Thursday , July 27 2017
Home / مذہبی صفحہ / بحالت ِروزہ چکھنا

بحالت ِروزہ چکھنا

سوال :  کیافرماتے علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک روزہ دار نے پان یا تمباکو قصدامنہ میں چباکرتھوک دیا مگر حلق کے اندر جانے نہیں دیا پھر کلی کرکے منہ صاف کرلیا۔ اس کے روزہ کے متعلق کیا حکم ہے  ؟
جواب :   شرعا روزہ دار کو بلاعذرشرعی کسی چیز کا چبانا یا چکھنا مکروہ ہے تاہم اگر اس نے کوئی چیز چبائی اور اس کا مزہ اس کے حلق میں نہیں گیاتو اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔ وکرہ ذوق شیء ومضغہ بلاعذر کذافی الکنز۔فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۱۹۹  اور صفحہ ۲۰۳میں ہے  وان مضغھا لایفسد الا ان یجد طعمھا فی حلقہ وھذا حسن جدا فلیکن الاصل فی کل قلیل مضغہ کذا فی القدیر۔ پس صورت مسئول عنہا میں جس شخص نے پان یا تمباکو قصدا چباکر تھوک دیا اور اس کا مزہ حلق میں نہیںگیا تو اس کا یہ عمل مکروہ ہے اگرچہ روزہ نہیں ٹوٹا۔ اور اگر اس کامزہ حلق میں گیا ہوتو عمدا یہ عمل کرنے کی وجہ اس پر قضاء وکفارہ ہردولازم ہونگے۔  فتاوی عالمگیری جلداول ص۳۰۵میں ہے: اذا اکل متعمدا ما یتغذی بہ یلزمہ الکفارۃ ھذا اذا کا ن مما یؤکل للغذاء او للدواء۔
ناٹک کی کمائی مسجد میں صرف کرنا؟
سوال :  کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کچھ عرصہ تک ڈرامہ {ناٹک} کے کاروبار کرتا تھا، اس پیشہ سے کافی آمدنی رہی۔ اپنی ضروریات پر خرچ کرنیکے علاوہ رقم پس انداز بھی کیا۔ اب زید اس کاروبار کو چھوڑ دیا اور تائب ہوکر حج و زیارت سے فارغ ہوچکا ہے۔ اس پس انداز کردہ رقم کے منجملہ کچھ تعمیر مسجد اور مدرسہ دینیہ میں خرچ کرنا چاہتا ہے۔  ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے  ؟
جواب :  مال خبیث و غیر طیب جوکہ ناجائز طریقوں سے حاصل کیا گیا اوسکو مسجد میں صرف کرنا شرعاً مکروہ تحریمی و ناجائز ہے ردالمحتار جلد اول صفحہ ۴۶۲ میں ہے  قال تاج الشریعۃ اما لو انفق فی ذلک مالا خبیثا و مالا سببہ الخبیث والطیب فیکرہ لان اﷲ تعالٰی لا یقبل الا الطیب فیکرہ تلویث بیتہ بمالا یقبلہ۔ نیز جو کام حسبۃ ﷲ بغرض تقرب الٰہی ثواب کی نیت سے کئے جاتے ہیں اس میں حرام مال صرف کرنیوالا گنہگار بلکہ کافر ہے اسی لئے حرام مال سے خیرات وغیرہ ناجائز ہے۔ درمختار برحاشیہ رد المحتار جلد دوم صفحہ ۲۷ میں ہے  وفی شرح الوھبانیۃ عن البزازیۃ انما یکفر اذا تصدق بالحرام القطعی۔ اسی کتاب میں ہے  رجل دفع الی فقیر من المال الحرام شیئاً یرجو بہ الثواب یکفر۔
بریں بناء صورت مسئول عنہا میں زید کو چاہئے کہ وہ اپنی پس انداز رقم کسی شخص کو بلا نیت ثواب دیدے اوروہ شخص اپنی طرف سے مسجد و مدرسہ کو عطیہ دے تو اس کا استعمال مسجد و مدرسہ دینیہ میں درست ہوگا۔ یا پھر زید کچھ رقم کسی سے قرض لے کر مسجد و مدرسہ کوعطیہ دیدے اور اس قرض کی ادائی اپنے پس انداز روپئے سے کردے۔ عالمگیری جلد پنجم کتاب الکراھیۃ میں ہے  آکل الربا وکاسب الحرام اھدی الیہ أو اضافہ وغالب مالہ حرام لایقبل ولا یأکل مالم یخبرہ ان ذلک المال اصلہ حلال ورثہ أو استقرضہ وان کان غالب مالہ حلال لابأس بقبول ھدیتہ والاکل منھا کذا فی الملتقط۔
فقط واللہ اعلم

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT