Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے ترجیحات چیف منسٹر کی اقلیت دوستی کا مظہر

بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے ترجیحات چیف منسٹر کی اقلیت دوستی کا مظہر

غریب لڑکی کی شادی کے لیے فی کس 75 ہزار جاری کرنے کا فیصلہ ، ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کا بیان
حیدرآباد۔/14مارچ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ جناب محمد محمود علی نے بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے شادی مبارک کے تحت امداد اور ائمہ و مؤذنین کے اعزازیہ میں اضافہ کے فیصلہ کو چیف منسٹر کی اقلیت دوستی کا واضح ثبوت قرار دیا۔ بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ چیف منسٹر نے بطور خاص ان دو اسکیمات کیلئے امدادی رقم اور اعزازیہ میں اضافہ کا فیصلہ کیا تاکہ زیادہ سے زیادہ غریب خاندانوں کو فائدہ پہنچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی میں دشواریوں کو محسوس کرتے ہوئے چیف منسٹر نے یہ اسکیم شروع کی تھی ۔ ابتداء میں 51 ہزار روپئے اس اسکیم کے تحت منظور کئے گئے جبکہ آئندہ مالیاتی سال سے فی کس 75 ہزار روپئے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قدر رقم سے ایک غریب خاندان کی لڑکی کی شادی کے انتظامات باآسانی ممکن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امدادی رقم میں اضافہ چیف منسٹر کی جانب سے غریب اقلیتوں کیلئے ایک تحفہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال بجٹ کی اجرائی میں تاخیر کے سبب شادی مبارک کی درخواستوں کی یکسوئی میں تاخیر ہوئی تاہم حکومت نے تمام درخواست گذاروں کو رقومات جاری کرنے کی ہدایت دی ہے۔ جناب محمود علی نے کہا کہ ائمہ اور مؤذنین کے ماہانہ اعزازیہ میں ایک ہزار روپئے سے اضافہ کرتے ہوئے 1500 روپئے کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزازیہ حکومت کی جانب سے ائمہ اور موذنین کیلئے تنخواہ نہیں بلکہ تحفہ ہے جس سے غریب ائمہ اور مؤذنین کو اپنے مسائل کی یکسوئی میں مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اقلیتوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے سلسلہ میں سنجیدہ ہیں اور ہندوستان میں اقلیتی بجٹ اور اقلیتوں کیلئے منفرد اسکیمات کے آغاز کی کے سی آر نے تاریخ رقم کی ہے۔ تلنگانہ ملک کی وہ واحد ریاست ہے جس نے اقلیتی بہبود کیلئے 1249کروڑ روپئے مختص کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد سے چیف منسٹر نے اقلیتی بہبود کے بجٹ کو نئی جہت دی ہے۔ متحدہ آندھرا پردیش میں اقلیتوں کی ترقی کو فراموش کردیا گیا تھا۔ سیاسی جماعتیں مسلمانوں کو ووٹ بینک کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ان کی ترقی کو نظرانداز کررہی تھیں۔ چیف منسٹر مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کیلئے 201 اقامتی اسکولس قائم کررہے ہیں جن میں سے 71 اسکولوں کا گذشتہ سال آغاز ہوچکا ہے۔ ہر اسکول میں 3 کلاسیس قائم کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے 130 اقامتی اسکولس کا آغاز ہوگا جس کیلئے تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اضلاع میں اسکولوں کیلئے عمارتوں کے انتخاب کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس کے علاوہ اسکولوں کو ان کی ذاتی عمارت میں منتقل کرنے کیلئے عنقریب تعمیراتی سرگرمیوں کا آغاز ہوگا۔ جناب محمود علی نے کہا کہ بیرونی ممالک میں اقلیتی طلبہ کو اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کیلئے اوورسیز اسکالر شپ اسکیم شروع کی گئی جس کے تحت ہر طالب علم کو 20 لاکھ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں جو ناقابل واپسی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے اقدامات کے ذریعہ چیف منسٹر نے مسلمانوں کے دلوں میں جگہ بنالی ہے اور تلنگانہ کے مسلمان ٹی آر ایس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے اقلیتی بہبود کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کی تنقیدوں کو مسترد کردیا اور کہا کہ سابق میں کانگریس اور تلگودیشم حکومتوں کی جانب سے اقلیتی بہبود بجٹ کا جائزہ لیتے ہوئے ٹی آر ایس حکومت پر تبصرہ کرنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT