Thursday , June 29 2017
Home / سیاسیات / بجٹ مسئلہ پر اپوزیشن الیکشن کمیشن سے رجوع

بجٹ مسئلہ پر اپوزیشن الیکشن کمیشن سے رجوع

انتخابات کو منصفانہ بنانے کیلئے بجٹ موخر کیا جانا ضروری، غلام نبی آزاد

نئی دہلی، 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) اترپردیش، پنجاب اور اتراکھنڈ سمیت پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے بعد18۔ 2017 کے عام بجٹ پیش نہ کرنے کے مطالبے کے سلسلے میں کانگریس سمیت حزب اختلاف نے اپنی مہم تیز کر دی ہے ۔ کانگریس، ڈی ایم کے ، جنتا دل یو، راشٹریہ لوک دل اور ترنمول کانگریس کے لیڈر اپنی اس مانگ کو لے کر آج الیکشن کمیشن کے دروازے پر پہنچے ۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ بجٹ پانچ اسمبلی انتخابات کے ختم ہو جانے کے بعد پیش کیا جائے ۔ نریندر مودی حکومت میں اتحادی شیو سینا نے بھی اپوزیشن کی اس مانگ سے سر سے سر ملا یاہے ۔ الیکشن کمیشن نے پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کرانے کے لئے کل تاریخوں کا اعلان کیا تھا۔ پانچ ریاستوں کی 690 اسمبلی سیٹوں پر پولنگ چار فروری سے لے کر آٹھ مارچ کے درمیان ہوں گے ۔ گیارہ مارچ کو نتائج کا اعلان کئے جائیں گے ۔ مسٹر مودی کی حکومت نے فروری کے آخر میں بجٹ پیش کرنے روایت کو ختم کرتے ہوئے یکم فروری کو اسے پیش کرانے کے لئے پارلیمنٹ کا اجلاس 31 جنوری سے 9 مارچ تک طلب کیا ہے ۔راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے رہنما اور وفد کی قیادت کر نے والے کانگریسی لیڈر غلام نبی آزاد نے الیکشن کمیشن کے سامنے اپنا موقف رکھنے کے بعد میڈیا سے بات چیت میں کہا ”ہم نے الیکشن کمیشن سے مطالبہ کیا ہے کہ یکم فروری کو بجٹ پیش کرنے پر روک لگائی جائے ۔ حکومت اگر 31 جنوری سے پارلیمنٹ کا اجلاس بلاتی ہے تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن آٹھ مارچ کو پولنگ ہو جانے کے بعد ہی عام بجٹ پیش کیا جائے تاکہ حکومت کو ووٹروں کو لبھانے کے لئے کوئی دلکش اعلان کرنے کا موقع نہ ملے ”۔ وفد میں مسٹر آزاد کے علاوہ کانگریس کے آنند شرما، احمد پٹیل، سماجوادی پارٹی کے نریش اگروال، جنتا دل نائیٹڈ کے کے سی تیاگی ، ترنمول کانگریس کے سوگت رائے ، ڈیریک اوبرائن وغیرہ شامل تھے ۔ مسٹر آزاد نے کہا کہ وفد کی باتوں کو کمیشن نے بغور سنا اور غور و خوض کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ کمیشن اگر اپوزیشن کی بجٹ ٹالنے کا مطالبہ قبول نہیں کرتا ہے تو انتخابات منصفانہ نہیں ہوں گے ۔ مسٹر آزاد نے چیف الیکشن کمشنر کو لکھے ایک خط میں کل کہا تھا کہ ووٹنگ سے پہلے بجٹ پیش کئے جانے کے سلسلے میں اپوزیشن پارٹی اجتماعی طور پر فکر مند ہیں اور ان کا خیال ہے کہ حکومت ووٹروں کو لبھانے کے لئے دلکش اعلانات کر سکتی ہے ۔ ایسا ہونے پر حکمران پارٹی کو غیر ضروری فائدہ پہونچے گا اور آزاد اور منصفانہ انتخابات بھی نہیں ہو سکٰن گے ۔ چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی نے کل تاریخوں کا اعلان کرنے کے وقت اس سلسلے میں پوچھے گئے سوال پر کہا تھا کہ وہ اپوزیشن کے خدشات کی تحقیقات کرے گا۔  وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے کل ریاست کے وزرائے خزانہ کی بجٹ میٹنگ بلائی تھی۔ اس اجلاس میں مغربی بنگال کے وزیر خزانہ امت مترا نے اپنی بات رکھنے کے بعد بائیکاٹ کر دیا تھا۔ مسٹر جیٹلی نے حکومت کے بجٹ یکم فروری کو پیش کرنے کے سوال پر کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کا یہ دعوی کہ نوٹ کی منسوخی مرکز کا ایک غیر مقبول فیصلہ تھا تو انہیں اب بجٹ پیش کرنے سے خوف کیوں لگ رہا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT