Saturday , April 29 2017
Home / شہر کی خبریں / بجٹ تجاویز کیلئے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے حکومت سے مطالبہ

بجٹ تجاویز کیلئے کل جماعتی اجلاس طلب کرنے حکومت سے مطالبہ

قائدین میں اختلاف پر تنقید کے بجائے ہائی کمان سے رجوع کرنے کا مشورہ، پی سدھاکر ریڈی

حیدرآباد ۔ 18 فبروری (سیاست نیوز) کانگریس کے رکن قانون ساز کونسل پی سدھاکر ریڈی نے کل جماعتی اجلاس طلب کرتے ہوئے بجٹ کیلئے تجاویز طلب کرنے کا چیف منسٹر تلنگانہ سے مطالبہ کیا۔ قائدین کو ایک دوسرے کے خلاف تنقید کرنے کے بجائے کوئی مسائل ہیں تو ہائی کمان سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ پی سدھاکر ریڈی نے آج اسمبلی کے میڈیا کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے  خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ نئی ریاست ہے اور چیف منسٹر کے سی آر کو چاہئے کہ بجٹ کی پیشکشی سے قبل اپوزیشن کا کل جماعتی اجلاس طلب کریں اور مختلف طبقات و ماہرین سے علحدہ علحدہ اجلاس طلب کرتے ہوئے ان سے تجاویز طلب کریں اور بجٹ میں اس کو شامل کرتے ہوئے ایک نئی روایت قائم کریں۔ زرعی شعبہ کے بجٹ کا جائزہ لینے کیلئے کسان تنظیموں کے نمائندے اور ماہرین زراعت کا اجلاس طلب کریں۔ ماضی حال اور مستقبل کو پیش نظر رکھتے ہوئے بجٹ کی حکمت عملی تیار کریں۔ ساتھ ہی سماج کے مختلف طبقات ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتوں کے نمائندوں اور مختلف شعبہ حیات سے تعلق رکھنے والی شخصیتوں کا علحدہ علحدہ اجلاس طلب کریں۔ ان طبقات کے مسائل اور اس کے حل پر تفصیلی جائزہ لیں اور بجٹ مرتب کریں۔ اس سے ریاست کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں جو بھی تجاویز وصول ہوں گی وہ معاون و مددگار ثابت ہوں گی اور ریاست میں صحتمندانہ نظام قائم ہوگا۔ انہوں نے تلنگانہ کیلئے ریڑھ کی ہڈی تصور کئے جانے والے زرعی شعبہ کو ترقی دینے کیلئے زرعی کمیشن تشکیل دینے پر بھی زور دیا۔ پی سدھاکر ریڈی نے کہا کہ ٹی آر ایس کے ڈھائی سالہ دورحکومت میں 60 ہزار کروڑ روپئے کا قرض حاصل کیا گیا ہے اس کو کہاں اور کیسے استعمال کیا جارہا ہے اور اس کے نتائج کیا ہے اس کی وضاحت کرنے کا چیف منسٹر کے سی آر سے مطالبہ کیا۔ ڈپٹی فلور لیڈر تلنگانہ قانون ساز کونسل نے کانگریس کے سینئر رکن اسمبلی کومٹ ریڈی وینکٹ ریڈی کی جانب سے صدر تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی کیپٹن اتم کمار ریڈی پر تنقید کرنے اور ان کی جانب سے کرائے گئے سروے کو بوگس قرار دینے کے تعلق سے پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ کانگریس پارٹی میں جمہوریت ہے اور اظہارخیال کی مکمل آزادی ہے باوجود اس کے کانگریس قائدین کی ذمہ داری ہیکہ وہ کھلے عام ایک دوسرے کو تنقید کا نشانہ نہ بنائے اگر کوئی مسائل ہے تو راست طور پر پارٹی ہائی کمان سے رجوع کریں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT