Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / برائی مٹانے کے اسلامی اصول

برائی مٹانے کے اسلامی اصول

مفتی سید صادق محی الدین فہیمؔ

ہندوستان بھر میں اس وقت خواتین غیرمحفوظ ہیں، ذرائع ابلاغ میں آنے والی خبریں بڑی روح فرسا ہیں، صنف نازک اس وقت بڑے نازک دور سے گزررہی ہے۔ اجتماعی عصمت ریزی کے واقعات انسانیت کی پیشانی پر ایک بدنما داغ ہیں، اسکی روک تھام کیلئے سخت قوانین بنائے جانے کے باوجود یہ ناخوشگوار سلسلہ ہے کہ تھمنے نہیں پارہا ہے، کردارسازی اور مذہبی دباؤ کے بغیر اِن مذموم واقعات کی روک تھام بظاہر ممکن نہیں، خواتین سے چھیڑچھاڑ کے واقعات اس کے علاوہ ہیں۔ ایک اخباری اطلاع کے مطابق عورتوں سے چھیڑچھاڑ کی پاداش میں دوسوپچاس افراد گرفتار کئے گئے اور انکی کونسلنگ کی گئی، ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ کی بہن، بیوی یا ماں کیساتھ اس طرح کوئی چھیڑچھاڑ یا دست درازی کرے یا پھر عصمت ریزی کا ارتکاب کرے تو پھر آپ کا ردعمل کیا ہوگا؟ ان میں سے اکثر نے اعتراف کیا کہ ہم اسے برداشت نہیں کریں گے، بلکہ ہمارا ردعمل غصہ اور انتقام کا ہوگا۔ اللہ کے پیارے نبی سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقیقی معنی میں مومن اس کو قرار دیا ہے جو دوسروں کیلئے وہی چاہے اور پسند کرے جو اپنے لئے چاہتا اور پسند کرتا ہو۔
ظاہر ہے شریرالنفس اور برے جذبات و خواہشات کی رو میں بہہ کر جو معاشرہ میں گندگی پھیلاتے ہیں اور انسانیت کو شرمسار کرتے ہیں، ان کی نفسیاتی ڈھنگ سے تربیت کی سخت ضرورت ہے۔حضرت نبی پاک سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس حکمت عملی کو اختیار کرکے برائی کرنے والے کو برائی سے روکا ہے اور وہ تائب ہوکر برائی سے ہمیشہ کیلئے دستبرداری اختیار کرنے کا عہد کیا اور پاکیزہ زندگی گزارنے کی اس نے مثال قائم کی ہے چنانچہ ایک نوجوان نے درخواست کی کہ یارسول اللہ ﷺ مجھے زنا کی اجازت دیجئے تو آپ ﷺ نے اس پر کسی برہمی کا اظہار نہیں فرمایابلکہ نفسیاتی پہلو اختیار فرماکر دریافت کیا کہ کیا تمہاری بیٹی، ماں، بہن، بیوی ہے؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں یارسول اللہ ، تو پھر آپﷺ نے دریافت کیا کہ کیا تم اس طرح کا عمل کسی اور کی طرف سے اِن کیساتھ کئے جانے کو پسند کروگے؟ اس نے عرض کیا یارسول اللہ! ہرگز نہیں، توپھر آپﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم جس سے زنا کرنا چاہوگے وہ بھی کسی کی ماں، بہن، بیوی، بیٹی ہوسکتی ہے، آپﷺ چونکہ نباض فطرت بھی ہیں اس کی دکھتی رگ پر آپﷺ نے ہاتھ رکھا جس سے اس کو ندامت بھی ہوئی اور برائی کا خیال اس کے دل سے نکل گیا۔
برائی کے خاتمہ کی جہاں بات آتی ہے تو حکومتیں سخت قوانین بناتی ہیں اور سزائیں بھی سخت دی جاتی ہیں، لیکن کردار سازی نہ کی جائے، برائی کی قباحت و شناعت د ل و دماغ میں نہ بسا دی جائے، اسکے معاشرتی مضمرات جسمانی وروحانی اعتبار سے لاحق ہونے والے امراض کی جانکاری نہ کرادی جائے، زنا کی وجہ سے اولاد و نسل میں منتقل ہونے والے معائب ومفاسد کا احساس تازہ نہ کرادیا جائے تب تک اسکے خاطر خواہ نتائج کی امید نہیں کی جا سکتی اس طرح کی اصلاحی درد مندانہ کوششوں کے بغیر اصلاحی نقطہ نظر سے دی جانے والی سخت سزائیں بھی ان جرائم کے سدباب میں کوئی نمایاں رول ادا نہیں کرسکتیں۔
اسلام نے برائی کو مٹانے کا یہی طریقہ اختیار کیا کہ پہلے انسانوں کی کردار سازی کی جائے کہ اس سے خود برائی کا گراف کم سے کم ہوجائیگا، اسکے باوجود اکا دکا واقعات رونما ہوں تو ان کو سخت اور عبرتناک سزا دی جاکر برائی کو روکا ئے۔ اسلام کی سزاؤں پر اعتراض کرتے کرتے جن کی زبانیں نہیں تھکتی تھیں وہ خود اَب اسلام کا نام لئے بغیر نظام اسلامی کے تعزیری قوانین کے موئد ہوتے جارہے ہیں، البتہ اخلاق کی حفاظت، کردار کی صیانت کی طرف کوئی توجہ نہیں ہے ۔
اسلام نے ’’برائی مٹاؤ ‘‘ مہم پر جو عملی اقدامات اختیار کئے ہیں اسکے دو رُخ ہیں، ایک رُخ تربیت و کردار سازی کا ہے، دوسرا سخت تعزیری سزاؤں کا ، اسلام نے اس کی آغوش رحمت میں پناہ حاصل کرنے والوں کے قلوب میں خوف خدا و خوف آخرت کی روح پھونکی ہے، موت اور موت کے بعد کی دنیا اور وہاں اللہ کے حضور حاضر ہوکر اپنے اعمال کی جوابدہی کا استحضار بخشا ہے، خیروشر دونوں راستوں کی رہنمائی کی ہے، خیر اختیار کرنے سے کیا کچھ راحتیں، رحمتیں دنیا و آخرت ی حاصل ہوتی ہیں اس کو کھول کھول کر بیان کیا ہے، شر کے اختیار کرنے کے کیا عواقب و نتائج ہوسکتے ہیں اور کیسے  انسان رحمتوں سے محروم ہوتا ہے، اس کی دنیا تباہ ہونے کیساتھ کیسے اس کی آخرت برباد ہوتی ہے، ان سب سے پردہ ہٹایا ہے جو ایک انسان کو برائی سے بچانے اور نیکی کے اختیار کرنے کی ترغیب دلانے کیلئے کافی ہے۔ قربان جائیے اسلام کی صداقت وحقانیت کے کہ اس نے ان مخالفین کو بھی زبان سے نہ سہی عملاً اسلام کے قوانین کی روح کو قبول کرلینے پر مجبور کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT