Friday , September 22 2017
Home / مضامین / برصغیر پر منڈلاتے ہوئے دہشت گردی کے سائے

برصغیر پر منڈلاتے ہوئے دہشت گردی کے سائے

غضنفر علی خان
برصغیر ہند ۔ پاک میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے سائے اب تیزی سے واضح ہوتے جارہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ کی ایک ہوٹل پر کئے گئے دہشت پسندانہ حملہ نے واضح کردیا ہے کہ دہشت گردی کی ایک نسبتاً نئی شکل ’’دیسی دہشت گردی‘‘ بھی ہے جس کو Home-Grown کہا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش میں ہوئی دہشت گردی کے بعد وہاں کے وزیرداخلہ اسدالزماں خان نے زور دیتے ہوئے کہاکہ یہ حملہ جس میں 22 انسان ہلاک ہوئے آئی ایس آئی ایس یا داعش کی کارستانی نہیں تھی بلکہ یہ سب کچھ بنگلہ دیش کی دیسی ساختہ دہشت گردی قرار دی جاسکتی ہے۔ وزیرداخلہ کے علاوہ بنگلہ دیش کی وزیراعظم شیخ حسینہ کے مشیر خاص حسین توفیق امام نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہاکہ ’’جس انداز میں اس واقعہ میں یرغمال بنائے ہوئے افراد کو تیز دھاری ہتھیاروں سے انتہائی بے رحمی کے ساتھ قتل کیا گیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ بربریت داعش کی نہیں بلکہ بنگلہ دیش کی انتہا پسند تنظیم ’’جمعیت المجاہدین‘‘ نے کی ہے اور اس تنظیم کے تعلقات پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی سے بہت دوستانہ اور قریبی ہیں۔ ان دونوں کے مذموم عزائم ہیں کہ بنگلہ دیش کی جمہوری حکومت کو گرایا جائے۔ وزیرداخلہ بنگلہ دیش اور اُن کے مشیر خاص حسین توفیق امام کا دعویٰ ہے کہ اس خون ریز حملہ سے داعش کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ دونوں نے یہ بھی دعویٰ کیاکہ ’’بنگلہ دیش میں کہیں بھی داعش کا اثر و رسوخ یا وجود نہیں ہے‘‘۔ اگر دیسی ساختہ تنظیم جمعیت المجاہدین فی الواقع حملہ کی ذمہ دار ہے تو یہ بنگلہ دیش کے لئے اور بھی زیادہ تشویش کی بات ہے۔ شاید جمعیت المجاہدین پر آئی ایس آئی کا واقعی گہرا اثر و رسوخ ہے کیوں کہ یہ دونوں مسلم ممالک خود کو داعش سے دور رکھنا چاہتے ہیں لیکن دونوں جگہ انتہا پسند گروپس ہر طرح سے طالبان اور القاعدہ سے متاثر ہیں اور داعش تحریک طالبان ہی کی ایک پیداوار ہے۔ بنگلہ دیش ہو یا پاکستان وہاں ابتداء ہی سے ایک طبقہ مذہب کے نام پر مذہب کا استحصال کرتا رہا ہے۔

طالبان نے تو پاکستان میں ’’پاکستانی طالبان‘‘ کا خود کو نام دے کر قتل و غارت گری کا ایسا دردناک سلسلہ شروع کیا ہے کہ بعض واقعات سے تو انسانیت کی روح زخمی ہوجاتی ہے۔ یہ سب عقیدہ کی بنیاد پر خود مسلمانوں کا قتل بے گناہ اور معصوم لوگوں کا کشت و خون ، پاکستان میں ایک رواج بن گیا ہے۔ اگر بنگلہ دیش کی حکومت جمعیت المجاہدین کے اس طرح کے وجود کو برداشت کرتی رہی تو اس بات کا اندیشہ ہے کہ آج کمزور اور کم اثر رکھنے والا یہ گروہ آئندہ اتنا طاقتور ہوجائے گا کہ جیسے پاکستان طالبان بن گیا ہے۔ پاکستانی حکومت وہاں کے طالبان کے آگے بے بس ہے۔ پاکستان کی صورتحال اتنی پریشان کن ہوگئی ہے کہ یہ سمجھ میں نہیں آتا ہے کہ پاکستان میں اقتدار اعلیٰ کس کے ہاتھ میں ہے۔ ابھی کچھ دن قبل وزیراعظم ہندوستان مسٹر مودی نے اپنے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا تھا کہ ’’ہند پاک کے درمیان لکشمن ریکھا کھینچنی ہے تو سوال یہ ہے کہ اس سلسلہ میں آخر کس سے بات کی جائے حکومت سے یا فوج سے‘‘۔ ان کا کہنا بالکل صحیح ہے۔ اگر فوری طور پر بنگلہ دیش کی حکومت جمعیت المجاہدین جیسے گروہ پر قابو نہ پاسکے تو آئندہ ہر کوئی یہ سوچنے پر مجبور ہوجائے گا کہ بات چیت اگر کرنی ہو تو کس سے کی جائے۔ ایسے گروہ بنگلہ دیش جیسے ممالک میں کسی خطرناک وائرل Viral کی طرح پھیل جاتے ہیں جس کی جیتی جاگتی تصویر پاکستان ہے ڈھاکہ میں ہلاک کئے جانے یرغمالیوں میں 80 فیصد بیرونی ممالک کے باشندے تھے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملہ آور یہ تاثر دینا چاہتے تھے کہ بیرونی باشندوں کے لئے اللہ کی زمین تنگ ہوتی جارہی ہے۔ ان حملہ آوروں نے یرغمالیوں سے اُس مقدس قرآن کریم کی چند آیات پڑھنے کو کہا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’کسی انسان کا قتل ساری انسانیت کے قتل کے مماثل  ہے اور کسی کی جان بچانا ساری انسانیت کی جان بچانے کے مصداق ہے غرض وہ یرغمال جن کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تھا قرآن کریم کی آیات ظاہر ہے کہ نہ پڑھ سکے چونکہ وہ اس سے واقف ہی نہیں تھے۔ بس اسی تصور کے سبب دہشت پسندوں نے دردناک سزا دی اور ان کے گلے کاٹ دیئے۔

یہ وہ سیاح تھے جنھوں نے کبھی اسلام کے خلاف کچھ کہا یا کیا نہیں تھا۔ جس جگہ یہ واقعہ ہوا وہاں ساری زمین سارا فرش انسانی خون سے آلودہ ہو گیا تھا۔ بنگلہ دیش کی فوری متحرک ہونے والی فورس کے لئے یہ تجربہ بالکل انوکھا تھا۔ انھیں کبھی ایسے اچانک حملہ کی نہ تو توقع تھی اور نہ وہم و گمان ہی تھا کہ ’’زندہ انسانوں کو اور اس طرح سے ان کے گلے کاٹ کر جانوروں کی طرح ذبح کیا جاسکتا ہے ناتجربہ کاری کے باوجود ریاپڈ ایکشن فورس بنگلہ دیش نے نہ صرف چند منٹوں میں یرغمالیوں کو حملہ آوروں کے چنگل سے چھڑا لیا اور 6 حملہ آوروں کو ہلاک کردیا۔ ایک کو زندہ گرفتار کرلیا۔ ان تمام واقعات کے دو یا تین دن کے بعد بنگلہ دیش کے وزیرداخلہ نے کہاکہ ’’ہم حملہ آوروں کے آبا و اجداد سے تک واقف ہیں۔ ان تمام کی پیدائش اور پرورش یہیں بنگلہ دیش میں ہوئی ہے اور ان تمام کا تعلق جمعیت المجاہدین سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ داعش کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے حالانکہ داعش نے اس خونریزی کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں داعش کے اس حملہ میں ملوث ہونے سے بنگلہ دیش حکومت اتنی سختی سے مخالفت کررہی ہے ؟ ایک ایسے وقت جبکہ بشمول ہندوستان دنیا کے کئی ممالک عالمی دہشت گردی کے خلاف صف آراء ہورہے ہیں بنگلہ دیش یہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہے کہ اس حملہ میں داعش (آئی ایس آئی ایس) کا کوئی رول ہے۔ کیا بنگلہ دیش کو یہ خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ داعش کی اس ملک میں موجودگی دہشت گردی سے متاثر برصغیر کے ممالک پاکستان اور ہندوستان کی صف میں شامل کرلیا جائے گا۔

بنگلہ دیش کی حکمت عملی چاہے کچھ ہو وہاں مذہبی انتہا پسندی روز اول ہی سے رہی ہے۔ اس ملک کے بانی شیخ مجیب الرحمن مرحوم کو ان کے تمام افراد خاندان کے ساتھ ہلاک کردیا گیا تھا۔ شیخ حسینہ اس لئے بچ گئی تھیں کہ وہ اس سانحہ کے وقت ڈھاکہ میں نہیں بلکہ ہندوستان میں تھیں۔ مذہبی جنون کے شکار انتہا پسندوں نے پاکستان سے سابقہ مشرقی پاکستان یا موجودہ بنگلہ دیش کی علیحدگی اور اس کے لئے 1970-71 ء میں ہوئی فیصلہ کن جنگ میں ہندوستان کی شاندار کامیابی نے پاکستان کے اس گروہ کے دل و دماغ میں مخالف ہندوستان جذبات پیدا کردیئے تھے جو آج بھی باقی ہیں۔ ایسے افراد کبھی پاکستانی طالبان کا روپ ڈھال لیتے ہیں تو کبھی القاعدہ کے ہمدردوں کی شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ پاکستان کا خفیہ شعبہ آئی ایس آئی میں بھی اسی قسم کے ذہن و فکر کے لوگ کام کرتے ہیں۔ اس تجزیہ سے یہ بات زیادہ قرین قیاس لگتی ہے کہ بنگلہ دیش کی جمعیت المجاہدین کو پاکستانی آئی ایس آئی کی تائید حاصل ہے۔ یہ تو ڈھاکہ کی ایک ہوٹل پر ہوئے دہشت گردانہ حملہ کی بات ہوئی لیکن ایسے حملہ اس قسم کے دل سوز واقعات دین اسلام کو رسوا کررہے ہیں۔ یہ غلط تصور دن بدن مضبوط ہورہا ہے کہ دہشت گردی اور اسلام کے درمیان خدانخواستہ کوئی تعلق ہے۔ داعش ہو یا اور کوئی انتہا پسند گروپ ہو دین اسلام کو یوں رسوا نہیں کرسکتا۔ دہشت گردی کو عالمی مسئلہ بناکر ان عناصر نے دین کو دنیا بھر میں بدنام کردیا ہے۔ بنگلہ دیش ہو کہ ترکی غرض ہر مسلم ملک میں آج غیر مستحکم امن ہے۔ ہر جگہ حکومت کی موجودگی برائے نام ہوکر رہ گئی اور ہر جگہ اسلام کے ٹھیکے دار ’’ماورائے دستور‘‘ Extra Constitutional طاقیتں مسلم ممالک کی حکومتوں سے نبرد آزما ہیں۔

TOPPOPULARRECENT