Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / بادل نہ برسیں تو تالاب کی سیرابی ناممکن

بادل نہ برسیں تو تالاب کی سیرابی ناممکن

تلنگانہ میں زیر آب پانی کی تشویشناک صورتحال ، مستقبل میں مزید مشکلات
حیدرآباد۔13جون(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ شدید پانی کی قلت اور زیر زمین سطح آب میں گراوٹ تشویشناک حد تک بڑھتی جا رہی ہے۔ریاست تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے بارش کے پانی کو محفوظ کرنے کیلئے مشن کاکتیہ کے ذریعہ آبپاشی پراجکٹس کو بہتر بنانے کے علاوہ نئے تالاب کی تعمیر عمل میں لائی گئی لیکن جب بادل ہی نہیں برسیں گے تو کہاں سے ان تالابوں کو سیر آب کیا جا سکے گا؟ زیر زمین سطح آب میں آرہی گراوٹ مستقبل قریب میں مزید کئی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ ریاست کے تمام اضلاع میں مجموعی اعتبار سے ایک تا پانچ میٹر زیر زمین سطح آب میں گراوٹ ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ مئی 2015کی سطح آب اور اب موجودہ سطح آب کے ریکارڈس کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاست میں اندرون ایک برس زیر زمین سطح آب میں 20فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جس سے نمٹنا دشوار کن ثابت ہو سکتا ہے۔ ریاست میں سال گزشتہ ناکافی بارش کے سبب نہ صرف تالاب خشک ہوئے ہیں بلکہ زیر زمین سطح آب میں گراوٹ نے تشویش میں مبتلاء کر دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے بموجب ریاست میں مانسون کی آمد میں مزید تین یوم درکار ہوں گے جبکہ ریاست کے کئی اضلاع میں گرمی کی شدت کی برقراری کی پیش قیاسی بھی کی گئی ہے۔ مانسون کی آمد کیلئے مزید 3-4دن کے انتظار نے زرعی مزدوروں میں تشویش پیدا کردی ہے چونکہ سال گزشتہ بھی ناکافی بارش کا سب سے زیادہ اثر زرعی مزدور اور کسانوں پر پڑا تھا لیکن ناکافی بارش کے اثرات اب عوام پر مرتب ہونے لگے ہیں۔ شہر حیدرآبار میں زیر زمین سطح آب میں دیگر اضلاع کے مقابل حالت بہتر تصور کی جا رہی ہے لیکن اس کو برقرار رکھا جانا دشوار کن سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حیدرآباد میں جو واٹر پلانٹ چلائے جار ہے ہیںان کی وجہ سے مزید گراوٹ ہو سکتی ہے۔مئی 2015میں ریکارڈ کی گئی مزیر زمین سطح آب کے مطابق میدک میں سطح 20.08تھی جو اب 2016میں 25.52تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح ضلع نظام آباد میں 2015میں ریکارڈ کردہ زیر زمین سطح آب 15.38تھی جو کہ اب20.46تک پہنچ چکی ہے۔ ضلع رنگا ریڈی میں 2015کے دوران سطح آب 14.96ریکارڈ کی گئی تھی اور اب یہ 18.20تک پہنچ چکی ہے۔ محبوب نگرمیں 2015کے دوران زیر زمین سطح آب 13.58ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اب یہ سطح آب 17.55تک پہنچ چکی ہے۔ نلگنڈہ میں سال گزشتہ سطح آب 12.55رہی اور اب یہ 15.65ہو چکی ہے۔ کریم نگر میں سال 2015کے دوران سطح آب11.84تھی لیکن آبی سال کے اختتام میں پر یہ 13.67تک پہنچ چکی ہے۔ ضلع ورنگل کی صورتحال بھی کچھ اسی طرح ہو چکی ہے۔ ورنگل میں سال گزشتہ زیر زمین سطح آب 12.32ریکارڈ کی گئی تھی اور اس سال 12.86ریکارڈ کی گئی ہے۔ عادل آباد میں زیرزمین سطح آب 11.26تک پہنچ چکی ہے جبکہ سال گزشتہ یہ 10.09تھی۔ کھمم میں سال گزشتہ زیر زمین سطح آب 10.11ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اب یہ 10.98تک پہنچ چکی ہے۔ اضلاع میں ناکافی بارش کا اثر زرعی شعبہ کے ساتھ ساتھ زیر زمین سطح آب پر بھی اثر ہوا لیکن شہر کے نواحی علاقوں میں صورتحال ابتر ہوتی جارہی ہے اور بورویل سوکھنے لگے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی پیدا ہوتی جا رہی ہے۔ محکمہ موسمیات کی جانب سے کی جانے والی پیش قیاسی کے مطابق ریاست تلنگانہ میں گرمی کی شدت برقرار رہنے کا امکان ہے اور کچھ اضلاع میں درجہ حرارت 40ڈگری تک رہنے کا خدشہ ظاہر کیا جار ہا ہے جو کہ شروع ہونے جارہے موسم باراں کیلئے اچھی علامت تصور نہیں کیا جار ہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سال بھی ناکافی بارش کی صورت میں حالات انتہائی سنگین نوعیت اختیار کر سکتے ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT