Friday , October 20 2017
Home / Top Stories / باکسر محمد علی مرحوم ہمیشہ ذکر الٰہی میں مصروف رہتے

باکسر محمد علی مرحوم ہمیشہ ذکر الٰہی میں مصروف رہتے

30 سالہ رفاقت کی ناقابل فراموش یادوں پر حیدرآبادی ڈاکٹر قطب الدین کے تاثرات
حیدرآباد ۔ 18 ۔ جون : ( سیاست نیوز): امریکہ میں مقیم حیدرآباد کے ماہر نفسیات ڈاکٹر قطب الدین نے باکسر محمد علی مرحوم کے ساتھ اپنی 30 سالہ رفاقت کے ناقابل فراموش یادوں سے واقف کرواتے ہوئے بتایا کہ محمد علی کی زندگی باکسنگ رنگ کے باہر نہایت ہی مختلف تھی ۔ ان میں تقویٰ و پرہیزگاری کے ساتھ ساتھ ایک کرشماتی کشش تھی جن سے مل کر ہر کوئی متاثر ہوتا تھا ۔ وہ عوام کے دلوں میں محترم مقام رکھتے تھے ۔ باکسنگ رنگ کے اندر محمد علی ایک طاقتور جارح باکسر کے طور پر نمودار ہوتے وہ مد مقابل کا سامنا پوری قوت سے کرتے اور حریف کو ڈھیر کرنے تک اپنی کوششوں کو شدت سے جاری رکھتے ۔ رنگ کے باہر ان کا مزاج اور حسن سلوک یکسر برعکس ہوتا وہ انسانیت کے ہمدرد تھے ان کی غیر معمولی صلاحیتوں کی وجہ سے ہر شعبہ ہائے حیات میں مقبولیت حاصل تھی ۔ ان کی سب سے خاص خوبی یہ تھی کہ وہ ہمیشہ ذکر الہیٰ میں مشغول رہتے اور روزانہ اکسرسائز کرنے کو اپنا مذہبی فریضہ تصور کرتے ۔ یہ بات پوشیدہ نہیں کہ انہوں نے اپنے کیرئیر کے عروج کے زمانے میں ہی اسلام قبول کرلیا تھا لیکن اس بات سے سب کم لوگ واقف ہوں گے کہ وہ ہمیشہ ذکر الہیٰ میں مصروف رہتے تھے ۔ ڈاکٹر قطب الدین نے محمد علی کے ساتھ اپنی تین دہوں کی رفاقت کے بارے میں مزید بتایا کہ محمد علی اپنی تمام زندگی بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود ان کی خدمت میں صرف کی اور تبلیغ اسلام ان کا اصل مشن تھا ۔ امریکہ کے مقام کینٹکسے میں لیوسویل میں محمد علی کی نماز جنازہ اور تدفین میں شرکت کے بعد خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے ڈاکٹر قطب الدین نے کہا کہ مجھے اب بھی یاد ہے کہ 1982 میں پہلی مرتبہ شکاگو میں اسلامی کانفرنس کے دوران فنڈ اکھٹا کرنے کے موقعہ پر ہماری ملاقات ہوئی تھی ۔ وہ امدادی و فلاحی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور نرم گفتاری کے ساتھ پوری توجہ کے ساتھ ہر بات کی سماعت کرتے ۔ ان سے ملاقات کے خواہاں ہر ایک فرد کو یکساں وقت دیتے اور ان کا احترام کرتے ۔ اس کی وجہ سے ایک عظیم الشان اسپورٹس مین کی مقبولیت میں غیر معمولی اور غیر متوقع طور پر اضافہ ہوا ۔ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رہنے والوں اور خادمین سے کہتے کہ وہ پوری طرح اطمینان سے رہیں اور کسی قسم کا پس و پیش نہ کریں ۔ اسی وجہ سے انہیں عوامی شخصیت قرار دیا گیا ۔ 1982 کے بعد سے محمد علی کی میری اکثر ملاقاتیں ہوتیں ۔ ہر ملاقات میں ان کی صحت کے علاوہ دین و دنیا کے موضوع پر بات چیت ہوتی ۔ بنی نوع انسان کی خدمت کرنے کا ان کے اندر جذبہ تھا اس سلسلہ میں وہ ڈاکٹر قطب الدین سے ملنے ان کی رہائش گاہ آتے خاص کر جمعرات اور جمعہ کو نماز ظہر کے بعد ملاقاتیں ہوتیں تھیں ۔ وہ اسلام اور تبلیغ دین پر زیادہ وقت صرف کرتے عشاء کی نماز کے بعد عشائیہ تناول کرتے ، اس ڈنر میں انہیں ہندوستانی غذائیں سربراہ کی جاتی تھیں ۔ وہ ہندوستانی غذاؤں کو بے حد پسند کرتے تھے ۔ درحقیقت کھانا کھانے کے بعد جو کچھ کھانا رہ جاتا وہ میری اہلیہ ( ڈاکٹر قطب الدین کی اہلیہ ) سے کہتے کہ بہن میں اس کھانے کو اپنے گھر لے جانا چاہتا ہوں میں اسے ضائع ہونے دینا نہیں چاہتا ۔ ڈاکٹر صاحب نے مزید بتایا کہ محمد علی نہایت ہی رحم دل اور غم خوار انسان تھے ۔ انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی میں کافی جدوجہد کی تھی ایک مرتبہ میں اور میرے فرزند نے ان کے مکان پر بنائے گئے باکسنگ کی پریکٹس رنگ میں ایک مکہ رسید کیا تھا جس پر انہوں نے ہمیں باکسنگ کے طریقہ بھی بتائے تھے اور ایک درجن سے زائد آٹو گراف والی اپنی تصاویر بطور یادگار دیئے تھے جس وقت وہ اپنے کیرئیر کی بلندی پر تھے ۔۔

TOPPOPULARRECENT