Thursday , September 21 2017
Home / دنیا / بارسیلونا حملہ ‘ اسپین کی پولیس کو مراقشی شہری کی شدت سے تلاش

بارسیلونا حملہ ‘ اسپین کی پولیس کو مراقشی شہری کی شدت سے تلاش

22 سالہ یونس ابو یعقوب پر فرانس میں داخل ہونے کا شبہ ۔ ایک مہلوک حملہ آور کا بھائی گرفتار شدگان میں شامل

بارسیلونا 19 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) اسپین کی پولیس نے آج ایک مراقشی شہری کی تلاش میںشدت پیدا کردی ہے جس کے تعلق سے شبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ بارسیلونا میں ہوئے جڑواں بم دھماکوں کا ذمہ دار ہے ۔ یہ دھماکے بارسیلونا کے علاوہ ایک اور ریسارٹ میں ہوئے تھے ۔ان دونوں دھماکوں میں 14 افراد ہلاک اور تقریبا 100 زخمی ہوئے تھے ۔ ان حملوں کے بعد سارے ملک میں صدمہ کی لہر ہے ۔ کہا گیا ہے کہ دو افراد نے عمدا اپنی گاڑی کو پیدل چلنے کے مقام پر ہجوم میں گھسا دیا تھا ۔ اسپین دنیا کا تیسرا بڑا سیاحتی مرکز سمجھا جاتا ہے اور اس حملہ کے بعد یہاں دہشت گردی کا الارم بجادیا گیا تھا ۔ اس حملہ کے پس پردہ نیٹ ورک کا پتہ چلانے کیلئے حکام کی تحقیقات جاری ہیں ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ لوگ ایک 22 سالہ نوجوان کی تلاش کر رہے ہیں جس کا نام یونس ابو یعقوب بتایا گیا ہے ۔ ابھی یہ توثیق نہیں ہوسکی کہ وہ اس ویان کا ڈرائیور تھا جو بارسیلونا میں ہجوم میں گھسا دی گئی تھی ۔ تحقیقات کنندگان کی جانب سے تاہم کم از کم 12 نوجوانوں کے ایک دہشت گردی سیل کو بے نقاب کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ ان میں کچھ لڑکے بھی شامل ہیں۔

دوسرا دھماکہ جس ریسارٹ میں ہوا تھا اس میں ایک خاتون ہلاک اور 6 دوسرے زخمی ہوئے تھے ۔ یہاں پولیس نے پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو ہلاک کردیا تھا جو کار میں سوار تھے ۔ اس کے علاوہ چار مشتبہ افراد کی گرفتاری بھی عمل میں لائی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ آئی ایس گروپ نے بارسیلونا حملہ کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ پولیس نے مزید تین مشتبہ افراد کی تلاش کرلی ہے جن کا ان حملوں سے تعلق بتایا جا رہا ہے ۔ شبہ کیا جا رہا ہے کہ تین کے منجملہ دو افراد چہارشنبہ کی رات ہوئے دھماکہ میں ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ وہ الکنار میں ایک گھر میں دھماکو مادہ تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے ۔ اسپین میں ابو یعقوب کی تلاش میں شدت کے دوران اسپین کی پولیس نے فرانس کی پولیس کو ایک سفید ویان کے تعلق سے مطلع کردیا ہے جس کا ان حملوں سے تعلق ہے ۔ یہ شبہ کیا جا رہا ہے کہ حملہ کے بعد یہ ویان فرانس میں داخل ہوگئی ہو۔ اسپین کے شہر کٹالونیہ میں پولیس نے کہا کہ ریسارٹ حملہ کے وقت جن افراد کو ہلاک کردیا گیا ہے ان میں تین مشتبہ افراد بھی شامل تھے جن کا تعلق مراقش سے بتایا گیا ہے ۔ ان کی شناخت موسی اوکبیر 17 سال ‘ سعید اعلی 18 سال اور محمد ہاشمی 24 سال کی حیثیت سے کی گئی ہے ۔ کہا گیا ہے کہ موسی اوکبیر کے بھائی ادریس ان چار افراد میں شامل ہے جنہیں گرفتار کرلیا گیا ہے ۔ مراقش میں ان بھائیو ںکے والد سعید صدمہ کا شکار ہیں۔ جب انہیں ایک تقریب کے دوران اس حملہ اور اپنے فرزندوں کے تعلق سے اطلاع دی گئی تو وہ رو پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ اس اطلاع سے وہ ٹوٹ پھوٹ گئے ہیں۔ صدمہ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موسی اپنے اسکول میں معمول کے مطابق تعلیم حاصل کر رہا تھا جبکہ ادریس دیانتداری سے کام کر رہا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ ادریس بے قصور قرار دیا جائیگا ۔ وہ اپنے دونوں بیٹوں سے محروم ہونا نہیں چاہتے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ان کا ماننا ہے کہ مشتبہ افراد ایک بڑا حملہ کرنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے ۔ شائد وہ وہیکل بم حملہ کرنا چاہتے تھے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ انہوں نے کچھ غلطیاں کیں۔ سکیوریٹی فورسیس نے الکنار میں مکان سے درجنوں گیس کنستر برآمد کئے ہیں۔ کٹالونیہ پولیس کے ترجمان جوزف لوئی ٹراپیرو کا کہنا ہے کہ یہ لوگ کئی حملوں کی تیاری کر رہے تھے ۔ الکنار میں ہوئے ایک دھماکہ سے یہ ممکن نہیں ہوسکا کیونکہ ان کے پاس حملوں کیلئے سامان دستیاب نہیں رہ گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT