Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / برسر اقتدار جماعتوں سے مفاہمت مقامی جماعت کی عادت

برسر اقتدار جماعتوں سے مفاہمت مقامی جماعت کی عادت

اشتعال انگیز تقاریر سے اکثریت ووٹوں کو متحد کرنے میں تعاون ‘ شیخ عبداللہ سہیل کا بیان
حیدرآباد ۔ 21 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : صدر گریٹر حیدرآباد کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل نے اترپردیش میں بی جے پی کی کامیابی کے لیے صدر مجلس اسد الدین اویسی کی جانب سے کانگریس کے بشمول دوسری سیکولر جماعتوں کو ذمہ دار قرار دینے کو مضحکہ خیز قرار دیا ۔ انہوں نے سیکولر ووٹس کو تقسیم کرنے کا مقامی جماعت پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیز تقاریر کرتے ہوئے اکثریت طبقہ کے ووٹوں کو متحد کرنے میں بالواسطہ تعاون کیا گیا ۔ سیکولر ووٹوں کی تقسیم سے بی جے پی کو فائدہ ہوا ہے ۔ شیخ عبداللہ سہیل نے صدر مجلس کی جانب سے دئیے گئے بیان اترکھنڈ میں مجلس کے مقابلے کے بغیر بی جے پی کی کامیابی پر اٹھائے گئے سوال پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقامی جماعت ہی اس کی وضاحت کرے کیوں کہ جماعت کی جانب سے مسلمانوں کے ساتھ دلت اور سماج کے دوسرے طبقات کی نمائندگی کا دعویٰ کیا جارہا ہے تو جماعت نے اپنے آپ کو اترپردیش تک کیوں محدود رکھا جب کہ اترکھنڈ میں مسلمانوں کی آبادی 14 فیصد ہے ۔ مقامی جماعت کے رول پر ملک بھر میں تشویش کی لہر پائی جارہی ہے ۔ اگر مقامی جماعت ملک کے تمام ریاستوں میں اپنی سیاسی طاقت بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے تو وہ تمام ریاستوں میں مقابلہ کرے کسی ریاست میں مقابلہ کیا جارہا ہے ۔ کسی ریاست میں مقابلہ نہیں کیا جارہا ہے اور کسی ریاست کے صرف مخصوص حلقوں میں مقابلہ کرنے سے مسلمانوں کے شکوک کو تقویت مل رہی ہے ۔ کانگریس لیڈر کہا کہ اقتدار میں رہنے والی جماعتوں سے مفاہمت کرنا مقامی جماعت کی عادت ہے ۔ مقامی جماعت کی جانب سے مسلمانوں کی 59 سال سے نمائندگی کرنے کے دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقامی جماعت نے 1961 میں پہلی مرتبہ بلدیہ حیدرآباد میں قدم رکھا ۔ 1984 میں پہلی مرتبہ حیدرآباد لوک سبھا کے لیے مجلس کا نمائندہ منتخب ہوا ۔ دعوے کے مطابق 59 سالہ سیاسی طاقت رکھنے والی مقامی جماعت نے پرانے شہر کے علاوہ نئے شہر میں اپنی سیاسی طاقت کو توسیع دینے کی کوشش نہیں کی مگر ملک کے دوسرے ریاستوں میں مقابلہ کرنے پر توجہ دی جارہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT