Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / بال ٹھاکرے کو جیل بھیجنے کی کوشش کرنے والے سے وقت کا انتقام

بال ٹھاکرے کو جیل بھیجنے کی کوشش کرنے والے سے وقت کا انتقام

این سی پی لیڈر چھگن بھوجل کی گرفتاری پر شیوسینا کا ردعمل
ممبئی ۔ 16۔ مارچ (سیاست ڈاٹ کام) این سی پی لیڈر چھگن بھوجبل کی گرفتاری پر طنز کرتے ہوئے شیوسینا نے آج کہا کہ وقت نے ان سے عبرتناک انتقام لیا ہے جنہوں نے وزیر داخلہ مہاراشٹرا کی حیثیت سے پارٹی سربراہ بال ٹھاکرے کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلنے کوشش کی تھی ۔ شیوسینا کے ترجمان سامنا کے اداریہ میں کہا گیا کہ وقت نے انتقام لیا ہے اور بھوجبل کو اپنی کارستانیوں کی سزاء بھگتی پڑیگی۔ این سی پی لیڈر نے 1991 ء میں شیوسینا چھوڑ دیا تھا ۔ اپنی تباہی کیلئے پارٹی کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔ اداریہے میں بتایا گیا کہ بھوجبل جب ریاست کے وزیر داخلہ تھے ، ملک کے عوام یں شعور بیدار کرنے کے مقصد سے ہندوتوا  وادی تقریر کرنے کی پاداش میں بال صاحب ٹھاکرے کو جیل بھیجنے کی کوشش کیتھی۔ حتیٰ کہ یہ کیس سیاسی انتقام اور شخصی عداوات کا تھا۔ شیوسینا نے الزام عائد کیا کہ بھوجبل نے ان لوگوں کے خلاف جھوٹا کیس بنانے کیلئے سرکاری مشنری کا بیجا استعمال کیا تھا جو کہ ان کی بات نہیں سنتے تھے اور انہیں جیل کی سلاخیوں کے پیچھے ڈھکیلنے کی کوشش کی تھی۔ واضح رہے کہ مہاراشٹرا کے سابق ڈپٹی چیف منسٹر کو دہلی میں مہاراشٹرا سدن کے تعمیری اسکام کے سلسلہ میں پیر کے دن گرفتار کرلیا گیا تھا اور ان کے خلاف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ نے منی لینڈنگ کیس بھی درج کرلیا ۔ مخلوعہ حکومت کیحلیف جماعت شیوسینا نے کہا کہ جو لوگ بھوجبل کی گرفتاری کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ، بہت جلد انہ یں فراموش کردیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ شیوسینا سے وابستگی کے وقت چھگن بھوجبل کو کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا تھا لیکن یہ گرفتاریاں، مراہٹی عوام پر مظالم کے خلاف احتجاج پر تھیں۔ تاہم کانگریس ۔ این سی پی سے وابستگی کے بعد پہلی مرتبہ کرپشن کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ۔ انہوں نے اپنا سیاسی کیریئر شیوسینا نے شروع کیا اور وہ 20 سال تک وابستگی کے بعد 1991 ء میں بغاوت کردی اور کانگریس میں شمولیت اختیار کرلی اور کانگریس میں پھوٹ کے بعد این سی پی سے وابستگی سے اختیار کرلی۔

TOPPOPULARRECENT