Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / بارسلونا میں ایک شخص نے ویان ہجوم میں گھسادی ، 13 ہلاک

بارسلونا میں ایک شخص نے ویان ہجوم میں گھسادی ، 13 ہلاک

۔50 افراد زخمی ، مصروف ترین سڑک پر بھگدڑ ،داعش نے ذمہ داری قبول کی

بارسلونا ۔ /17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) بارسلونا کی مشہور سڑک پر ایک ڈرائیور نے دانستہ طور پر ویان ہجوم میں گھسادی جس کے نتیجہ میں 13 افراد ہلاک ہوگئے اور ڈرائیور قریبی بار میں گھس گیا ۔ اسپین کے دوسرے سب سے بڑے شہر بارسلونا میں پیش آئے اس واقعہ کے بارے میں عہدیداروں نے بتایا کہ لاس رمبلاس میں یہ ’’دہشت گرد حملہ‘‘ تھا ۔ پولیس ذرائع کے مطابق داعش نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ مقامی سکیورٹی ذرائع نے کہا کہ ویان حملے میں 13 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ 50زخمی ہوئے ہیں جن میں 10 کی حالت تشویشناک ہے ۔ پولیس ذرائع نے کہا کہ ایک شخص کو اس حملے کے سلسلے میں گرفتار کیا گیا ہے تاہم اس کی شناخت یا حملے میں رول کے تعلق سے کوئی وضاحت نہیں کی گئی ۔ اس سے پہلے پولیس نے کہا تھا کہ ویان ڈرائیو رکی تلاش ہے جو ٹکر دینے کے بعد فرار ہوگیا ۔ ایک سرکاری عہدیدار نے ٹوئٹر پر بتایا کہ 50 افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ مشہور لاس رمبلاس بارسلونا کی مصروف ترین سڑکوں میں ایک ہے اور عام طور پر یہاں سیاحوں کا ہجوم رہا کرتا ہے ۔ رات کے وقت پروگرامس بھی ہوتے ہیں ۔ پولیس نے ایک بیان میں کہا کہ ایک شخص نے جو ویان چلارہا تھا ، گاڑی ہجوم میں گھسادی ۔

یہ واقعہ جہاں پیش آیا پولیس نے اس علاقہ کا محاصرہ کرلیا ہے اور کئی امبولینس بھی یہاں پہونچ گئی ہیں ۔ پولیس نے ایک ٹوئیٹ میں عوام سے کہا کہ وہ متاثرہ زون کے قریب نہ جائیں ۔ ایک عینی شاہد عامر انور نے برطانیہ کے اسکائی نیوز ٹیلی ویژن کو بتایا کہ وہ لاس امبلاس کی سڑک پر گزررہا تھا اور یہاں سیاحوں کا غیرمعمولی ہجوم تھا کہ اچانک یہ حملہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اچانک مجھے ٹکر کی آواز سنائی دی اور لوگ چیخ و پکار کررہے تھے ۔ میں نے دیکھا کہ قریب موجود ایک خاتون اپنے بچوں کیلئے چیخ رہی تھی ۔ پولیس بروقت یہاں پہونچ گئی اور عوام کو دور کرنا شروع کردیا ۔ یوروپ میں حالیہ چند سال کے دوران کئی دہشت گرد حملوں میں گاڑیوں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ فرانس کے شہر میں بھی اسی نوعیت کا حملہ ہوا تھا جس میں 86 افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ اسپین میں اب تک اس نوعیت کے واقعات پیش نہیں آئے حالانکہ قریبی فرانس ، بلجیم اور جرمنی دہشت گرد حملوں سے دہل گئے تھے ۔ مارچ 2004 ء میں اسپین میں یوروپ کا سب سے خطرناک دہشت گرد حملہ ہوا تھا جس میں میڈریڈ میں ایک ٹرین کو بم دھماکوں سے اڑادیا گیا تھا ۔ اس کارروائی میں 191 افراد ہلاک ہوئے تھے اور القاعدہ نے حملہ کا دعویٰ کیا تھا ۔ ایک اور عینی شاہد اتھان اسپائی بے نے بتایا کہ ویان کی عوام کو ٹکر کے فوری بعد وہ اور دیگر چند افراد نے قریبی چرچ میں پناہ لی ۔ انہوں نے کہا کہ اچانک افراتفری پھیل گئی ۔ لوگ چیخ و پکار کرتے ہوئے دوڑ رہے تھے اور بھگدڑ کی کیفیت تھی ۔

کوئی بھی ہندوستانی ہلاک یا زخمی نہیں ہوا
نئی دہلی ۔ /17 اگست (سیاست ڈاٹ کام) بارسلونا دہشت گردحملے میں کسی بھی ہندوستانی شہری کو گزند نہیں پہونچی ہے ۔ مرکزی وزیر خارجہ سشما سوراج نے آج بتایا کہ وہ اسپین میں ہندوستانی سفارتخانے کے ساتھ مسلسل ربط رکھے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے ہندوستانی سفارت خانے کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی نمبرس بھی ٹوئٹ کئے ۔ ایک اور ٹوئٹ میں سشما سوراج نے بتایا کہ وہ اسپین میں ہندوستانی سفارتخانہ سے مسلسل ربط رکھی ہوئی ہیں ۔اس دہشت گرد حملے میں اب تک کسی ہندوستانی کو نقصان پہونچنے کی اطلاع نہیں ہے ۔ اس دوران واشنگٹن سے موصولہ اطلاع کے بموجب سکیورٹی آف اسٹیٹ ٹلرسن نے اسپین کو ہر طرح کی مدد کی پیشکش کی ہے ۔ انہوں نے امریکی شہریوں سے بھی خواہش کی ہے کہ وہ چوکنا رہیں۔

TOPPOPULARRECENT