Monday , August 21 2017
Home / دنیا / برطانیہ : مسلم خواتین کوبُرکنی میں مقابلہ کی اجازت

برطانیہ : مسلم خواتین کوبُرکنی میں مقابلہ کی اجازت

مسلم خواتین کے اسپورٹ فاؤنڈیشن کی درخواست تیراکی اسوسی ایشن میں منظور
لندن ۔ 5مارچ ( سیاست ڈاٹ کام) مسلم خاتون تیراکوں نے ڈھیلے ڈھالے تیراکی کے مقابلہ میں شرکت کرنے کا حق حاصل کرلیا ہے ۔ وہ اب برکنی پہن کر تیراکی کے مقابلوں میں جو برطانیہ میں منعقد ہوں گے شرکت کرسکتی ہیں ۔ برکنی تیراکی کا ایسا لباس ہے جس میں پورا جسم پوشیدہ رہتا ہے ۔ مسلم خواتین کے اسپورٹ فاؤنڈیشن نے تیراکی اسوسی ایشن کو اس کے شرائط میں نرمی پیدا کرنے کی خواہش کرتے ہوئے ایک درخواست پیش کی تھی ۔ مسلم خواتین کو پورے جسم کو پوشیدہ رکھنے والے ڈھیلے ڈھالے لباس پہننے کی ہدایت دی گئی ہے لیکن اسوسی ایشن کے قواعد اس کی اجازت نہیں دیتے ۔ چنانچہ فاؤنڈیشن نے قواعد میں مسلم خواتین کیلئے نرمی پیدا کرنے کی خواہش کرتے ہوئے درخواست دی تھی ۔ اب تک تیراکی کے مقابلوں میں ایسا لباس پہن کر شرکت کرنے پر امتناع عائد تھا ۔ فاؤنڈیشن کا ادعا ہے کہ یہ لباس تیراکی کی رفتار میں تیزی پیدا کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں ۔ روزنامہ ’’ دی ٹیلیگراف ‘‘ کی اطلاع کے بموجب نئی ہدایات جاری کی گئی ہیں جو صرف برطانیہ میں مقابلوں پر نافذ العمل ہوں گی ۔ برطانیہ کے باہر مقابلوں میں برکنی پہن کر شرکت کرنے کیلئے ایسے افراد کو متعلقہ عہدیداروں سے اجازت حاصل کرنی ہوگی ۔رہنمایانہ خطوط میں کہا گیا ہے کہ ایسے تیراک جو برکنی پہن کر مقابلہ میں حصہ لینا چاہتے ہوں انہیں تیراکی سے پہلے مقابلہ کے ریفری کے سامنے پیش ہوکر معائنہ کروانا ہوگا ۔ انتظامیہ ریفری کے فیصلہ کو چیلنج نہیں کرے گا اور نہ کھلاڑیوں کے برکنی پہننے پر اعتراض کرے گا ۔ اسوسی ایشن کے صدر نشین کریس بوسٹوک نے کہا کہ یہ اقدام ’’ایک مثبت پیشرفت ‘‘ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ہر ایک کو اپنی قابلیت منوانے کا موقع دیا جائے ۔

TOPPOPULARRECENT