر فرضی انکاونٹرس کے ذریعہ بے قصور دلتوں اور مسلمانوں کی نعشیں ہمیںتحفے میںدی گئی۔ انہوںنے کہاکہ ہوم منسٹر تلنگانہ اسٹیٹ کااقتدا ر سے پہلے تلنگانہ کے سیکولر قائدین میںشمار کیاجاتا تھا مگر ہوم منسٹر بننے کے ساتھ ہی انہو ںنے اپنا رنگ دیکھا ناشروع کردیا۔ منیر الدین مجاہد بابری مسجد کی شہادت ہمارے لئے کبھی نابھولنا والا واقعہ ہے او رہم بابری مسجد کی بازیابی تک اپنی جدوجہد کوجاری رکھیںگے۔ مولانا حامد حسین شطاری صدر سنی علماء بورڈنے کہاکہ مغلوں کی سات سوسالہ تاریخ میں کو ئی ایک ایسا واقعہ رونما نہیںہوا جس میںانہوں نے کسی کے مذہبی اور مقد س مقا م کا انہدام کیا ہو یا پھر مہندم کرنے والو ں کاساتھ دیا ہے۔مولانا نے کہاکہ حامد حسین شطاری نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ حوصلہ اور عزم مصمم کے ساتھ چلائی جانے والی ہر تحریک کامیاب ہوگی۔مولانا سید طار ق قادری جنرل سکریٹری صوفی اکیڈیمی نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے بابری مسجد کی شہادت کو جمہوری ہندوستان پر ایک بڑا سوالیہ نشان قراردیا۔جناب مجاہد ہاشمی نے احتجاجی دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے ہندوستان میںجہاں فسطائی طاقتیں ملک کی سالمیت کے خطرہ بنے ہوئے ہیں وہیں اس ملک کے دلت اورقبائیلی بردارن نے بابری مسجد کی شہادت کے حساس مسئلہ پر احتجاج منظم کرتے ہوئے فسطائی طاقتوں کو منھ تور جواب دینے کاکام کررہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کے دن کو مسلمان کبھی فراموش نہیں کرسکے گا۔مختلف مکاتب فکر اور فلاحی تنظیموں کے ذمہ داران نے بھی اس احتجاجی دھرنے میںشرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT