Friday , June 23 2017
Home / مضامین / بدحال یمن کی ضرورتیں ۔ 2017ء کا پلان

بدحال یمن کی ضرورتیں ۔ 2017ء کا پلان

عرفان جابری
قارئین کرام نے یمن کے بارے میں گزشتہ دو ہفتے یہ پڑھا ہے کہ کس طرح ستمبر 2014ء سے حوثی باغیوں اور پھر سابق صدر صالح کی سرپرستی والے رضاکار جوانوں پر مشتمل غیرمنظم فوج کی نہ صرف اپنے ہم وطن شہریوں بلکہ انسانیت کے حق میں ہلاکت خیز حرکتوں نے اس ملک کو ہر اعتبار سے تباہ کرتے ہوئے سنگین بحران میں مبتلا کردیا۔ موجودہ صدر عبدالرب منصور ہادی کی درخواست پر عرب اتحادی افواج کی تشکیل سعودی عرب کی قیادت میں مارچ 2015ء میں ہوئی، جس کا بنیادی مقصد یمن میں سرکاری اداروں پر قابض باغیوں و دیگر کی سرکشی کی سرکوبی کرتے ہوئے منتخب ہادی حکومت کا کنٹرول بحال کرنا ہے۔ یہی کچھ باتیں اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قرارداد 2216 میں بھی ہیں۔ بہرحال زائد از دو سال عرب اتحادی افواج کی کوششوں کے نتیجے میں آخری اطلاعات تک 80% یمن پر عوامی حکومت کا کنٹرول بحال ہوچکا ہے۔ تاہم مجموعی طور پر ڈھائی سال سے زیادہ کی بدامنی، خانہ جنگی، افراتفری ، پُرتشدد حرکتوں نے یمن کی حالت دگرگوں کردی ہے۔ یمنی معیشت کی بحالی، انفراسٹرکچر کی ازسرنو تعمیر اور کسی بھی مستحکم ملک کیلئے درکار دیگر امور پر توجہ دینا اپنی جگہ ہے لیکن سب سے پہلے خیرخلق یا انسانی فلاح و بہبود (humanitarian) کے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں۔ اس ضمن میں ’ہیومانٹیرین ریسپانس پلان‘ جنوری۔ ڈسمبر 2017ء ترتیب دیا گیا ہے۔ آج ہم اسی موضوع پر دستیاب حالات اور صورتحال میں بہتری کیلئے درکار اقدامات کا جائزہ لیتے ہیں۔
ہیومانٹیرین کوارڈنیٹر جیمی مک گولڈرِک کے مطابق جب وہ ایک سال قبل یمن پہنچے، تب یہ ملک لڑائی کے تباہ کن اثرات سے سنبھلنے کی جدوجہد میں تھا۔ اس لڑائی نے لاکھوںافراد کو بے گھر کیا، ہزاروں کو ہلاک یا زخمی کیا اور شدید نوعیت کے انسانی مسائل کا انبار لگا دیا۔ ایسے حالات میں ناکافی معلومات، کم اسٹاف، ہر طرف عدم سلامتی، افسرشاہی رکاوٹیں اور عالمی سیاسی حالات نے مل کر وہ ثبوت محدود کردیا جو ہیومانٹیرین پارٹنرز جمع کرسکے، اور وہ اعانت کو محدود کیا جو وہ فراہم کرسکے ، نیز وہ توجہ بھی گھٹا دی جو دنیا کے علم میں آسکتی تھی۔ بہرحال ایک سال بعد عملی کام کاج کا ماحول قدرے بہتر ہوا حالانکہ لڑائی جاری ہے۔ نومبر 2016ء ایک تفصیلی ہیومانٹیرین نیڈز اوورویوو (HNO) شائع کرتے ہوئے ملک بھر سے حاصل معلومات کا تجزیہ کیا گیا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔

موجودہ صورتحال میں دستیاب اعداد و شمار کھلے طور پر تصدیق کرتے ہیں کہ یمن کے حالات شدید ابتر ہیں اور ابتری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ تخمینہ کے مطابق 18.8 ملین افراد کو کم از کم ایک شعبہ میں انسانی بنیادوں پر مدد درکار ہے، جن میں 10.3 ایسے لوگ ہیں جنھیں اپنی جانیں بچانے یا جینے کیلئے فوری اعانت کی ضرورت ہے۔ زائد از 7 ملین افراد کو یقین نہیں کہ انھیں دوبارہ کھانا کب ملے گا، اور زائد از 8 ملین کو صاف پانی اور صفائی کی شدید قلتوں کا سامنا ہے۔ نصف سے زیادہ مراکز صحت کام نہیں کررہے ہیں۔ لگ بھگ 3.3 ملین افراد بشمول 2.1 ملین بچے غذا کی کمی سے دوچار ہیں۔ اوسطاً اس لڑائی میں روزانہ تقریباً 75 افراد ہلاک یا زخمی ہورہے ہیں۔ معیشت کی تیزتر ابتری نے ممکنہ طور پر مزید کئی یمنیوں کو متاثر کردیا ہے۔ وسط مارچ 2015ء سے تشدد نے زائد از 3 ملین لوگوں کو اپنے گھروں کو چھوڑنے پر مجبور کیا ہے، جن میں سے 2 ملین افراد آخری اطلاعات تک ملک میں ہی نقل مقام کرتے رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس قدر تشویشناک ہیں کہ ذہن ماؤف ہوجائے۔
اس طرح کے سخت چیلنجوں کا سامنا کرتے ہوئے ہیومانٹیرین پارٹنرز نے تاحال متاثرکن کام کیا ہے۔ 2016ء میں اعانت فراہم کرتے ہوئے زائد از 5.6 ملین عوام کو بچایا گیا یا ان کی زندگیوں میں بہتری لائی گئی۔ اوسطاً لگ بھگ 4 ملین عوام نے 2016ء کے ہر ماہ میں ہنگامی نوعیت کی غذائی اعانت حاصل کی۔ اس سال کے دوران پینے کا صاف پانی بھی زائد از 1.2 ملین لوگوں کو فراہم کیا گیا، 1.3 ملین افراد میں معقول ادویات اور دیگر اشیاء تقسیم کئے گئے، شدید ناکافی غذا کے 530,000 کیسوں کا علاج کیا گیا، زائد از 500,000 بے گھر لوگوں کو ضروری گھریلو اشیاء بہم پہنچائی گئیں، اور اس طرح کے دیگر اقدامات کے ذریعہ بدحال یمنی عوام کو سنبھالنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس سلسلے میں خیرخلق کیلئے مراکز صنعا، عدن، ایب، سعدہ اور الحدیدہ میں کام کررہے ہیں اور انھیں وسعت دی جارہی ہے۔ یہ سب کچھ صرف 60 فیصد مالی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ کیا گیا اور ایسے ماحول میں انجام دیا گیا جہاں لڑائی کے فریقوں کی طرف سے عائد افسرشاہی رکاوٹیں بعض اوقات ریلیف کے کاموں میں مزاحم ہوئیں۔
سال 2017ء میں ہیومانٹیرین پارٹنرز اچھے موقف میں ہیں کہ گزشتہ سال کی نمایاں کارکردگی کو آگے بڑھائیں۔ پھر بھی یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ قابل لحاظ چیلنجس بدستور برقرار ہیں۔ یمن میں عوام کی ضروریات کی شدت ہیومانٹیرین پارٹنرز کی صلاحیتوں کے مقابل ڈرامائی طور پر متجاوز ہوجاتی ہے۔ جاریہ لڑائی کے فریقین ہمیشہ امدادی کارروائیوں کیلئے ضروری سازگار ماحول فراہم نہیں کرتے اور ایسی سیاست چلتے ہیں جو معیشت اور سماجی خدمات کے بکھراؤ کا موجب بنتی ہے۔ سرکاری اور خانگی ادارہ جات مفلوج ہوجانے سے بھی ہیومانٹیرین پارٹنرز پر انھیں مفوضہ اور مناسب رول سے کہیں زیادہ دباؤ پڑرہا ہے۔

ان وجوہات کے پیش نظر پارٹنرز نے 2017ء یمن ہیومانٹیرین ریسپانس پلان (YHRP) تیار کیا ہے تاکہ صرف زندگی بچانے یا حفاظتی اعانت کو شامل کیا جاسکے جو HNO میں نشاندہی کردہ شدید ضروریات سے نمٹیں۔ رواں سال کیلئے وائی ایچ آر پی میں ملک بھر کے 12 ملین لوگوں کو بچانے کیلئے جملہ 2.1 بلین امریکی ڈالر کی لاگت آئے گی۔ 2017ء میں مسائل میں اضافہ امید ہے پہلے جتنا نہیں ہوگا اور بنیادی طور پر غذا، صحت اور تغذیہ کے شعبوں میں کام کرنا ہے، جو تمام خاص طور پر بُری طرح متاثر ہیں۔ امدادی و راحت کاری سرگرمیوں کے تمام مراحل میں یقینی بنایا جائے گا کہ خواتین، مرد، لڑکے اور لڑکیوں کو مساویانہ اعانت حاصل ہو، اور یہ سرگرمیوں سے دیرپا بحالی میں مدد ملے۔ مجموعی طور پر ’وائی ایچ آر پی‘ 121 شعبہ جاتی سرگرمیوں پر مشتمل ہے جو 12 ملین افراد تک 287 انفرادی پراجکٹوں کے ذریعہ رسائی حاصل کریں گی۔

