Wednesday , June 28 2017
Home / Top Stories / برطانیہ میں امریکی گلوکارہ کے پروگرام میں خودکش دھماکہ، 22 ہلاک

برطانیہ میں امریکی گلوکارہ کے پروگرام میں خودکش دھماکہ، 22 ہلاک

مانچسٹر جشن افراتفری میں تبدیل، پرجوش مداح جان بچانے کیلئے بھاگنے لگے، حملہ آور کی شناخت سے گریز ، بزدلانہ کارروائی تھریسامے کا ردعمل

لندن ۔ 23 مئی (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی شہر مانچسٹر میں جواں سال امریکی پاپ اسٹار ایرینا گرینڈے ایک پرہجوم موسیقی پروگرام میں خودکش بمبار دھماکہ کے نتیجہ میں کم سے کم 22 افراد ہلاکاور دیگر 59 زخمی ہوگئے جن میں چند کی حالت تشویشناک ہے۔ برطانیہ میں 2005ء کے 7/7 دہشت گرد حملے کے بعد یہ سب سے مہلک ترین واقعہ ہے جو اس وقت پیش آیا جب موسیقی کے ہزاروں شائقین ایرینا گرینڈ کے اس نغمہ ریز پروگرام سے محظوظ ہورہے تھے۔ ان میں بچوں اور نوعمر لڑکے لڑکیوں کی کثیر تعداد شامل تھی جو اس امریکی پاپ اسٹار کے پرجوش مداح ہیں۔ دھماکہ کے ساتھ ہی رقص، نغمہ، موسیقی و سرور کا یہ جشن خوف و دہشت کے ساتھ افراتفری سے دوچار ہوگیا اور یوروپ کا سب سے بڑا انڈور ایرینا سمجھا جانے والا مانچسٹر ایرینا ہراسانی و سنسنی کی زد میں آ گیا  جہاں ہزاروں خوفزدہ افراد کو اپنی جان بچان کیلئے چوطرف دوڑتا  دیکھا گیا۔ امریکی گلوکارہ ایرینا گرینڈ محفوظ رہیں لیکن زخمی مداحوں کو خون میں لت پت حالت میں کرب و اضطراب کے ساتھ ہنگامی خدمات فراہم کرنے والی گاڑیوں کو مدد کیلئے طلب کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ گریٹر مانچسٹر کے پولیس سربراہ نے توثیق کی کہ اس دہشت گرد حملے میں 22 افراد ہلاک اور 59 زخمی ہوئے ہیں۔ اس حملے کی ذمہ داری اسلامی جہادی تنظیم آئی ایس آئی (داعش) نے قبول کی ہے۔

مانچسٹر پولیس سربراہ ایان ہوپکنس نے کہا کہ اس واقعہ کو دہشت گرد حملہ تصور کرتے ہوئے اس کی تیز رفتار تحقیقات کی جارہی ہیں۔ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہیکہ ایک شخص عصری افزودہ دھماکو مواد کے ساتھ مانچسٹر ایرینا میں داخل ہوا اور ہجوم کے درمیان دھماکہ کردیا جس میں وہ خود بھی ہلاک ہوگیا لیکن پولیس نے حملہ آور کی فوری شناحت سے گریز کیا۔ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا کہ مانچسٹر کے عوام ایک بزدلانہ دہشت گرد حملے کے شکار بنے ہیں۔ دھماکہ کے بعد (کیبنٹ آفس بریفنگ پروگرام) کوبرا اجلاس کی صدارت کے بعد تھریسامے نے کہا کہ ایک واحد دہشت گرد نے مانچسٹر ہال سے باہر نکلنے کے مقام پر یہ دھماکہ ایک ایسے وقت کیا جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ جانی نقصان پہنچانا تھا۔ تھریسامے نے کہا کہ تمام دہشت گرد حملے بھیانک اور ہولناک ہوئے ہیں لیکن یہ (مانچسٹر) ایک انتہائی بزدلانہ حملہ تھا۔ انہوں نے کہاکہ کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ وزیراعظم نے کہاکہ شمالی انگلینڈ بالخصوص مانچسٹر میں یہ اب تک کا بدترین دہشت گرد حملہ تھا جس کی ذمہ داری کو انصاف کے کٹھہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ تھریسامے نے کہا کہ ’’ہماری پولیس اس حملہ کی شناخت سے باخبر ہے لیکن اس مرحلہ پر اس کا انکشاف کرنا نہیں چاہتی۔ اس قسم کے بزدلانہ حملوں کے باوجود ہمارا طرز زندگی بدستور برقرار رہے گا‘‘۔ عینی شاہدین نے کہا کہ پروگرام کے اختتام اور گلوکارہ کی واپسی کے بعد یہ دھماکہ ہوا تھا۔ مانچسٹر ایک اہم صنعتی ٹاؤن ہے جہاں جنوبی ایشیائی ممالک کے شہریوں کی کثیر آبادی ہے۔ یہ دھماکہ ایک ایسے وقت ہوا جب اس ملک میں وسط مدتی انتخابات کیلئے جاری مہم میں یوروپی یونین سے برطانیہ کی علحدگی ایک اہم موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ تاہم وزیراعظم تھریسامے اور اپوزیشن لیبر پارٹی کے لیڈر جریمی کورین دونوں ہی نے اس دھماکہ کے پیش نظر انتخابی مہم کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT