Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / برسر اقتدار ٹی آرایس حکومت کے وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ کی مشکلات برقرار

برسر اقتدار ٹی آرایس حکومت کے وزیر آبپاشی ٹی ہریش راؤ کی مشکلات برقرار

کے سی آر کی سالگرہ پر منظر سے غائب ، پوسٹرس میں تصویر و نام کا عدم استعمال ، ہریش کے حامیوں میں ناراضگی
حیدرآباد۔/18فبروری، ( سیاست نیوز ) برسراقتدار ٹی آر ایس میں وزیر آبپاشی ہریش راؤ کیلئے ابھی بھی مشکلات کم نہیں ہوئی ہیں۔ نارائن کھیڑ اسمبلی حلقہ سے ٹی آر ایس کی کامیابی میں اہم رول ادا کرنے کے باوجود ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہریش راؤ پارٹی میں اپنا روایتی غلبہ بحال کرنے کی جدوجہدکررہے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے انتخابات سے قبل پارٹی اور حکومت میں ہریش راؤ کی اہمیت گھٹانے کے آثار واضح طور پر دکھائی دے رہے تھے۔ گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کی انتخابی مہم سے ہریش راؤ کو دور رکھا گیا اور انہیں نارائن کھیڑ اسمبلی حلقہ کی ذمہ داری دی گئی چونکہ نارائن کھیڑ ضلع میدک کا حصہ ہے اور ہریش راؤ سدی پیٹ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے نارائن کھیڑ ضمنی چناؤ میں ٹی آر ایس امیدوار کی کامیابی کیلئے 80 ہزار تا ایک لاکھ ووٹوں کی اکثریت کا نشانہ مقرر کیا تھا تاکہ اپوزیشن کی ضمانت ضبط ہوجائے اور وہ دوبارہ اس حلقہ میں اپنا موقف مستحکم کرنے کی کوشش نہ کرسکیں۔ چیف منسٹر یہ پیام دینا چاہتے تھے کہ تلنگانہ میں صرف ٹی آر ایس کی ہوا ہے اور تلگودیشم و کانگریس کو عوام نے مسترد کردیا ہے۔ انتخابی نتائج سے چیف منسٹر کی توقع کو دھکا لگا کیونکہ ٹی آر ایس امیدوار نے 53 ہزار ووٹوں کی اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور کانگریس امیدوار دوسرے نمبر پر رہا اور اس کی ضمانت بچ گئی۔ پارٹی حلقوں میں یہ بات گشت کررہی ہے کہ چیف منسٹر نارائن کھیڑ اسمبلی حلقہ کے نتیجہ سے خوش تو ضرور ہیں لیکن ہریش راؤ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں۔ ہریش راؤ سے جو توقعات وابستہ کی گئی تھیں وہ ان پر پورا نہیں اُتر سکے۔ پارٹی اور حکومت میں ہریش راؤ کو کنارے پر رکھنے کا واضح ثبوت گریٹر حیدرآباد کے انتخابات تھے۔ 150 بلدی حلقوں میں کسی ایک مقام پر بھی پوسٹر، بیانر حتیٰ کہ ہینڈ بلز پر ہریش راؤ کی تصویر نہیں تھی۔ اخبارات میں جاری کئے گئے اشتہارات میں بھی ہریش راؤ نظر نہیں آئے۔ بتایا جاتا ہے کہ تمام امیدواروں کو واضح ہدایت دی گئی تھی کہ وہ چیف منسٹر کے سی آر، کے ٹی آر اور کویتا کے علاوہ کسی اور کی تصویر اشتہارات اور پبلسٹی میٹریل میں شامل نہ کریں۔ بعض امیدواروں نے لاعلمی کے سبب پوسٹرس میں ہریش راؤ کی تصویر شامل کرلی تھی جنہیں تمام پوسٹرس کو ضائع کرنا پڑا۔ اسی طرح کل چیف منسٹر کی سالگرہ کے موقع پر بھی ہریش راؤ منظر سے غائب تھے اور چیف منسٹر کی سالگرہ کے سلسلہ میں جاری کردہ اشتہارات حتیٰ کہ الیکٹرانک میڈیا میں ٹیلی کاسٹ اشتہارات میں ہریش راؤ کی تصویر شامل نہیں تھی۔ اس سے صاف اندازہ ہورہا ہے کہ چیف منسٹر کے سیاسی جانشین اور حکومت میں نمبر 2 پوزیشن کے مستحق صرف کے ٹی آر اور کویتا ہیں۔ ہریش راؤ کو نظرانداز کرنے کی صورتحال سے ان کے حامیوں میں مایوسی دیکھی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT