Sunday , August 20 2017
Home / اداریہ / برسلز میں دھماکے

برسلز میں دھماکے

تم مارتے ہو جن کو وہ مرتے ہی نہیں ہیں
مل جاتے ہیں کچھ اِن کی صداقت کے نشاں اور
برسلز میں دھماکے
دھماکوں اور خودکش حملوں کے تسلسل کو جاری رکھتے ہوئے مصروف ترین علاقوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ فرانس کے شہر پیرس ،ترکی کے شہر استنبول میں دھماکوں کے بعد تازہ واقعہ بلجیم کے دارالحکومت برسلز کے ایرپورٹ میں دھماکے ہوئے۔ اس میں دو درجن افراد کی ہلاکت کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔ حملے کی نوعیت اور نقصانات کا اندازہ کرتے ہوئے دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا گیا۔ دراصل پیرس حملے کے سلسلہ میں گرفتار کردہ صالح عبدالسلام کی تنظیم پر شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کیونکہ چار دن قبل ہی اس نوجوان کو برسلز سے گرفتار کیا گیا تھا۔ شدت پسند نٹ ورک کو ختم کرنے کی عالمی کوششوں کے درمیان اگر برسلز جیسے دھماکے ہوتے ہیں تو پھر اسے سراسر انٹلیجنس اور سیکوریٹی کی کوتاہی ہی کہہ جائے گی۔ گذشتہ سال نومبر میں پیرس دھماکوں کے بعد بھی عالمی سیکوریٹی ڈھانچہ کو مضبوط بنانے کے اقدامات ناکام ہوتے ہیں تو پھر یہ ایک تشویشناک بات ہے۔ دہشت گردی کا نیٹ ورک اگر پورے یوروپ میں پھیلا ہوا ہے تو یہ یوروپی طاقت اس نیٹ ورک کا پتہ چلانے سے قاصر رہی ہے۔ بلجیم کے وزیراعظم چارلس مچل نے اپنے ملک میں دہشت گردی کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کا عہد کیا ہے مگر یہ نیٹ ورک پہلے سے زیادہ سرگرم اور طاقتور دکھائی دے رہا ہے۔ اگرچیکہ پیرس حملوں کے بعد بلجیم میں بھی چوکسی اور تلاشی کا کام تیزی سے جاری تھا پولیس نے مشتبہ افراد کے خلاف آپریشن بھی شروع کئے تھے اور اب تک 16 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد پولیس کی بڑی کامیابی قرار دینے والی بلجیم حکومت نے اپنی سیکوریٹی چوکسی کو شاید نرم کردیا تھا۔ وزیراعظم نے کہا تھا کہ پیرس حملوں کے بعد بلجیم میں خاص کر برسلز میں سیکوریٹی ہائی الرٹ رکھی جائے گی۔ اگر دہشت گرد اس ہائی الرٹ سیکوریٹی کو بھی ناکام بنانے میں کامیاب ہورہے ہیں تو یہ عالمی امن کیلئے سب سے بڑے خطرے کی بات ہے۔ برسلز میں شہر کی سڑکوں پر پولیس ملازمین کے ساتھ فوج کے دستے بھی گشت کرتے رہے تھے لیکن دہشت گردی کا نیٹ ورک فوجی دستوں کی چوکسی کے سامنے ایک بڑا چیلنج بن کر کھڑا ہوا ہے۔ اس اندیشہ کے باوجود کہ برسلز میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کے ساتھ کئی افراد حملہ کرنے والے ہیں۔ بلجیم کی پولیس اور فوج نے اس حملہ آوروں کا پتہ چلانے میں ناکام رہی۔ پیرس حملوں کے پیش نظر یوروپی ممالک نے یہ ضروری پالیسی بنائی تھی کہ دہشت گردی کے خطرات سے خبردار ہوجائیں اور اس کے مقابلے کیلئے خود کو منظم کریں لیکن یوروپ میں تارکین وطن کے بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد نیٹ ورک کے لوگ سیکوریٹی کی آنکھ میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہورہے ہیں تو اس طرح کے واقعات کو روکنا ضروری ہے۔ یوروپی ملکوں نے اپنی سرحدوں کو مضبوط اور پہلے سے زیادہ چوکس کردیا تھا لیکن بیداری کے بغیر صرف چوکسی سے سیکوریٹی کی صورتحال کو اطمینان بخش قرار نہیں دیا جاسکتا۔ یوروپی یونین کے رکن ممالک نے اب تک خود کو بیدار رکھنے اور دہشت گردی کے خطرات، مقابلے کیلئے خود کو منظم کرنے کے جتنے جتن کئے تھے سب رائیگاں دکھائی دیتے ہیں۔ برسلز واقعہ کے بعد حکومت ہند نے اظہارمذمت کرتے ہوئے مہلوکین سے اظہارتعزیت کیا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ سشماسوراج نے یوروپی ممالک میں بڑھتے دہشت گردی کے خطرات کو تشویشناک ظاہر کیا۔ ہر دہشت گرد حملے کے بعد یوروپ اور مغرب کے عوام کے اندر اسلام فوبیا کا جو بخار پھیلایا جاتا ہے یہی حرکت دن بہ دن عالمی امن کو خطرناک دور میں لے جارہی ہے۔ اسلام مخالف جذبات میں اضافہ کرنے سے یوروپ کو ہی بے چینی اور بدامنی کی کیفیت سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔ فرانس پیرس حملوں کے بعد فرانسیسی مسلمانوں کے ساتھ سارے مغربی ملکوں میں مقیم مسلمانوں کو پریشان کردیا گیا، جس کے منفی اثرات مرتب ہونے لگے ہیں۔ ہر مسلم ملک اس طرح کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے۔ تمام مسلمان بھی عالمی انسانیت کے ساتھ ہیں تو پھر مسلمانوں اور اسلام کے خلاف رائے کو مضبوط بنانے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے اور جو کوئی بھی مخالف اسلام سوچ رکھتا ہے وہ ماحول کو خطرناک بنارہا ہے۔ بلاشبہ دہشت گردی اور انسانی جانوں کا اتلاف اسلامی تعلیمات کے مغائر ہیں۔ اس دہشت گردی کی وبا کو فوری ختم کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی برادری دہشت گردی سے نمٹنے میں اسلام اور مسلمان کی بحث میں ہی الجھی رہی تو حالات سنگین ہوجائیں گے۔

TOPPOPULARRECENT