Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / برطانوی عام انتخابات میں رائے دہی کا آغاز

برطانوی عام انتخابات میں رائے دہی کا آغاز

وزیر اعظم تھریسامے کو اپوزیشن قائد جیریمی کاربین پر سبقت ، نتائج حیرت انگیز ہونے کا امکان

لندن ۔ 8 ۔ جون : ( سیاست ڈاٹ کام): برطانیہ میں عام انتخابات کے لیے رائے دہی کا آغاز ہوگیا ۔ جہاں توقع ہے کہ قانونی طور پر 46 ملین اہل رائے دہندے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کریں گے ۔ اس طرح موجودہ وزیراعظم تھریسامے اور اپوزیشن قائد جیریمی کاربین کے درمیان اگر کانٹے کا مقابلہ نہ بھی ہوا تو بھی عوام کو زیادہ تر ان ہی دو قائدین پر انحصار کرنا پڑے گا ۔ برطانیہ  میں عام انتخابات ایک ایسے وقت منعقد کئے گئے ہیں جب ملک میں دوبار دہشت گرد حملے ہوئے ۔ تاہم سیاسی حلقوں میں یہ بات گشت کررہی ہے کہ انتخابات میں تھریسامے کی جیت کے امکانات زیادہ ہیں ۔ انہوں نے صرف دو ماہ قبل ملک میں اسناپ انتخابات منعقد کرنے کی بات کہی تھی ۔ رائے دہی کا اختتام برطانوی وقت کے مطابق رات دس بجے ہوا ( ہندوستانی معیاری وقت رات ڈھائی بجے ) اور توقع ہے کہ نتائج کا اعلان بھی جلد ہی کردیا جائے گا ۔ 60 سالہ تھریسامے نے انتخابات کے انعقاد مقررہ وقت سے تین سال قبل کرنے کی بات اس لیے کہی کیوں کہ یہ سمجھا جارہا ہے کہ برطانیہ کے یوروپی یونین سے اخراج کا موضوع یوروپی یونین کے ساتھ سخت نوعیت کی بات چیت کی صورت میں ظاہر ہوگا ۔ 46 ملین ووٹرس میں 1.5 ملین ووٹرس ہندوستانی نژاد برطانوی ووٹرس ہیں ۔ برطانیہ میں اندرون تین سال یہ اپنی نوعیت کا چوتھا اہم الیکشن ہے ۔

2014 میں اسکائش انڈپنڈنس ریفرنڈم 2015 میں عام انتخابات اور 2016 میں بریگزیٹ ووٹ ڈالے گئے تھے  ۔ اب صرف یہ دیکھنا ہے کہ کنزرویٹو پارٹی سے تعلق رکھنے والی تھریسامے کی مقبولیت کا کیا عالم ہے کیوں کہ انہیں جیریمی کاربین کی قیادت والی لیبر پارٹی سے اگر سخت مقابلہ درپیش نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ مقابلہ کو تن آسانی سے لیا جائے گا ۔ 68 سالہ کاربین اس وقت اپنی تمام تر توجہ صحت اور تعلیم کے شعبوں پر مرکوز کیے ہوئے ہیں ۔ وہ سابق امریکی صدر اوباما کے اوباما ہیلتھ کیر پروگرام کی زبردست حمایت کرتے تھے اور اسی خطوط پر وہ برطانیہ میں بھی عوام کو بہترین صحت سہولیات فراہم کرنے کے خواہاں ہیں ۔ انہوں نے ایک انتخابی ریالی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اب مقابلہ صرف دو امیدواروں کے درمیان ہے ایک امیدوار کا نام ہے ڈر اور دوسرے امیدوار کا نام ہے امید ۔ دوسری طرف ایگزیٹ پول کے ذریعہ بھی رائے دہندوں کی جو رائے حاصل کی گئی ہے اس کے مطابق کنزرویٹو پارٹی کو لیبر پارٹی پر 10 پوائنٹ کی سبقت حاصل ہوسکتی ہے ۔ 44 فیصد ووٹرس تھریسامے کی تائید کرتے ہیں جب کہ 34 فیصد ووٹرس لیبر پارٹی کے مداح ہیں ۔ لبرل ڈیموکریٹس کو 9 فیصد اور یو کے آئی پی کو 5 فیصد کے علاوہ اسکائش نیشنل پارٹی ( ایس این پی ) 4 فیصد اور گرین پارٹی کو صرف 2 فیصد ووٹس ملنے کے امکانات ہیں ۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ عام انتخابات کے نتائج بھی بریگزیٹ ریفرنڈم کی طرح حیرت انگیز ہوں گے ۔

TOPPOPULARRECENT