فوڈ سکیورٹی اور اگریکلچرل کے شعبے میں گورنری علاقوں میں لگ بھگ 8.3 ملین غذائی اعتبار سے غیرمحفوظ افراد کی اعانت کا منصوبہ ہے۔ یہ مجموعی ٹارگٹ میں فوری، زندگی بچانے والی ہنگامی غذائی امداد برائے 8 ملین افراد اور گزربسر کی امدادی سرگرمیاں برائے 3.5 ملین افراد شامل ہیں۔ صحت کے شعبے میں 14.8 ملین افراد کی نشاندہی ’ایچ این او‘ میں ہوئی کہ انھیں صحت پر مبنی امداد درکار ہے۔ رسائی اور سکیورٹی کی مجبوریوں کی روشنی میں 2017ء کے پلان میں 10.4 ملین افراد کا نشانہ ہے، جن میں 8.8 ملین افراد شامل ہیں جن کی نشاندہی ’ایچ این او‘ نے صحت کی شدید ضرورت والے افراد کے طور پر پہلے ہی کی ہے۔ یمن میں ناکافی غذا کا بڑا چیلنج وسط مارچ 2015ء میں لڑائی میں شدت کے ساتھ بڑھتا رہا ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں زیادہ جدت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رواں سال تمام گورنری علاقوں میں 2.6 ملین افراد کا علاج کیا جائے گا، جن میں 1.7 ملین شدید ناتواں بچے اور حاملہ یا دودھ پلانے والی خواتین شامل ہیں۔ آسرا اور غیرغذائی اشیاء کے معاملے میں دیکھیں تو زائد از 4.5 ملین افراد کو کچھ آسرا اور غیرغذائی اشیاء درکار ہیں۔ اس میں 3.9 ملین شامل ہیں جو سخت ضرورت والے علاقوں میں رہ رہے ہیں۔
یمن کو سلامتی و حفاظت کے شدید بحران کا سامنا ہے جہاں لاکھوں شہریوں کو اپنی حفاظت، بہبود اور بنیادی حقوق کے تعلق سے سنگین جوکھم درپیش ہیں۔ 2017ء کے پلان میں ملک بھر کے 3.5 ملین لوگوں کو حفاظتی اعانت فراہم کی جائے گی۔ تعلیم کا شعبہ بھی کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں زائد از 1 ملین اسکولی بچوں، ٹیچرز اور دیگر متعلقین کا احاطہ کرتے ہوئے 20 گورنری علاقوں میں ایمرجنسی ایجوکیشن سرویسز مہیا کی جائیں گی۔ فوری یا ہنگامی روزگار اور کمیونٹی بازآبادکاری کے تحت 1.4 ملین افراد کا نشانہ رکھا گیا ہے جو ملک میں نقل مقام پر مجبور ہوئے یا اپنے مقام پر ہی ہوں۔
یمن کے ڈھائی سالہ بحران میں یوں تو ملک کا کوئی علاقہ محفوظ نہیں رہا لیکن بعض زیادہ متاثر ہوئے اور وہاں کے لوگوں کو امداد ؍ اعانت کی اشد ضرورت ہے۔ جیسے ابیان، عدن، البائدہ، الزالی، الجوف، المحرہ، حضرموت، لہج، سعدہ، صنعا، شبواہ، تعز۔

یمن ایسے دوراہے پر کھڑا ہے کہ اطراف و اکناف کے عرب پڑوسیوں کے ساتھ ساتھ عالمی برادری بالخصوص بڑی طاقتوں اور اقوام متحدہ کا انسانی بنیادوں پر نیک نیتی سے مداخلت کرنا ازحد ضروری ہے، ورنہ ایک اور عراق اور لیبیا ہمارے سامنے اُبھرسکتا ہے جہاں امن و سکون قصہ پارینہ ہے۔ یمن کو سنبھالنے اور دوبارہ مستحکم، جمہوری ملک بنانے میں ناکام ہوتے ہیں تو وہاں جو مزید انسانی تباہی کا اندیشہ ہے وہ کچھ یوں ہوگا: زائد از 7 ملین شدید غذائی عدم سلامتی سے متاثرہ لوگوں کو فاقہ کشی کا شکار ہونا پڑے گا۔ زائد از 8 ملین افراد پینے کے پانی اور صاف ستھرائی سے محروم رہیں گے۔ خدماتِ بہ متعلق صحت میں مزید گراوٹ آئے گی، جو اموات میں بڑے اضافوں کا موجب ہوگی۔ ناکافی غذا سے دوچار لگ بھگ 1.2 ملین بچوں کی موت کا خطرہ بڑھ جائے گا۔ لاکھوں لوگوں کو اُن کے بنیادی حقوق کے سنگین خطرات درپیش ہوں گے جس کیلئے کوئی مددگار نہ ہوگا۔ بارودی سرنگیں اور دیگر دھماکو آلات زندگیوں کیلئے خطرہ ہوں گے اور اعانت میں تاخیر کا سبب بنیں گے۔
[email protected]

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT