Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / بجٹ درحقیقت عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف

بجٹ درحقیقت عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف

مختص کردہ بجٹ تمام طبقات کیلئے ناکافی : محمد علی شبیر
حیدرآباد۔16مارچ ( سیاست نیوز ) حکومت تلنگانہ کی جانب سے غیر مستعملہ اقلیتی بجٹ کو محکمہ اقلیتی بہبود کے حوالے کرنے کا ایوان میں اعلان کیا گیا تھا لیکن اُس پر عمل آوری نہیں ہوپائی جو کہ افسوسناک ہے ۔حکومت کو چاہیئے کہ ایوان میںدیئے گئے تیقن کو قابل عمل بنانے کے اقدامات کرے یا پھر اُن عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرے جو حکومت کے احکام کو قابل عمل بنانے سے قاصر رہے ۔ جناب محمد علی شبیر قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے آج شروع ہوئے بجٹ مباحث میں حصہ لیتے ہوئے یہ بات کہی ۔ انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ درحقیقت عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے ۔ انہوں نے ریاست میں مختلف طبقات کی بہبود کیلئے مختص کردہ بجٹ کو ناکافی قرار دیا ۔ جناب محمد علی شبیر نے مباحث کے دوران اقلیتی بہبود کے بجٹ کے عدم استعمال کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے صرف 74کروڑ روپئے کا اضافہ کیا گیا جب کہ سال گذشتہ مختص کردہ ایک ہزار 30کروڑ  میں 448کروڑ خرچ کئے گئے ۔انہوں نے 4% مسلم تحفظات کے مقدمہ میں جو کہ سپریم کورٹ میں زیر دوراں ہے ‘ اُس مقدمہ میں حکومت کی جانب سے وکیل کے موجود نہ رہنے پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے 12% تحفظات کیلئے جو روڈ میاپ بتایا ہے اُس پر عمل آوری حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ انہوں نے مختلف شعبہ جات کیلئے مختص کردہ بجٹ کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے شعبہ صحت ‘ برقی کے علاوہ بہبود پر اعداد و شمار کے اُلٹ پھیر سے کام لیا ہے جب کہ عملی طور پر کارکردگی کا مظاہرہ کیا جانا دشوار نظر آرہا ہے ۔ جناب محمد علی شبیر نے آبپاشی کے علاوہ زراعت کے موضوعات پر بھی تفصیلات سے ایوان کو واقف کرواتے ہوئے کہا کہ زرعی شعبہ میں حکومت کی جانب سے جو ترقی کی بات کی جارہی ہے وہ درست نہیں ہے بلکہ مجموعی اعتبار سے غذائی اجناس کی پیداوار میں گراوٹ ریکارڈ کی جارہی ہے ۔ انہوں نے جاریہ موسم ربیع کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ اس موسم کے درمیان 49% گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے ۔ قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل نے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’’مشن بھگیرتا‘‘ بھاری قرضہ جات کا حصول ریاست کے مالیہ پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ریاست میں برقی صورتحال کو یقینی بنانے کیلئے حکومت کے اقدامات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے جو منصوبہ پیش کیا ہے اس کے مطابق ریاست کے ڈسکامس میں اخراجات وآمدنی کے درمیان پیدا ہونے والے تفاوت کا متبادل نہیں بتایا گیا ۔

محمد علی شبیر نے حکومت سے استفسار کیا کہ ‘ کیا حکومت اخراجات اور آمدنی کے درمیان موجود فرق کو دور کرنے کیلئے محکمہ برقی کو سبسیڈی فراہم کرے گی یا پھر عوام پر یہ بوجھ عائد کیا جائے گا ۔ شعبہ صحت کیلئے بجٹ کی تخصیص کو ناکافی قرار دیتے ہوئے شبیر علی نے سرکاری دواخانوں کی صورتحال کا تذکرہ کیا اور کہا کہ دواخانوں کی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ انہوں نے عثمانیہ دواخانہ اورچسٹ ہاسپٹل کے متعلق حکومت سے وضاحت طلب کرتے ہوئے دریافت کیا کہ آیا حکومت عثمانیہ دواخانہ کی تاریخی عمارت کو برقرار رکھنا چاہتی ہے یا نہیں اور اس بات کی بھی وضاحت کی جانی چاہیئے کہ عمارت کو اگر باقی رکھنا ہے تو تزئین نو کیلئے کیا اقدامات کئے جارہے ہیں اسی طرح چسٹ ہاسپٹل کی جگہ نئی اسمبلی یا سکریٹریٹ کے بھی اعلانات کئے جارہے ہیں مگر اس سلسلہ میں بھی بجٹ میں کوئی وضاحت نہیں موجود نہیں ہے ۔ محمد علی شبیر نے بجٹ میں مباحث کے دوران غیر مقیم ہندوستانیوں کے مسائل بالخصوص قانونی رسہ کشی سے نمٹنے کیلئے کوئی بجٹ مختص نہ کئے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کیا اور کہا کہ ٹی آر ایس نے اپنے منشور میں غیرمقیم ہندوستانیوں کے مسائل کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اسی طرح انہوں نے نظام شوگر فیاکٹری ‘ سرپور کاغذ ملزکے علاوہ دیگر فیاکٹریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کشادگی بھی ٹی آر ایس کے منشور میں شامل تھی مگر تیسرے بجٹ میں بھی ان فیاکٹریوں کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ جناب محمد علی شبیر نے بتایا کہ شعبہ تعلیم میں بھی حکومت کی جانب سے کے جی تا پی جی مسئلہ پر کوئی وضاحت نہیں کی ہے جب کہ ریاست کی یونیورسٹیز میں وائس چانسلرس کی عدم موجودگی بھی جامعات کے مستقبل کیلئیبہتر نہیں ہے ۔ مباحث کے دوران قائد اپوزیشن کی مدلل تقریر پر سرکاری بنچوں کی جانب سے مسٹر یادو ریڈی کے علاوہ مسٹر سدھاکر ریڈی نے متعدد مرتبہ رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ ایک مقام پر ڈپٹی چیف منسٹر مسٹر کڈیم سری ہری نے قائد اپوزیشن کو ٹوکتے ہوئے کہا کہ وہ عدالت کے احساسات کو احکام کی طرح ایوان میں نہ سنائے ۔

TOPPOPULARRECENT