Friday , March 24 2017
Home / ہندوستان / بابری مسجد کے انہدام پر اڈوانی ، جوشی ، اوما بھارتی کیخلاف مقدمہ ممکن

بابری مسجد کے انہدام پر اڈوانی ، جوشی ، اوما بھارتی کیخلاف مقدمہ ممکن

تکنیکی بنیادوں پر مقدمہ کا اخراج ناقابل تسلیم ،یوپی کی دو عدالتوں کے بجائے لکھنو بنچ پر مقدمہ کی سماعت کیلئے سپریم کورٹ کا اشارہ
نئی دہلی۔6 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) سپریم کورٹ نے آج کہا کہ وہ ایل کے اڈوانی اور دیگر کے خلاف بابری مسجد کی شہادت کے مقدمہ میں تکنیکی بنیادوں پر مقدمہ کے اخراج کو تسلیم نہیں کرے گی اور اُس نے اُن تمام کے خلاف مجرمانہ سازش کے الزامات کے تحت مقدمہ کے احیاء کا اشارہ دیا۔ اڈوانی اور دیگر بی جے پی قائدین مرلی منوہر جوشی اور اوما بھارتی کے خلاف مقدمہ خارج کرنے کے بارے میں زبانی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تکنیکی بنیادوں پر ان کے خلاف مقدمے کے اخراج کو تسلیم نہیں کرتی ۔ سپریم کورٹ کی بنچ جسٹس پی سی گھوش اور جسٹس آر ایف نریمان پر مشتمل تھی ۔ انھوں نے کہاکہ وہ ضمنی فرد جرم عائد کرنے کی اجازت دیں گے ۔ مقدمہ کی آئندہ سماعت 22 مارچ کو مقرر کی گئی ہے ۔ قبل ازیں سپریم کورٹ نے اترپردیش کے ایودھیا میں واقع متنازعہ ڈھانچے کو تباہ کرنے کے کیس کی سماعت دو الگ الگ عدالتوں میں کرنے کی بجائے ایک جگہ کرنے کا آج اشارہ دیا۔عدالت عظمی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی، سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی، مرکزی وزیر اوما بھارتی اور دیگر رہنماؤں کے خلاف مجرمانہ مقدمہ چلائے جانے کے بھی اشارہ دیے ہیں۔جسٹس پناکي چندر گھوش اور جسٹس روھگٹن ایف نریمن کی بنچ مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) اور حاجی محبوب احمد کی درخواست پر سماعت کر رہی ہے ۔سماعت کے دوران عدالت عظمی نے سی بی آئی سے پوچھا کہ مندرجہ بالا رہنماؤں کے خلاف الہ آباد ہائی کورٹ نے جب مجرمانہ سازش رچنے کی دفعہ خارج کی تھی تو ضمنی چارج شیٹ داخل کیوں نہیں کی گئی۔ عدالت نے کہا کہ صرف تکنیکی بنیاد پر کسی کو راحت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بنچ نے یہ بھی پوچھا کہ معاملے کی سماعت دو الگ الگ عدالتوں میں کرنے کے بجائے ایک ہی جگہ کیوں نہیں کی جا سکتی؟عدالت نے کہا کہ رائے بریلی میں چل رہی سماعت کو لکھنؤ منتقل کیوں نہ کر دیا جائے ، کیونکہ اس سے منسلک ایک معاملہ کی سماعت پہلے ہی وہاں جاری ہے ۔ کورٹ نے معاملے کی اگلی سماعت 22 مارچ کو مقرر کیا ہے ۔قابل ذکر ہے کہ ایودھیا میں متنازعہ ڈھانچہ منہدم کئے جانے کے بعد اڈوانی، ریاست کے سابق وزیر اعلی کلیان سنگھ، جوشی، بھارتی اور بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے کئی لیڈروں سے مجرمانہ سازش رچنے کا معاملہ ہٹا لیا گیا تھا۔ اس فیصلے کے خلاف عدالت عظمی میں اپیل کی گئی ہے ، جس کی سماعت چل رہی ہے ۔ پٹیشن میں الہ آباد ہائی کورٹ کے 20 مئی 2010 ء کے حکم کو مسترد کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے خصوصی عدالت کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 120 بی (مجرمانہ سازش) ہٹا دیا تھا۔گزشتہ سال ستمبر میں سی بی آئی نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ اپنی پالیسی کا تعین خود کرتی ہے اور نہ ہی وہ کسی سے متاثر ہوتی ہے نیز سینئر بی جے پی لیڈروں کے خلاف مجرمانہ سازش رچنے کے الزامات ہٹانے کی کارروائی اس کے کہنے پر نہیں ہوئی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT