Wednesday , October 18 2017
Home / دنیا / برطانوی انسدادِ دہشت گردی پروگرام پر تشویش

برطانوی انسدادِ دہشت گردی پروگرام پر تشویش

مسلمانوں کو انتہا پسند رجحانات سے دور رکھنے کیلئے خفیہ معلومات کا حصول
لندن۔26 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی مسلم برادری میں انتہا پسندوں کا پتہ چلانے کے منصوبہ پر مبنی انسداد دہشت گردی پروگرام کی کامیابی کے بارے میں تشویش پیدا ہوگئی ہے کیونکہ انتہا پسندی کی رجحان کے بارے میں مسلم برداری سے دسویں حصہ سے بھی کم معلومات موصول ہورہی ہیں۔ ’’ٹائمس‘‘ کو دستیاب معلومات کے مطابق مسلم برادری کی طرف سے چھ ماہ کے دوران 300 سے بھی زیادہ خفیہ معلومات موصول ہوئی ہیں، جبکہ پولیس کے علاوہ اسکولس اور نیشنل ہیلتھ سرویس جیسے سرکاری اداروں نے کثیر تعداد میں خفیہ معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ 9/11   دہشت گرد حملوں کے بعد برطانوی حکومت نے دہشت گردی کی سرکوبی کی حکمت عملی کے ایک حصہ کے طور پر ’’پریونٹ‘‘ سے موسوم پروگرام کا آغاز کیا تھا تاکہ ایسے افراد کا پتہ چلایا جائے جن میں انتہا پسندی کے رجحان پیدا ہونے کا خدشہ رہتا ہے اور انہیں اس لعنت میں ملوث ہونے سے روکتے ہوئے اس پروگرام کا حصہ بنایا جائے۔ اس اسکیم کے تحت مسلم برادری کے ان ارکان کی حوصلہ افزائی کی جارہی تھی جو انتہا پسندی کی سرگرمیوں کے بارے میں خفیہ اطلاعات فراہم کرسکتے ہیں یا پھر دوران بات چیت کسی میں انتہا پسندی کے رجحان کا اندازہ ہونے پر ان کی اطلاعات پہونچائی جاتی ہیں۔ پولیس سربراہان کی قومی کونسل (این پی سی سی) کے اعداد کے مطابق رواں سال کے پہلے نصف کے دوران پروگرام کے تحت 3,288 معلومات موصول ہوئیں جن کے منجملہ صرف 280 یعنی 8.6% سے بھی کم تعداد میں ایسی معلومات مسلم برادری کے ارکان، افرادِ خاندان، دوستوں یا مذہبی رہنماؤں سے موصول ہوئی ہیں۔ پولیس سے ہٹ کر دیگر سرکاری اداروں جیسے اسکولس ، سماجی خدمات کے اداروں اور طبی شعبہ سے دیگر 2,180 معلومات موصول ہوئی ہیں۔
برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف چوکسی ’’سنگین‘‘ سطح تک بڑھا دی گئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ برطانیہ کو دہشت گردی کا سنگین خطرہ ہنوز لاحق ہے۔

TOPPOPULARRECENT