Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / بابری مسجد کی شہادت روکنے سے نرسمہا راؤ کا عمداً گریز

بابری مسجد کی شہادت روکنے سے نرسمہا راؤ کا عمداً گریز

احتجاجی مکتوب کا جواب نہیں دیا گیا، چیف منسٹر آسام ترون گوگوئی کا انکشاف

نئی دہلی ۔ 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) آسام کے چیف منسٹر ترون گوگوئی نے جوکہ مرکزی کابینہ میں شامل تھے، بابری مسجد کی شہادت کے بعد وزیراعظم نرسمہا راؤ کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انہیں اس طرح کے واقعہ کی اجازت نہیں دینی چاہئے تھی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ ترون گوگوئی نے اپنی خودنوشت سوانح حیات جس میں سیاسی زندگی کا احاطہ کیا گیا۔ یہ انکشاف کیا ہے وہ، نرسمہا راؤ حکومت میں وزیر فوڈ پراسسنگ انڈسٹری تھے۔ مسٹر راؤ کو ایک جدت پسند شخص قرار دیا جنہوں نے اپنے دورحکومت میں کئی ایک اصلاحات کو روبہ عمل لایا تھا۔ تاہم راؤ کو پارٹی پر قابو نہیں تھا لیکن بابری مسجد انہدام سے نمٹنے میں مناسب طریقہ کار اختیار نہیں کیا گیا۔ ترون گوگوئی نے کہا کہ بحیثیت وزیر تمام حدود کو توڑتے ہوئے ایک مکتوب روانہ کیا اور کہا تھا کہ بابری مسجد کی شہادت کو ہر قیمت پر روکنا چاہئے اور انہیں اقلیتی فرقہ کے لیڈروں کو اعتماد میں لینا چاہئے اور میں نے خبردار بھی کیا تھا کہ مسجد کی شہادت سے اقلیتیں کانگریس سے بیگانہ ہوسکتی ہیں لیکن میرے مکتوب کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ مسلسل چوتھی میعاد کیلئے چیف منسٹر کے عہدہ کے دعویدار مسٹر ترون گوگوئی نے کہا کہ ان کے پاس کوئی جادو کی چھڑی نہیں ہے اور نہ ہی کرشمہ کی توقع رکھتے ہیں لیکن انہیں امید ہیکہ 15 سالہ دورحکمرانی ہی کانگریس کی کامیابی کی ضمانت ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی 15 سالہ کارکردگی پر مطمئن ہیں لیکن میں یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ 10 میں سے 10 نشانات مل جائیں گے۔

واضح رہیکہ ترون گوگوئی پہلی مرتبہ 2001ء میں آسام کے چیف منسٹر منتخب ہوئے اس وقت ریاست میں شورش پسندی نقطہ عروج پر تھی اور ہر طرف قتل و خون کا بازار گرم تھا حتیٰ کہ سرکاری ملازمین کو مہینوں سے سے تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی تھیں۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ ان کی 15 سالہ دورحکمرانی میں آسام کی تاریخ تبدیل ہوگئی ہے۔ 81 سالہ کانگریس لیڈر نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ انہوں نے شخصی طور پر مہاتما گاندھی سے ملاقات نہیں کرسکے گوکہ وہ گاندھی کے اصولوں اور تعلیمات پر عمل پیرا ہیں۔ ترون گوگوئی جنہیں اندرا گاندھی اور ان کے فرزندوں کے ساتھ کام کرنے کا اعزاز ہے۔ بتایا کہ راجیو گاندھی اپنے بھائی سنجے گاندھی سے بالکلیہ مختلف تھے جبکہ سنجے گاندھی ہر ایک مسئلہ کا باریک بینی سے جائزہ لیتے تھے اور تفصیلات طلب کرتے تھے۔ اس کے برخلاف راجیو گاندھی اپنے رفقاء کو مکمل اختیار اور فیصلوں کیلئے آزادی دی تھی۔

TOPPOPULARRECENT