Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / بارش کے باوجود ذخائر آب کی سطح میں اضافہ نہیں

بارش کے باوجود ذخائر آب کی سطح میں اضافہ نہیں

زیر زمین سطح آب میں بھی اضافہ نہیں ہوسکا ۔ ریاست میں ایک اور خشک سالی کا اندیشہ
حیدرآباد ۔ /10 جولائی (سیاست نیوز) ریاست و تلنگانہ میں ہورہی مسلسل ہلکی و تیز بارش کے باوجود ذخائر آب میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے ۔ محکمہ آبرسانی کے عہدیداروں کے بموجب گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری بارش کے باوجود پانی کی قلت جوں کی توں  برقرار ہے اور زیرزمین سطح آب میں بھی کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے ۔  ریاست تلنگانہ میں زیرزمین سطح آب میں گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ سال گزشتہ  2.35 میٹر زیرزمین سطح آب ریکارڈ کی گئی تھی لیکن اس سال اس میں مزید گراوٹ آئی ہے ۔ میدک ، نظام آباد اور محبوب نگر میں زیرزمین سطح آب انتہائی تشویشناک حد تک پہونچ چکی ہے اور یہ صورتحال آئندہ دو ماہ تک جاری رہے گی ۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو اس بات کا خدشہ پیدا ہوجائے گا کہ ریاست کو ایک اور قحط سالی کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

مانسون کی آمد سے ذخائر آب میں اضافہ اور زرعی حالت کی بہتری کی توقع کی جارہی تھی ۔ محکمہ موسمیات کی پیش قیاسی کے بموجب یکم جون سے تاحال 234 ملی میٹر بارش ہونی چاہئیے تھی ۔ اس کے برعکس تاحال صرف 197 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔ سال گزشتہ اس مدت کے دوران 235 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی تھی ۔ ضلع نظام آباد ، ورنگل ، عادل آباد ، رنگاریڈی ، کھمم ، محبوب نگر اور نلگنڈہ میں 20 فیصد اضافی بارش ریکارڈ کی گئی ہے ۔ میدک اور کریم نگر کے علاوہ حیدرآباد میں معمول کے مطابق بارش ریکارڈکی گئی ہے لیکن دیگر اضلاع میں ہوئی اضافی بارش کا فائدہ ذخائر آب کو نہیں پہونچ پایا ہے ۔ تاحال عثمان ساگر و حمایت ساگر کی سطح آب میں کوئی اضافہ ریکارڈ نہیں کیا گیا ہے ۔ محکمہ آبپاشی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ناگرجنا ساگر کی سطح آب 504.10 ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مکمل سطح آب 590 فیٹ  ہے ۔ اسی طرح سری رام ساگر پراجکٹ میں سطح آب 1048 فیٹ ریکارڈ ہے جبکہ سال گزشتہ 1057.80 فیٹ ریکارڈ کی گئی تھی ۔ نظام ساگر کی بھی صورتحال کچھ اسی طرح ہے اور لوور مانیر ڈیم کا بھی یہی حال ہے ۔ ریاست کے بڑے ذخائر آب سنگور ، جورالہ ، سری سیلم اور یلم پلی کی بھی صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT