Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد کی شہادت ہندوستان کی تاریخ کا المناک سانحہ

بابری مسجد کی شہادت ہندوستان کی تاریخ کا المناک سانحہ

6 دسمبر کو اندرا پارک پر احتجاجی دھرنا ، وراء ورا راؤ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔2ڈسمبر(سیاست نیوز) فورم برائے ہندوفسطائیت کے زیر اہتمام منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انقلابی مصنف ورا ورا رائونے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت ہندوستان کی تاریخ کا سب سے المناک سانحہ ہے ۔ انہوں نے بابری مسجد کی شہادت کے ذریعہ ہندوستان کے جمہوری نظام کو داغ دار بنانے کا بھی ہندوفسطائی طاقتوں پر الزام عائد کیا۔ ورا ورا رائو نے آزادی سے قبل ہندوستان میں مسلمانوں  اور  دلتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کا بھی اس موقع پرذکر کیا۔ ورا ورا رائو نے کہاکہ 1984 میں سکھوں کو نشانہ بنایاگیا اس کے بعد 1992 میں بابری مسجد کی شہادت اور پھر 2002 کے گجرات فسادات میں مسلمانوں کی نسل کشی کے ذریعہ ہندوفسطائی طاقتیں ہندوستان میںاقلیتوں کو احساس کمتری کاشکار بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ورا ورا رائو نے کہاکہ بٹوارے کے وقت مسلمانوں کا قتل عام کیاگیا تاکہ ان کے حوصلے کمزور پڑجائیں ۔ انہوں نے کہاکہ اسلام اورمسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ سیمی کے دہشت گرد کا نام دیکر مسلم نوجوانوں کو بے رحمی کے ساتھ انکاونٹر میںہلاک کیاجارہا ہے ۔مسٹر رائو نے آلیر انکاونٹر میںمسلم نوجوانوں کے بے رحمانہ قتل کابھی اس موقع پر ذکر کیا۔ انہوں نے کہاکہ آلیراور بھوپال انکاونٹر میںہلاک ہونے والے مسلم نوجوانوں کی بہت جلدباعزت رہائی عمل میںآنے والی تھی مگر پولیس نے انہیںرہا ہونے سے پہلے ہی انکاونٹر کے نام پر قتل کردیا۔ورا ورا رائو نے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ مسلمان اور پسماندہ طبقات جن میںدلت ‘ قبائیلی ‘ گریجن اور دیگر شامل ہیں کا ایک متحد پلیٹ فارم تیار کیاجائے جو ہندوفسطائی طاقتوں کے خلاف منظم تحریک چلاسکے۔ ورا ورا رائو نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت کا سانحہ کبھی فراموش نہیںکیاجاسکتا۔ اسی وجہہ سے ہم فورم برائے ہندوفسطائت کے ساتھ ملکر 6ڈسمبر کو اندرا پارک دھرنا چوک پر ایک احتجاجی دھرنا منظم کریں گے جس میںدلت ‘ قبائیلی ‘ اور مسلمانوں کے بشمول دیگراقلیتی طبقات کے قائدین اور کارکنان شامل ہونگے ۔ انہوں نے اس احتجاجی دھرنے میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شریک ہوکر دھرنے کو کامیاب بنانے کی عوام سے اپیل کی ہے۔مولانا سید طار ق قادری نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ جمہوری ہندوستان میں بابری مسجد کی شہادت کے ذریعہ دستورکا مذاق اڑایا گیا۔24سال سے انصاف کی جانب پیش رفت کا ہندوستان کے مسلمان انتظار کررہے ہیں۔ جناب مجاہد ہاشمی نے میڈیاسے بات کرتے ہوئے بابری مسجد کی بازیابی کی تحریک میںغیر مسلم برداران وطن کی حصہ داری کو ناقابلِ فراموش قراردیا۔فورم برائے ہندوفسطائیت تلنگانہ اسٹیٹ کنونیر برم ابھینو نے کہاکہ بابری مسجد کی شہادت میںملوث فرقہ پرست قائدین کو کابینہ میں شامل کرکے بی جے پی حکومت نے مسلمانوں کی دلآزاری کی کوشش کی ہے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ ہم بابری مسجد کی شہادت ‘ گجرات فسادات ‘ آلیر انکاونٹر اور بھوپال انکاونٹر کے علاوہ ایسے ان تمام واقعات کی سختی کے ساتھ مذمت کرتے ہیں جن میںبے قصور مسلمانوں کا خون بہایاگیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT