Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / برطانوی پارلیمنٹ کا حملہ آور جہاد میں مصروف تھا

برطانوی پارلیمنٹ کا حملہ آور جہاد میں مصروف تھا

مشرق وسطیٰ میں مغربی ملکوں کی کارروائیوں پر انتقام کا جذبہ
لندن ۔ 28 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی پارلیمنٹ پر گذشتہ ماہ دہشت گرد حملے کے دوران سیکوریٹی فورسیس کی فائرنگ میں مہلوک برطانوی مسلم، مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مغربی ممالک کی کارروائیوں کا انتقام لینے اور ملک میں جہاد چھیڑ رہا تھا۔ خالد مسعود 22 مارچ کو برطانوی پارلیمنٹ کے باب الداخلہ پر ایک پولیس افسر کو چاقو گھونپ کر ہلاک کردیا تھا اور ویسٹ منسٹر بریج پر پیدل راہروہوں پر اپنی تیز رفتار گاڑی چڑھا دیا تھا۔ برطانوی سیکوریٹی سرویسیس نے اس کی طرف سے بھیجے گئے آخری پیغام کی تفصیلات کا پتہ چلا لیا ہے۔ واٹس اپ پر اس کے آخری پیغام سے انکشاف ہوا ہے کہ یہ اس حملہ کے پس پردہ 52 سالہ نو مسلم خال کے محرکات ہی کارفرما تھے جس کے نتیجہ میں چار بے قصور افراد کی قیمتی جانیں ہوگئی تھیں۔ خالد کا آخری واٹس اپ پیغام وصول کرنے والے شخص سے پولیس نے سخت پوچھ گچھ کی۔ تاہم پولیس اور ایم آئی 5 اس نتیجہ پر پہنچنے کے بعد کہ وہ اس سازش کا حصہ نہیں تھا اور اس کو حملے کی قبل از وقت اطلاع نہیں تھی اس کو رہا کردیا گیا۔ اس حملے کے بعد گرفتار شدہ دیگر (11) افراد کو بھی رہا کردیا گیا اور تحقیقات سے آزاد کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT